یہ سماج بھی تو بیٹرس کی کہانی ہے

یہ سماج بھی تو بیٹرس کی کہانی ہے
یہ سماج بھی تو بیٹرس کی کہانی ہے

  



ایک مشہور امریکی مصنف نے "رپاچینی ڈاٹر" ایک افسانوی لیکن سبق آموز تحریر پیش کی ہے ۔ایک سائنسدان رپاچینی نے اپنے گھر میں باغ بنایا، اس میں اس سائنسدان نے زہریلے پودے اْگائے، اور اپنی ایک چھوٹی سی بیٹی بیٹرس کی پرورش اسی باغ میں کی، وہ ایک بہت بڑا تجربہ کرنا چاہتا تھا اور سائنس کے میدان میں انقلاب لانا اس کا مقصد تھا جس کے لئے اس نے اپنی بیٹی کا مستقبل داؤ پر لگادیا تھا، وقت گزرتا گیا اور بیٹرس لڑکپن اور پھر جوانی میں داخل ہوگئی۔ بیٹرس نے اپنی یہ تمام تر عمر اسی زہریلے باغ میں گزاری تھی، اس پر زہریلے پودوں اور بنائے گئے زہریلے ماحول کا بیحد اثر ہوا اور پھر بیٹرس نے جوان ہو کر ایک زہریلی لڑکی کا روپ دھار لیا، وہ دیکھنے میں تو ایک عام انسان جیسی تھی لیکن اس کے جس میں خون کے بجائے زہر دوڑ رہا تھا اور یہ بات کسی کو بھی معلوم نہ تھا سوائے اس کے والد رپاچینی کے، اس کے اندر کا زہر اتنا طاقتور تھا کہ وہ کسی بھی جاندار کی جان لے سکتی تھی۔

لیکن پھر کہانی میں ایک نیا موڑ آگیا۔ ان کے گھر کے ساتھ ایک فلیٹ میں ایک لڑکا جیوانی رہائش پذیر ہوگیا، ایک دن اس نے اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے جھانکا جہاں سے رپاچینی کے باغ کا پورا منظر واضح طور پر دیکھا جاسکتا تھا، جیوانی نے دیکھا کہ ایک خوبصورت جواں لڑکی باغ میں گھوم رہی تھی، اور پھر اس نے معمول بنالیا وہ ہرروز اس کھڑکی سے اس خوبرو لڑکی کو دیکھتا، بیٹرس کو بھی اندازہ ہوگیا کہ یہ لڑکا روزانہ اسے یہاں سے دیکھتا ہے، اور پھروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں میں اشاروں سے بات چیت کا آغاز ہوا ، دونوں نے ایک دوسرے کو اپنے بارے میں بتایا اور پھر بات بڑھتے بڑھتے محبت تک جاپہنچی۔ بیٹرس نے جب اپنے بارے میں جیوانی کو بتایا کہ وہ ایک غیرمعمولی لڑکی ہے، زہریلے ماحول میں پرورش کے باعث وہ ایک زہریلی لڑکی بن چکی ہے اور عام انسانوں کی طرح زندگی نہیں گزارسکتی، اس وقت جیوانی نے فیصلہ کرلیا کہ وہ بیٹرس کا علاج کرائے گا اور اسے ٹھیک کرکے اس سے شادی کرے گا۔

جیوانی نے ایک ڈاکٹرسے اس کے زہر کے ادراک کیلئے دوا لی جبکہ بیٹرس کے والد رپاچینی کو بھی اس تمام تر صورتحال کا پتہ چل گیا۔ جیوانی دوا لے کر بیٹرس کے پاس پہنچا اور اسے زہر کے علاج کیلئے دوا پینے کا بولا جبکہ دوسری جانب اس کا والد دوڑتا ہوا آیا کہ اسے ایسا کرنے سے روک سکے۔ اسی کلائیمکس میں بیٹرس نے دوا پی لی اور پھر نتیجہ کیا نکلا، بیٹرس کی موت۔۔۔

اس ساری کہانی کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس کہانی کو مخصوص زاویئے سے دیکھا جائے تو یہ پاکستان کے موجودہ مسائل اور معاشرتی پسماندگی کی عکاسی کرتی ہے،یعنی کرپٹ مافیا نے پاکستان کے نظام کی ایسے ماحول میں پرورش کیا ہے کہ پورا نظام اسی بیٹرس کی طرح زہریلا یعنی کرپٹ ہوچکا ہے، اس کی مثال آپ اس سے لے لیں، کہ آپ کسی بھی سرکاری ادارے سے کام کی صورت میں یعنی، عوام کو پولیس، واپڈا، یا کسی بھی محکمے سے کام ہو تو وہاں کسی ملازم کی مٹھی گرم کئے بغیر آپ اپنا جائز کام نہیں نکلواسکتے، اور اگر آپ کسی دوست سے مشورہ بھی لیں گے تو وہ یہی بولے گا کہ ہاں وہاں جانا دو سو پانچ سو اس کی جیب میں رکھنا پھر آپ کا کام ہوجائیگا، اگر آپ اسے کہیں گے کہ آپ یہ غلط کام نہیں کریں گے تو وہ آپ کو پاگل تصوّر کرے گا، ادارے کے ملازم جو کام نہ کرنے کی تنخواہ اور کام کرنے کے پیسے لیتے ہیں آپ کو ناکوں چنے چبانے پر مجبور کردیں گے، آپ تھانے میں پیسے نہ دیں اور کام نہ ہو تو لوگ مذاق بنالیتے ہیں کہ پاگل تمہارا کام کیسے ہوگا؟ بلکہ یہ تو مزید بگڑجائیگا بھائی پولیس کو پیسے لگانے تھے۔ یعنی ہم نے جنم ہی ایسے کرپٹ معاشرے میں لیا ہے جس میں کرپشن ہمارے لئے جائز بن چکی ہے، واپڈا کا ملازم میٹر چیک کرنے آئے تو ہزار پانچ سو دینا اس کی محنت کا صلہ بن چکا ہے، لہذا ایسے معاشرے میں اگر کوئی اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کرے گا تواس معاشرے کا بیٹرس والا حال ہوگا۔ یعنی اس کی بھی موت واقع ہوجائیگی۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ