زمینی حقائق کی بناء پر مدارس کو بند کرنا بورڈ کیلئے ممکن نہیں: مولانا انوار الحق حقانی 

زمینی حقائق کی بناء پر مدارس کو بند کرنا بورڈ کیلئے ممکن نہیں: مولانا انوار ...

  

پبی (نما ئندہ پاکستان)جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم اور وفاق المدارس کے مرکزی سینیئر نائب صدر مولانا انوار الحق حقانی نے کراچی میں انڈیپنڈنٹ اخبار کو بیان دیتے ہوئے کہاکہ زمینی حقائق کی وجہ سے مدارس کو بند کرنا ان کے بورڈ کے لیے ممکن نہیں۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمارے طلبہ کے امتحانات میں تین مہینے کا عرصہ رہ گیا ہے۔ پہلے ہی ان کا کورونا کے حالات کی وجہ سے لگ بھگ چار مہینے خراب ہو چکے ہیں، اب مزید تاخیر سے بچوں کا پورا کورس خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہمارے نظام اور عام نظام تعلیم میں بہت فرق ہے۔مولانا انوارالحق نے کہا کہ ہمارے مدرسوں میں نہ صرف پاکستان کے دور دراز بلکہ پڑوسی ممالک کے دورافتادہ علاقوں سے طالب علم پڑھنے آتے ہیں،ہمارے طالب علم کیمروں سے نہیں پڑھ سکتے۔ یہی وجہ سندھ کے دینی بورڈز نے حکومت کے گوش گزار کی اور انہیں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت مل بھی گئی ہے۔مولانا انوار الحق حقانی نے کہاکہ صرف اکوڑہ خٹک کے مدرسے میں ساڑھے تین ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں جب کے پورے پاکستان میں وفاق المدارس کے زیر سایہ 21 ہزار مدارس میں کم و بیش 27لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک ان کے کسی بھی ایک مدرسے سے کسی طالب علم کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی خبر نہیں آئی۔انہوں نے کہا ان کے مدرسے میں علاج معالجے کے لیے اپنا ایک سیٹ اپ ہے جس میں ڈاکٹر کام کرتے ہیں۔مدرسے کے طلبہ بیمار ہونے کی صورت میں اس ڈسپنسری سے علاج کرواتے ہیں۔ اگر کسی بھی طالب علم میں کورونا کی علامات ظاہر ہوتیں تو ہم یقینا ان کو صوبے کے کسی ہسپتال کو ریفر کروا دیتے لیکن ابھی تک ایک بھی ایسا کیس سامنے نہیں آیا۔انہوں نے کہا طلبہ ایک باقاعدہ طریقہ کار سے دن میں پانچ مرتبہ ناک منہ میں پانی چڑھا کر وضو کرتے ہیں، یہ عمل ان کا کورونا وائرس سے بچاؤ کرواتا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -