حکومت کا درست سمت میں ایک اور قدم

حکومت کا درست سمت میں ایک اور قدم
حکومت کا درست سمت میں ایک اور قدم

  

بجلی اور گیس چوروں کے خلاف کریک ڈاﺅن کا آغاز کرکے وفاقی اور پنجاب حکومت نے درست سمت میں قدم اٹھایا ہے، کیونکہ بجلی و گیس کی وسیع پیمانے پر چوری توانائی کے بدترین بحران اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے "شیطانی چکر"کا نام دئیے گئے گردشی قرضوں کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ان مفاد پرست عناصر کے خلاف کریک ڈاﺅن کا اعلان ہوتے ہی مجھے بہت زیادہ خوشی ہوئی، کیونکہ یہ میرا دیرینہ مطالبہ تھا اور مجھے جب بھی کسی فورم پر موقع ملا، مَیں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے بجلی و گیس کی چوری روکی جائے، کیونکہ ”مالِ مفت دل بے رحم“ کے مصداق چوری کی جانے والی بجلی اور گیس چونکہ چوبیس گھنٹے بے دریغ استعمال کی جاتی ہے، جس کا خمیازہ ساری قوم کو بجلی و گیس کی تباہ کن لوڈشیڈنگ اور قومی خزانے کو محاصل کی مد میں بھاری نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے ۔”دیر آید درست آید“ کے مصداق بالآخر میری خواہش پوری ہوئی اور ان مفاد پرست عناصر کے خلاف کریک ڈاﺅن شروع کردیا گیا ہے۔

یہ صرف کاغذی کاروائی نہیں، اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف خود فیصل آباد میں ایک فیکٹری جا پہنچے، جہاں وسیع پیمانے پر گیس چوری کی جارہی تھی، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب بھی اس کریک ڈاﺅن کی خود نگرانی کررہے ہیں۔ صرف پنجا ب میں اب تک بجلی اور گیس چوروں کے خلاف 340ایف آئی آر درج کی جاچکی ہیں، 227کو گرفتار کیا گیا ہے، 86میگاواٹ بجلی، جبکہ 300ملین مکعب فٹ گیس کی چوری روکی جاچکی ہے، جو پہلے بجلی چوروں کی تجوریاں بھرنے کے لئے استعمال ہورہی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کریک ڈاﺅن پورے طریقے سے کامیاب ہوجاتا ہے ،اس کا دائرہ کار سارے ملک میں پھیل جاتا ہے اور مینجمنٹ بہتر بنائی جاتی ہے تو آئندہ چند ماہ کے دوران ہی پانچ ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوسکتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بجلی کا بحران سرے سے ختم ہوجائے گا۔ یہ بات بھی طے ہے کہ بجلی اور گیس صرف پنجاب میں چوری نہیں ہورہی، بلکہ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں ،لہٰذا دیگر صوبوں کو بھی صوبہ پنجاب کی تقلید کرتے ہوئے اسی قسم کا کریک ڈاﺅن فوری طور پر شروع کرنا چاہیے،کیونکہ معاملہ انفرادی نہیں،بلکہ قومی مفادات کا ہے۔

 ماضی قریب میں سیاسی اثر و رسوخ کے حامل افراد کے نام بھی بجلی و گیس چوروں کی فہرست میں آچکے ، لیکن کوئی سخت کارروائی اور مثالی سزا دیکھنے میں نہیں آئی۔ اگر حکومت نے خلوص نیت سے بجلی و گیس چوری کے خلاف کریک ڈاﺅن شروع کیا ہے تو پھر سیاسی تعلقات یا اثر و رسوخ کو خاطر میں نہ لائے، بلکہ بجلی یا گیس چوری کرنے والا جتنا زیادہ بڑا اور بااثر آدمی ہو، اُسے اُتنی ہی بڑی سزا دی جائے تاکہ دوسروں کے لئے باعث عبرت ہو۔ ایک تاثر یہ بھی دیا جارہا ہے کہ صرف صنعتکار ہی بجلی اور گیس چوری کررہے ہیں ،یہ تاثر بالکل درست نہیں ہے ، اس چوری میں تمام شعبہ ہائے زندگی ملوث ہیں۔ مَیں ٹھوس حقائق کی بنیاد پر یہ لکھ رہا ہوں کہ ہر محلے کے ایک دو گھر میٹر ریڈر کو مہینے کے دو ڈھائی ہزار روپے دے کر تمام قواعد و ضوابط سے مبرّا ہوکر ایئرکنڈیشنر سمیت تمام برقی آلات چوبیس گھنٹے استعمال کرتے ہیں جس کا معمولی سا اثر بھی بجلی کے بل پر نہیں پڑتا، کیونکہ میٹر ریڈر بادشاہ ہے اور جو اُس کا دل چاہے گا وہ ریڈنگ ڈال دے گا۔ اس کے دو مطلب نکلتے ہیں۔ ایک یہ کہ گھریلو صارفین بھی بجلی چوری میں ملوث ہیں اور دوسرا یہ کہ یہ چوری متعلقہ اہلکاروں کے مکمل تعاون سے ہورہی ہے، لہٰذا حکومت کو واپڈا اور لیسکو سمیت تمام متعلقہ اداروں میں کرپشن کے خاتمے کے لئے انتہائی سخت اقدامات اٹھانے چاہئیں، کیونکہ اس ملک کا بیڑہ غرق کرپشن کے ناسور نے ہی کیا ہے۔ جہاں کرپٹ افراد کو سخت سزائیں دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، وہاں ایماندار اہلکاروں کو خصوصی انعامات دئیے جائیں تاکہ ایمانداری کا کلچر فروغ پائے۔ بجلی چوری میں اگر کوئی تاجر یا صنعتکار ملوث ہے تو اُس کا محاسبہ کیا جائے، خواہ جتنا چاہے سیاسی اثر و رسوخ رکھتا ہو۔ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو ہدایت کی جائے کہ وہ بجلی و گیس چوروں کی ممبرشپ منسوخ کردیں تاکہ اپنے ذاتی فائدے کی خاطر ملک کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے ان عناصر کی حوصلہ شکنی ہو۔

پاکستان میں توانائی کے بحران کی ایک بڑی وجہ فرسودہ نظام بھی ہے، مثال کے طور پر تمام مغربی ممالک میں بجلی اور گیس کے استعمال کے لئے پری پیڈ میٹرز استعمال ہورہے ہیں ،یعنی صارف نے جتنی بجلی اور گیس استعمال کرنی ہے، وہ پیسے ادا کرکے کرلے ، اگرچہ یہ تجویز پاکستان میں بھی گردش کرتی رہی ہے، لیکن شاید بیورو کریسی اور اُن کرپٹ عناصر کی نذر ہوگئی، جن کے پیٹ کا جہنم صرف قبر کی مٹی ہی بھرے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ ابتدائی طور پر کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں پری پیڈ میٹر سسٹم متعارف کرائے ، اس کے بعد اس کا دائرہ کار رفتہ رفتہ سارے ملک میں پھیلا دیا جائے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے حال ہی میں چین کا دورہ کیا ہے جس سے دونوں ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں ۔ پری پیڈ میٹرسسٹم کی تنصیب میں بھی چین پاکستان کی بہت مدد کرسکتا ہے، لہٰذا اُس سے تعاون طلب کرنے میں تاخیر نہ کی جائے۔ مجموعی طور پر کاروباری برادری وفاقی و صوبائی حکومت کی جانب سے بجلی و گیس چوروں کے خلاف کریک ڈاﺅن کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید کرتی ہے کہ بلاامتیاز اور سیاسی وابستگیوں کو مدّنظر رکھے بغیر تمام گھناﺅنے کا انتہائی سختی سے محاسبہ کیا جائے گا۔   ٭

مزید :

کالم -