”عید الفطر مبارک“

”عید الفطر مبارک“
”عید الفطر مبارک“

  

تمام اہل ایمان کو عید الفطر مبارک ہو۔ رحمتوں، برکتوں، عظمتوں اور مغفرتوں کا مہینہ گزر گیا۔ رمضان کی پہلی رات جب آئی، اللہ کے منادی نے پکاردی کہ اے خیر کے طالب آگے بڑ ھ،اے شر کے شائق رک جا۔ آپ ؐ نے فرمایاکہ ”تمہارے پاس رمضان آیا ہے، مبارک مہینہ“۔ رسول ؐ نے فرمایا تمہارے پاس رمضان بابرکت مہینہ آیاہے۔ اللہ تعالیٰ اس مہینے میں تمہیں اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لیتاہے۔وہ اپنی ر حمت نازل کرتا ہے اور گناہوں کو مٹاتا ہے۔ دُعاؤں کو قبول کرتاہے۔ وہ تمہار ی رغبت، چاہت اور جو ش و خروش کو دیکھ کر فرشتوں پر فخر کرتاہے، اِس لئے تم اللہ کو اپنی طرف سے بھلائی دکھاؤ، جو اس مہینہ میں اللہ کی رحمت سے محروم ہوگیا، وہ انتہائی بد بخت ہے۔ (طبرانی، مسند احمد)

روزہ جس نے ایمان و احتساب سے رکھا وہی کامیاب رہا۔ اسلام بندہ مومن کو اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لئے تیار کرتاہے۔ وہ ان مقاصد سے کہیں اعلیٰ و برتر اور عظیم الشان ہیں، جن کے لئے ایک فوجی کمانڈر کو تیار کیا جاتاہے۔ کمانڈر کے پیش نظر اپنی قوم اور فوج کی فتح و سربلندی ہوتی ہے، جبکہ بندہ مومن روزہ، تلاوت قرآن، راتوں کے قیام کی عبادات سے گزر کر اپنے مالک، اپنے آقا، اپنے رب کی کبریائی کے لئے جدوجہد کرتاہے اس کی نظر اس فانی دنیا سے آگے کی منزلوں پر ہے وہ تر و خشک پہاڑوں، تپتے صحراؤں اور گہرے سمندروں میں محبوب کی رضا اور خوشنودی کے مقام، جنت کی خوشبو کو محسوس کرتاہے اسی لئے روزہ تقرب الٰہی کے حصول کا ذریعہ بن جاتاہے۔ بندہ مومن اپنے رب کی کبریائی کو تسلیم کر لیتاہے۔ کتاب ہدایت اور بے شمار نعمتیں ملنے پر اپنے رب کے حضور تشکر کرتاہے۔

جو اہل ِ ایمان عید کا دن پاتے ہیں، وہ مبارک اور خوشی کے حق دار ہوتے ہیں۔ ان کا ایمان افرو ز حال خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیے۔ آپ ؐ نے فرمایا ”جب عید کی صبح نمودار ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو ہر شہر او ر بستی کی طرف روانہ کردیتے ہیں۔ فرشتے زمین پر اُتر کر ہر گلی اور ہر راستے کے موڑ پر کھڑ ے ہو جاتے ہیں اور پکارتے ہیں، ان کی پکار ساری مخلو ق سنتی ہے، سوائے انسانوں اورجنوں کے، وہ پکار تے ہیں ”اے محمد کی امت کے لوگو! نکلو اپنے گھروں سے اور چلو اپنے پروردگار کی طرف، تمہارا رب بہت ہی زیاد ہ دینے والا اور بڑے سے بڑے قصور معاف کرنے والاہے“۔ پھر جب اہل ایمان عید کی نماز کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے مخاطب ہو کر سوال کرتے ہیں ”اس مزدور کا صلہ کیاہے جس نے اپنے رب کا کام پورا کیا“۔

فرشتے کہتے ہیں کہ اے ہمارے معبود، اس مزدور کا صلہ یہ ہے کہ اسے بھر پور مزدوری دی جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ”تم سب گواہ ہو جاؤ کہ میں نے اپنے بندوں کو جو رمضان بھر روزے رکھتے رہے اور راتوں کو قیام کرتے رہے،اس کے صلے میں اپنی خوشنودی سے نواز دیااور ان کی مغفرت فرما دی“۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کہتے ہیں ”میرے پیارے بندو مانگو جو کچھ مانگتے ہو۔ مجھے میری عزت کی قسم، مجھے میرے جلا ل کی قسم، آ ج عید کے اس اجتماع میں تم اپنی آخرت کے لئے مجھ سے مانگو گے اس میں بھی تمہاری بھلائی کو پیش نظر رکھوں گا۔ جب تک تم میری طرف رجوع کرتے رہو گے میں تمہاری خطاؤں پر پردہ ڈالتا رہوں گا۔مجھے میری عزت اور جلال کی قسم میں تمہیں مجرموں کے ساتھ ہر گز ذلیل و رسوا نہ کروں گا، جاؤ تم اپنے گھروں کو بخشے بخشائے لوٹ جاؤ۔ تم مجھے راضی کرنے میں لگے رہے ہو میں تم سے راضی ہوگیا“۔ فرشتے اس بشارت پر خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں اور اللہ کی اس بخشش پر خوشیاں مناتے ہیں جو وہ اپنے بندوں پر فرماتا ہے۔

یوم عید مبارکباد کا دن ہے اور تعزیت کا دن بھی۔ مبارکباد اس کے لئے جس سے رمضان خوش خوش رخصت ہوتاہے۔ افسوس اور تعزیت اس کے لئے جس سے رمضان رخصت ہوگیا اور وہ اس کے ذریعے بخشش سے محروم رہا۔ رسول ؐ نے ایک روز اپنے منبر کی سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے فرمایا ”آمین“۔ صحابہ کرام ؓ کے استفسار پر رسول ؐ نے بتایا کہ جبرائیل ؑ ارشاد فرمارہے تھے ”اللہ اس شخص کو ہلاک کردے، جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور پھر بھی اپنی مغفرت کا سامان نہیں کیا“۔ جبرائیل ؑ کی اس تنبیہ پر آپؐ نے آمین کہا۔ رسو ل ؐ نے ان خوش نصیبوں کو خبر دی ”رمضان کی آخری رات میں اُمت کی مغفرت اور بخشش کا فیصلہ ہوجاتاہے۔ صحابہ کرام ؓ نے دریافت کیا یا رسول اللہ! کیا وہ شب قدر ہوتی ہے۔

رسول اللہ ؐ نے فرمایا: لیلۃ القدر تو نہیں ہوتی، لیکن بات یہ ہے کہ عمل کرنے والا جب اپنا عمل پورا کردے تو اس کو پوری اجرت مل جاتی ہے“۔ (مسند احمد) یہی خوش نصیب اہل ِ ایمان یہ خوشخبری پا کر خوشی خوشی اپنے رب کے حضور جھک جاتے ہیں۔ عید کا دوگانہ ادا کرتے ہیں اور ان کا پورا جسم اللہ کے شکر کی تکبیر بلند کرتاہے۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر، لاالہ الا اللہ واللہ اکبر،اللہ اکبر وللہ الحمد۔

عید کا چاند نظر آنے سے لے کر عید کی نماز کی ادائیگی تک کثرت سے تکبیریں پڑھنا مسنون ہے۔ صدقہ فطر عید کی نماز کی ادائیگی سے پہلے ادا کردیا جائے۔ جذ بہ شکر گزاری کے ساتھ صدقہ فطر ادا کیا جائے تاکہ خوشی کے اس دن کوئی مسلمان بھائی بہن وسائل کی کمی کی وجہ سے خوشی منانے سے محروم نہ رہے۔ صاحب خانہ اپنے گھرکے تمام افراد کی جانب سے صدقہ فطر ادا کر دے۔ نماز عید کے لئے جانے سے پہلے کوئی میٹھی چیز کھانا سنت ہے اور پھر خوشی خوشی عید کی نماز کے لئے چل پڑتا ہے (صحیح بخاری)

نماز عید کی دو رکعتوں سے پہلے اور بعد کوئی دوسری نفل نماز نہیں ادا کرتا، بندہ مومن عید کے روز مسواک کرتاہے، غسل کرتاہے، اچھا لباس پہنتا ہے اور مرد خوشبو لگاتا ہے۔ نماز عید کے لئے خواتین کو بھی ترغیب دی گئی ہے۔ یوں پورا خاندان اللہ کا شکر ادا کرے۔ اپنے رب کے حضور جھک جائے۔ (صحیح بخاری)

بندہ مومن عید گاہ جانے اور آنے کے لئے الگ الگ راستے اختیار کرتاہے تاکہ بستی کا ہر راستہ اس کی خوشی میں شریک ہو۔ یوم عید اہل ِ ایمان اور ایمان و احتساب سے روزے رکھنے والوں کے لئے کامیابی کا دن ہے جن کے لئے یہ اعلان ہو جائے ”سنو بے شک تمہارے رب نے تمہاری مغفرت کردی، پس رشد و ہدایت کے ساتھ اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ، یوم عید ایسے لوگوں کے لئے بدلے کا دن ہے یہی وہ لوگ ہیں،جو اللہ کے لئے محبت کرتے ہیں، اللہ کے لئے بغض رکھتے ہیں، اللہ کی رضا کے لئے دیتے ہیں ہیں اور اللہ جہاں روک دے رک جاتے ہیں پس ایسے لوگوں کا ایمان کمال کو پہنچ گیا۔ اللہ کرے رمضان کی عبادات بخشش کا ذریعہ بن جائیں۔

آپ کو عید مبارک ہو، آپ کا ہر لمحہ بھلائی کے لئے ہو، آپ کی ہر کوشش جنت کے حصول کے لئے ہو۔ عید کے دن خوشی کے اظہار کے لئے ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ اہل ایمان کی بستیاں ان کے ایمان واطاعت کے جذبات کی گواہ بن جاتی ہیں۔ عید کے روز عزیز و اقارب سے، احباب سے، ہمسایوں سے ملاقات، باہمی محبت و احترام بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔ صحابہ کرام ؓ اس موقع پر ایک دوسرے کو دُعا دیتے۔ اللہ تعالیٰ ہماری رمضان کی عبادات کو قبول فرمائے، آمین۔

عید کا دن ایسا موقعہ ہے کہ خوشی کے اظہار میں شائستگی،عاجزی اور رمضان کی عبادات کا عکس ہونا چاہئے۔اپنی ضروریات کے باوجود اپنا وقت، صلاحیت اور پسند یدہ مال صرف اللہ کی رضا کے لئے مستحق افراد پرخرچ کرنا چاہئے۔ اللہ کے دین کے فروغ کے لئے اللہ کے دیے ہوئے مال کو خرچ کیا جائے۔ حقوق العباد تو بندوں کا بندوں پر حق ہے۔ مصروفیات زندگی اس قدر ہیں کہ عزیز و اقارب سے دوری ہو جاتی ہیں یہ ایسا دن ہے قریبی عزیزو اقارب سے ملیں، حالات سے باخبر رہیں، ان کی خدمت کا خوشگوار موقع ہے۔

ماہ رمضان اور عید الفطر کرونا وباء میں ہی ہے۔ دنیا بھر کے تمام انسان اس سے متاثر ہیں۔لاک ڈاؤن، سماجی فاصلوں نے ایک نیا معاشرتی ضابطہ ترتیب دیا ہے۔ علمائے کرام نے کمال حکمت ود ور اندیشی سے اجتماعی عبادات کے لئے ماحول بنایا، مساجد کو تالہ بندی سے بچایا،ابھی کرونا وباء جاری ہے۔ لاک ڈاؤن کی سختیاں نرمی میں بدلی ہیں۔ جب احتیاطی تدابیر کی بار بار تلقین ہورہی ہو، اہل ِ ایمان، اجتماعی عبادات کا شوق رکھنے والے احتیاطی تدابیر ضرور پیش نظر رکھیں۔ سماجی فاصلہ، ہاتھ ملانے کی کوشش نہ کرنا، پاکیزگی اختیار کرنے کا ضابطہ قائم رکھا جائے۔ منڈیوں، بینکوں، بازاروں، معاشرتی، تجارتی مراکز پر احتیاطیں ٹوٹ پھوٹ اور بکھر گئی ہیں، لیکن اس کی پیروی کی بجائے عید نماز کے نمازی اپنا وقار، سماجی ضابطوں کی پابندی اور عمل برقرار رکھیں۔ ڈسپلن کے پابندعلماء اور نمازیوں کا وقار بڑھاہے۔ لاک ڈاؤن، تجارتی، صنعتی سرگرمیوں پر بندش رہی اس بحران سے مل کر نکلنا ہے، اِس لئے غریب، مستحق لوگوں اور ہمسایوں کا خیال رکھا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -