سقراط کی تعلیمات خالصتاً سائنسی بنیادوں پر تھیں، دراصل اس نے حقیقت کو پا لیا تھا 

سقراط کی تعلیمات خالصتاً سائنسی بنیادوں پر تھیں، دراصل اس نے حقیقت کو پا لیا ...
سقراط کی تعلیمات خالصتاً سائنسی بنیادوں پر تھیں، دراصل اس نے حقیقت کو پا لیا تھا 

  

مصنف : ملک اشفاق

 قسط : 7

 انہی دنوں فارقیس جو کہ ایتھنز کا بہت بڑا حکومتی عہدیدار تھا۔ وہ ایک مندر کا افتتاح کرنے کو آیا تو ا س کے ساتھ اس کا دوست انیکساغورث بھی تھا۔ انیکساغورث ایشیائے کوچک کا رہنے والا تھا۔ فارقیس نے انیکساغورث کو اس لیے ایتھنز میں بلایا تھا تاکہ لوگ ایک جدید خیالات کے شخص سے مل سکیں۔اس موقع پر سقراط کو بھی انیکساغورث سے گفتگو کرنے کا موقع ملا اور ا س کے خےالات کو جاننے کا موقع ملا۔ سقراط کو انیکساغورث کی باتیں بہت زیادہ سچی معلوم ہوئیں۔انیکساغورث نے لوگوں کو بتایا تھا کہ سورج کوئی دیوتا نہیں ہے بلکہ چمکتی ہوئی دھات کا ایک گولا ہے جو بہت بڑا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ چاند کی اپنی روشنی نہیں ہے بلکہ چاند مٹی کا بنا ہوا ہے۔ اس نے سورج اور چاندکے حوالے سے گرہن کے بارے میں بھی تفصیل سے بتا دیا۔ایتھنز کے لوگ ان نئے خیالات کو سن کر بحث کرنے لگے اور اسے کافر اور دہریہ کہنے لگے

دراصل سقراط انیکساغورث کے نظریات سے اس قدر متاثر ہوا کہ وہ بھی دیوتاﺅں کو بہت کم اہمیت دینے لگا اور اس کی سوچ کا انداز بالکل بدل گیا۔ 

سقراط کی تعلیمات خالصتاً سائنسی بنیادوں پر تھیں۔ دراصل اس نے عقل، فہم، ادراک اور بصیرت سے حقیقت کو پا لیا تھا اور سچائی کو تلاش کر لیا تھا۔ ایتھنز کے مشہور ڈراما نگار ارسٹوفینز نے ایک مزاحیہ ڈراما لکھا اور اس ڈرامے کے حوالے سے سقراط کا اور اس کے نظریات کا مذاق اڑایا۔چونکہ سوفسطائی لوگ اپنی سطحی تعلیم اور خیالات کی بدولت سقراط کے نظریات کو جھوٹ قرار دے کر اس کا مذاق اڑاتے تھے۔

سقراط کی اخلاقی سیرت:

دنیا کی ذہنی تاریخ میں سقراط کی اہمیت اس لحاظ سے سب سے زیادہ ہے کہ اس نے سب سے پہلے صحیح علمی طریقے کو دریافت کیا اور اسے اجتماعی اور تمدنی مسائل کے حل کرنے میں استعمال کیا۔لیکن اس کی حقیقی عظمت اس کی بے مثل اخلاقی سیرت ہے۔ اس کی شخصیت کا زبردست اثر اس کے ہم عصروں پر پڑا۔ الکے بیاڈیس نے ایک محفل میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا۔ میں نے پیری کلیئس اور دوسرے زبردست خطیبوں کو سنا ہے لیکن وہ کبھی میری روح کی گہرائیوں میں وہ تلاطم پیدا نہیں کر سکے جو سقراط پیدا کر دیتا ہے۔ اس نے اکثر میری یہ حالت کر دی کہ مجھے محسوس ہونے لگا کہ میں اپنی موجودہ زندگی کو کبھی برداشت نہیں کر سکتا اور میں جانتا ہوں کہ اگر میں اس کی باتوں کی طرف سے کان نہ بند کر لوں تو میرا بھی وہی انجام ہو گا جو دوسروں کا ہوا ہے۔

اس تقریر میں الکے بیاڈیس نے سقراط کی فرض شناسی، جفاکشی، استقلال اور بہادری کی حیرت انگیز مثالیں بیان کی ہیں۔سقراط کی اخلاقی جرا¿ت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے ایتھنز کی اسمبلی کا تنہا مقابلہ کیا۔ سقراط نے مطالعہ کائنات، مطالعہ اخلاق اور انسانی فطرت کو ایک سائنس کے طور پر تعلیمات کا حصہ بنایا۔سوفسطائی پروٹاغورث اور اس کے پیرو، اخلاق، عدل، نیکی اور سچائی کو ایک انفرادی فعل کا نام دیتے تھے۔ ان کے فلسفہ کے مطابق ہر انسان اپنے ذاتی اخلاق کا مالک ہوتا ہے۔لیکن سقراط نے اس سوفسطائی نظریے کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا اور کائنات میں جتنے لوگ ہوں گے اتنے ہی اخلاقی روئیے ہوں گے۔ اس لیے سقراط نے کہا تھا کہ تمام انسانوں کا اخلاق، عدل، نیکی اور سچائی کا معیار ایک ہی ہو گا۔سقراط ہر انسان کو فطری صداقت کا حال قرار دیتا تھا۔ (جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -