عوام کو بدلنا ہوگا

عوام کو بدلنا ہوگا
عوام کو بدلنا ہوگا

  

عوام میں شعور کی بیداری میں کافی حد تک بہتری آئی ہے جو کہ انتہائی مثبت عمل ہے ،اور وقت کا تقاضا بھی ہے،لیکن دیکھ کر ، نا دیکھنا اور جانتے ہوئے بھی، جان بوجھ کر ،نا جاننا ہمارا کلچرل اور قومی پہچان کا حصہ ہے۔ گویاجو کام کے اور اچھے لوگ ہیں انہیں آگے آنے کا موقع بھی نہیں دیا جا رہا ہے اور جو ملک کو دیمک کی طرح چاٹے جا رہے ہیں ،انہیں کوئی یہاں سے جانے نہیں دیتا ،معاملہ سمجھ سے بالا تر ہے، جب اس حدیث مبارکہ کو سوچتا ہوں ،جس کے بارے میں سرور کونینﷺ نے فرمایا کہ مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ،یہاں ہمیں اپنے ایمان کو چیک کرنا ہوگا کہ کہیں ہمارا ایمان تو کمزور نہیں ہوتا جا رہا ،بلکہ ہمارا ایمان، حالت نزع کی آخری گھڑیاں گزار رہا ہے، ہمیں بحیثیت قوم اپنے بارے میں سوچنا چاہیے ،اب ہم ظالم کو ظالم نہیں کہتے ،فاسق کو فاسق نہیں کہتے ،جابر کو جابر نہیں کہتے ،قاتل کو قاتل نہیں کہتے،اور بد قسمتی یہ ہے کہ عالم کو عالم نہیں کہتے ،قائد کو قائد نہیں کہتے،صاحب حکمت کو حکیم نہیں کہتے ،اصلاح کرنے والے کو مصلح نہیں کہتے،اور یہی وجہ ہے کہ حق کہنے سے نہ صرف کتراتے ہیں بلکہ جان بوجھ کر اس سے پہلو تہی کرتے ہیں ، تو جس حدیث مبارکہ کا مفہوم بیان کیا ہے اس کی رو سے دو بار نہیں ڈسا جارہا بلکہ کئی دھائیوں سے اس وطن عزیز کے ساتھ جو کھیل کھیلا جا رہا ہے ،اس کو تو اب بغیر آنکھ کے لوگ بھی آرام سے دیکھ سکتے ہیں،یہ الگ بات ہے کہ آنکھ والے نہیں دیکھ رہے،ہمیشہ سے زندہ شخص کی قدر نا کرنا اور مرنے کے بعد انتہائی اعزاز و اکرام سے دفن کر نا اور پھر اس شخصیت کے نام کی چھٹی منانا بھی ہماری پہچان کا حصہ رہا ہے۔کچھ لوگوں نے قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ پر ہرزا سرائی کی اور علامہ محمد اقبال رحمۃاللہ علیہ کو بھی نا بخشا اور بعد میں بجائے کہ ان کے مشن کو اور انکی کاوشوں کو عام کرتے ،انکی تحقیق کو جوانوں کے سامنے رکھتے اس کے بدلے ان کے نام کی ایک چھٹی قبول کرا دی۔ قوم بھی اس دن سو کر دن کا آغاز کرتی ہے اور سو کر ہی دن کا اختتام بھی ۔ ہماری قوم مزار تک پہنچنے کو غنیمت جانتی ہے اور صاحب مزار کے مشن کو نہیں اپناتی گویا انکے ساتھ گستاخی گردانتی ہے ۔اپنے اسلاف سے دور ی کا نتیجہ ہمیں یہ ملا ہے کہ یہ قوم اب دھوکے ،کھوتے اور جوتے کھانے کی عادی ہو گئی ہے۔ یہ باتیں ان کے مزاج کا حصہ بن چکی ہیں۔یہ ایسی قوم ہے جو پہلے کافی عرصہ غلامی میں رہی اور اب فکری غلامی میں زندگی بسر کر رہی ہے اور اپنے پاؤں کی زنجیر کی حفاظت کرتے ہیں ،تاکہ کوئی اس زنجیر کو چرا نہ لے جائے ۔اگرچہ انکو آزادی مل جائے گی، لیکن ہو سکتا ہے کہ اس زنجیر سے اس کو کچھ فائدہ حاصل ہو جائے،ہم دوسرے کا فائدہ ہوتا نہیں دیکھ سکتے اگلے شخص کا فائدہ روکنے کے لیے اپنا نقصان گوارا کر سکتے ہیں مگر سامنے والے کا فائدہ تو کم از کم قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

اس وقت ملک میں عجیب و غریب سی صورت حال ہے۔سنا ہے حکمرانوں نے جاتی امراء کا سودا کر دیا ہے پندرہ ارب روپے میں ۔جو کہ بیرون ملک وصول کر لیے جائیں گے۔ ایک طر ف ختم نبوت پہ حملے جاری ہیں دوسری طرف عوام بڑھتی ہوئی مہنگائی ،کرپشن ،لوٹ مار ،جبر ،تشدد ،ناقص تعلیم ،ناقص اشیاء و خورد و نوش اور مسلل دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ رہی ہے،عجیب سی ہیچانی کیفیت ہے ،ہر ایک نے ڈیڑھ انچ کی مسجد بنا رکھی ہے،شطر بے مہار کی طر ح دوڑ دھوپ ہے۔ اس ہیجان اور سکوت کو توڑنے کے لیے ہمیں واپس اپنے اسلاف کی تاریخ کو پڑھنا ہوگا ،قوم کو اپنا مزاج بدلنا ہوگا۔اس قوم کو جواپنی دنیا فرعون کی بناتی ہے اور اپنی آخرت موسیٰ کی چاہتی ہے۔ہم گٹھلی آم کی لگاتے ہیں اور بدلے میں امرود کے درخت کی خواہش رکھتے ہیں ۔آخر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھنے سے تو معاملات کا حل نہیں نکل سکتا ،اس کے لیے سب کو اپنا کردار اد ا کرنا ہوگا ،پہلے دور میں ایک باپ کماتا تھا تو آٹھ افراد کھاتے تھے،مگر اب حالات بدل گئے ہیں ، اگر گھر میں آٹھ افراد ہیں تو آٹھوں کو مل کر کمانا ہوگا تبھی تو گھر کا نظام چلے گا ورنہ نہیں ، اسی طر ح ملک کا نظام چلانے کے لیے صرف حکومت کی برائیاں ہی نہ دیکھا کریں بلکہ اپنی کوتاہیوں پر بھی نظر ثانی کیا کریں تاکہ،احتساب کی روایت آپ سے شروع ہو ،اور آ پ کو بھی پتا ہو کہ تنقید کرنا بہت آسان ہے لیکن خود کو اگلے کی جگہ انصاف کے لیے پیش کرنا مشکل ہے۔ہماری سوسائٹی میں ابھی ، بھی احساس زندہ ہے ،لوگ بات کو سمجھتے ہیں۔ میرے ناقص علم کے مطابق عوام کے شعور کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے ۔

واصف صاحب فرماتے ہیں:

’’غافل کی آنکھ تب کھلتی ہے ،جب بند ہونے کے قریب ہوتی ہے‘‘

اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اور بعد میں صرف پچھتاوا رہ جائے ،عوام کو خود بدلنا ہوگا ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -