قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 94

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 94
قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 94

  

خانہ کعبہ میں طوائف کرتے ہوئے بھی میرے اندر ایک کیفیت تھی مگر وہ خدا تعالیٰ کی عظمتوں اور بلندیوں کی کیفیت تھی۔ مگر یہاں جب کوئی مسجد نبوی اور روضہ رسولﷺ پر آتا ہے تو ضرور روتا ہے ۔ میں نے اپنے سمیت یہاں آنے والا کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو یہاں آکر آبدیدہ نہ ہو ا ہو۔ یہ آنسو یقیناًخوشی کے ہوتے ہیں لیکن ان کے پس منظر میں وہ مناظر ہوتے ہیں جو تاریخ میں درج ہیں اور قدم قدم پر احساس ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہاں یہ کہا تھا یا یہاں یہ ارشاد فرمایا تھا ۔ دوسرے لفظوں میں تمام تاریخ آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی ہے۔ اور محسوس ہوتا ہے کہ اس عظیم قائد نے کتنی جاہل قوم کو ایک لڑی میں پروکر کتنا مشکل کام سرانجام دیا۔ یہ اتنا بڑا کام ہے کہ ان کے علاوہ کوئی اور شخص یہ کام انجام دے ہی نہیں سکتا تھا۔

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 93  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مہذب قوموں میں ریفارمر کا آجانا ایک اچھی بات ہے ۔ لیکن باقی مصلحین کو جو قومیں ملیں وہ مہذب تھیں اور ان کے لیے بڑی سہولتیں تھیں۔ مگر رسول اکرم ﷺ کو جو ملک، قوم اور آب و ہوا ملی وہ بہت اور طرح کی تھیں۔ وہ انتہائی ابتری والی تھیں۔ ان حالات کو بدلنے کیلئے صرف رسول اکرم ﷺ کی ضرورت تھی۔ ان کے علاوہ کوئی ان حالات کو ٹھیک کر ہی نہیں سکتا تھا۔ آج اس ترقی یافتہ دور میں جب ہم ان واقعات کو سوچتے ہیں تو کم ازکم میرے چھوٹے سے ذہن میں تو یہی بات آتی ہے کہ جو کارنامہ محمد ﷺعربی نے اس سرزمین پر کر دکھایا اس کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ اب تو معاملات بدل گئے ہیں۔ نہ کوئی نیا مذہب آنا ہے اور نہ ہی کوئی پیغمبر آنا ہے لیکن آج کے دور میں اگر کوئی سیاسی اصلاحات بھی کرنا چاہے تو اسے بہت پُر خارراستے سے گزرنا پڑتا ہے ۔ اور کسی بگڑے ہوئے معاشرے کو ٹھیک کرنے کے لیے اسے اتنی اذیتیں سہنی پڑتی ہیں کہ وہ یا تو ہمت ہار کر بیٹھ جاتا ہے اور یا پھر پھانسی پر چڑھا دیا جاتا ہے۔جو کام پڑھے لکھے اور مہذب لوگوں میں آج نہیں ہو سکتا وہ کام اس ذات برترنے اس زمانے میں کرد کھایا جب علم کی روشنی کم تھی اور لوگوں کے ذہنوں پر وحشت سوار تھی اور لہو و لعب اور فسق و فجور تھا۔

رسول خداﷺ نے ایک چھوٹے سے شہر سے اپنی تحریک شروع کی اور ان کا پیغام بڑھتے بڑھتے ساری دنیا میں پھیلا ۔ اسلام تو عام آدمی کا مذہب ہے ۔ یہ چھوٹے لوگوں سے شروع کر ہو کر بڑے لوگوں تک پہنچا اور اس نے مملکتوں کو اپنے دامن میں سمیٹا ۔ اور بادشاہوں کو اپنے قدموں میں جھکایا اور فقیری کا درس دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ عرصے بعد لوگ اسلام اور رسول اکرمﷺ کی تعلیمات کو بلا کر ملوکیت کی طرف چلے گئے ۔ اس سے سب خرابیاں پیدا ہوئیں جن کے نتیجے میں ہم لوگ آج تک پس رہے ہیں۔ آج اسلام مختلف فرقوں میں بٹا ہوا ہے اور ایک فرقہ دوسرے فرقے کو اسلام کے مطابق نہیں سمجھتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مرکز جس پر ہمیں رسول اکرم ﷺ لائے تھے ہم اس پر نہیں رہے۔

کہنا مقصود یہ ہے کہ جس وقت آدمی مسجد نبویﷺ پر جاتا ہے یا روضہ رسول ﷺ کا دیدار کرتا ہے تو اس وقت اگر اسے تاریخ کا تھوڑا سا بھی شعور ہو تو وہ ضرور بہت ہی متاثر ہوتا ہے ۔ میں نے وہاں پر دیکھا کہ لوگ دنیا کے مختلف علاقوں کے لباس پہنے ہوئے تھے ۔ ایک آدمی کو میں نے خاص طور پر دیکھا اور اس نے بھی مجھے بغور دیکھا۔ وہ صاحب شاید مجھے پہچا ن نہ سکے ہوں بلکہ صرف اتنا ہی اندازہ کیا ہو کہ میں پاکستانی ہوں لیکن میں انہیں پہچان گیا یہ غلام مصطفی جتوئی تھے۔ جتنی بار میں وہاں نماز ادا کرنے کے لیے گیا یہ بھی وہاں آئے ہوئے تھے اور بڑی رقت سے دعائیں مانگ رہے ہوتے تھے۔ پہلی مرتبہ تو میں ان سے نہیں ملا لیکن جب دوسری نماز کیلئے گیا تو ان سے ملا۔ جب میں نے انہیں اپنا نام بتایا تو وہ مجھے جانتے تھے کیونکہ انہیں علم و ادب سے بھی کچھ شغف تھا۔ پھر جس زمانے میں میری ایک کتاب کا بروشر چھپا تھا وہ سندھ کے وزیراعلیٰ تھے اور بروشر میں ان کا پیغام بھی چھپا تھا۔

جتوئی صاحب نماز کے بعد مجھے اپنے ہمراہ اس ہوٹل میں لے گئے جس میں انہوں نے قیام کیا ہوا تھا۔ ہوٹل کے نیچے لابی میں بیٹھ کر ہم نے چائے پی اور پھر لمبی چوڑی باتیں ہوئیں۔ اس کے بعد بھی ہم سنتے رہے کہ یہ ہرسال میں ایک دوبار حاضری دینے کیلئے وہاں ضرور جاتے ہیں۔

وہاں ایک حساس انسان اور شاعر پر جو گزرتی ہے ۔ اس کا ایک ردعمل بھی ہونا چاہیے۔ لیکن میں اس کوشش کے باوجود کہ وہاں کے تاثرات شعروں میں قلمبند کروں آج تک کامیاب نہیں ہو سکا۔ جب بھی اس حوالے سے نعت خوانی کی کوشش کی ہے تو میں ناکام رہا ہوں۔ میں نے شعر لکھ لکھ کر پھاڑے ہیں۔ میں اس حوالے سے اس پائے کی کوئی ایسی نظم یا نعت نہیں کہہ پایا جسے میں سمجھوں کہ روضہ رسول ﷺ کا ردعمل اس میں موجود ہے ۔ میں اس بارے میں اپنی ناکامی کا اعتراف کھلے بندوں کرتا ہوں۔ مجھے حیرت ہے کہ بعض شعراء جب وہاں سے واپس آتے ہیں تو اپنی کسی نظم کے ساتھ لکھتے ہیں کہ یہ نظم روضہ رسولﷺپر جاتے ہوئے یا آتے ہوئے کہی گئی۔ وہ نظم بھی عام سی ہوتی ہے اور ایسی نظمیں کہی بھی جاسکتی ہیں ۔ ایسی نظمیں نہ صرف یہ کہ وہاں جا کر کہی جاسکتی ہیں بلکہ یہاں بیٹھ کر بھی کہی جاسکتی ہیں۔ لیکن اس مقام کی حاضری کے بعد جو کچھ کہنا چاہیے اس بارے میں میرے تصور میں بات نہیں آتی کہ کیا کہنا چاہیے۔ اور وہ ممکن بھی ہے یا نہیں ۔ پھر بھی میرا دل کہتا ہے کہ کسی روز میں ایسے چند اشعار کہنے میں ضرور کامیاب ہو جاؤں گا جن میں وہ کیفیت ضرور آئے گی جو اس وقت مجھ پر طاری تھی ۔ اللہ مجھے اس کی توفیق دے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کلام سنانے کے رسیا

پرائمری تک میری تعلیم راولپنڈی میں ہوئی تھی بلکہ میں چوتھی جماعت بھی وہاں نہیں کر پایا تھا کہ مجھے ہری پور میں داخلہ لینا پڑا۔ ہم لوگ وہاں یعنی پنڈی میں محلہ امام باڑہ میں رہتے تھے اور میرا سکول اسلامیہ پرائمری سکول بنی مائی بھیرو کے قریب تھا ۔ جب میں اپنے گھر سے گزر کر دوستوں کے ساتھ سکول جاتا تھا تو راستے میں ایک گھر کی دیوار پر ایک نیم پلیٹ لگی ملتی تھی جس پر لکھا ہوتا تھا عبدالعزیز فطرت ۔ ہم لڑکے ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کہ یہ عبدالعزیز تو کئی لوگوں کا نام ہے لیکن یہ فطرت کیا ہوتا ہے۔ چنانچہ اپنے سے سمجھدار لڑکوں سے پوچھنے کے بعد معلوم ہوا کہ فطرت ان کا تخلص ہے اور تخلص شاعروں کا ہوا کرتا ہے تو اپنے نام کے ساتھ یہ لکھتے ہیں اور اشعار میں جہاں ضرورت پڑتی ہے وہاں بھی اپنے نام کی بجائے اپنا تخلص استعمال کرتے ہیں گویا سب سے پہلے شاعر اور تخلص سے جو آگاہی ہوئی وہ عبدالعزیز فطرت کے نام سے ہوئی۔ اس کے بعد جب ہوش سنبھالا اور خود شعر کہنے کے قابل ہوا تو عبدالعزیز فطرت کی نظمیں غزلیں ادھر ادھر رسالوں میں پڑھنے کو ملیں۔ اور یوں محسوس ہوا کہ عبدالعزیز فطرت میرے بہت قریب ہیں۔

وقت گزرتا گیا اور جب تھوڑا سا نام میرا بنا اور مجھے ہری پور سے جب پہلی بار راولپنڈی کے مشاعرے میں بلوایا گیا تو میرا پہلا مشاعرہ گارڈن کالج کا تھا۔ اس میں مجھے بلانے والے شوکت واسطی تھے جو اس وقت وہاں سٹوڈنٹ تھے۔ یہ واقعہ میں الگ سے بھی بیان کر چکا ہوں۔ خیر! اسی مشاعرے میں میری ملاقات بہت سے سینئر شعراء سے بھی ہوئی۔ اور ان میں سے جن لوگوں کے ساتھ دوستی پیدا ہوئی ان میں عبدالعزیز فطرت اور جگن ناتھ آزاد کا نام لیا جا سکتا ہے۔ فطرت صاحب کے دم قدم سے پنڈی کی ادبی بہار یں اور رونقیں تھیں۔ انہیں ادبی سرگرمیوں سے گہرا تعلق تھا ۔ چھوٹی نشستیں تو ان کے گھر پر ہوتی رہتی تھیں اور جب بھی باہر سے کوئی شاعر آتا تو وہ کچھ شعر اء کو بلا کر اپنے گھر میں ایسی نشستیں کرتے رہتے تھے۔ اس کے علاوہ درمیانے درجے کے مشاعرے وہ علاقائی حد تک کر لیتے تھے اور کبھی کبھی بڑے درجے کے مشاعرے آل انڈیا حد تک بھی کروا لیتے تھے۔ ان مشاعروں کے انتظامات کا انہیں ملکہ حاصل تھا۔ چنانچہ جب تک ان کی زندگی رہی انہوں نے اپنے آپ کو اُردو ادب کی خدمت کے لے وقف کئے رکھا۔ اچھے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بہت زندہ دل ، لطیفہ گو اور جملہ باز آدمی بھی تھے۔ مقامی طور پر جیسے کہ ادبی سیاسیات ہوتی ہیں ان میں اپنے آپ کو کافی حد تک ملوث کر لیتے تھے۔ اور بعض اوقات تو الزامات بھی اپنے اوپر لینا قبول کر لیتے تھے۔وہ دراصل پوسٹل ڈیپارٹمنٹ میں ملازم تھے اور ایک عرصہ وہ ڈاک کے سپروائزر بھی رہے۔ اس عرصہ میں ان پر یہ الزام بھی لگا کہ وہ اپنے مخالفین کے خطوط نکال کر پڑھ لیتے ہیں ۔ خدا جانے یہ الزام غلط تھا یا درست۔ ان پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ وہ مخالفین کی ادبی سرگرمیوں میں رخنے پیدا کر دیتے ہیں اور اگر دیکھیں کہ کوئی پروگرام ان کے پروگرام سے ٹکراتا ہے تو اس کے سد باب کے لیے بھی پہلے ہی سے بندوبست کر لیتے ہیں واللہ علم بالصواب ۔ لیکن اس سے یہ بات ضرور ظاہر ہوئی کہ وہ ادبی سرگرمیوں کے سلسلے میں کتنے سنجیدہ تھے۔ اس میں کسی کو ذاتی نقصان پہنچانا بھی مقصود نہیں تھا صرف یہ تھا کہ جو کریڈٹ فطرت صاحب کو ملنا چاہیے تھا وہ کسی اور کو نہیں لینے دیتے تھے ۔ ان کی ساری باتوں کا مقصد یہی ہوا کرتا تھا۔

ان کے حریفوں میں ایک اور بزرگ دوست اور شاعر انجم رضوانی تھے جو اب بھی بقید حیات ہیں اور بہت پختہ شعر کہتے ہیں۔ دونوں میں ایک چیز قدر مشترک تھی کہ دونوں خوب نپے تلے شعر کہتے تھے اور قوافی کے سلسلے میں شائیگان قافیوں کی طرف کبھی نہیں گئے بلکہ بالکل ایک آواز کے قافیے لاتے تھے ۔ جیسے کہ سہارا قافیہ نظارا یا کناراہی لاتے تھے تاکہ صوت مجروح نہ ہو۔ دونوں کے کچھ شاگرد اور دوست بھی تھے۔

اس زمانے میں ہمارے دوست فطرت ہی تھے۔ ہمارے دوستوں میں جمیل ملک کے استاد حضرت انجم رضوانی تھے۔ ظاہر ہے کہ اپنے دوستوں کی طرف تھوڑا جھکاؤ اور پاسداری تو ہوتی ہے۔ چنانچہ ہم لوگوں کا جھکاؤ فطرت صاحب کی طرف تھا ۔ انجم رضوانی اس سے وہ لطف اندوز ہوں ۔ چنانچہ ہم لوگ بھی ایک دوبار ان کے ساتھ پکنگ پر گئے۔ یہ زمانہ خالص گھی کا تھا۔ لیکن اس زمانے میں انجم صاحب بناسپتی گھی استعمال کرتے تھے اور گھر میں تیرمارکہ بناسپتی کا پورا ایک کنستر لا کر رکھ دیتے تھے جس سے ہر چیز پکتی تھی۔

ہمارے دوست احمد ظفر بہت ہی شگفتہ مزاج تھے اور بعض اوقات ایسا جملہ فٹ کرتے تھے جو ٹھیک نشانے پر بیٹھتا تھا ۔ ایک دن کہنے لگے کہ انجم صاحب چونکہ کمزور آدمی ہیں اور کمان میں تیر رکھ کر نہیں چلا سکتے جبکہ چاہتے بھی ہیں کہ عبدالعزیز فطرت کے سینے میں تیر پیوست کیا جائے تو اصلی تیر کی بجائے وہ تیر مارکہ بناسپتی کھا کر ایسا شعر کہتے ہیں جو جا کر فطرت صاحب کے سینے میں پیوست ہو جائے۔

اب عبدالعزیز فطرت صاحب کو زندہ دلی کا اندازہ کیجئے۔ کہا گیا کہ یہ جو چکور ہوتا ہے یہ کیا ہوتا ہے ۔ مسلمان کہتے تھے کہ یہ کہتا ہے سبحان تیری قدرت۔ اور ہندو کہتے تھے کہ یہ کہتا ہے رام نام دشرت۔ عبدالعزیز فطرت کہنے لگے کہ یہ دونوں فریق غلط کہتے ہیں اور اصل میں چکور کہتا ہے ’’عبدالعزیز فطرت ‘‘۔

فطرت فیملی میں پہلے تو ان کے برادر نسبتی شعر کہتے تھے جن کا نام ایوب محسن تھا۔ وہ اچھے شاعر تھے اور ان کی فن پر بڑی دسترس تھی۔ لیکن وہ ٹرانسپورٹ میں جا کر ایسے کاروباری بنے کہ شعر پر ان کی توجہ بہت کم ہو گئی اور وہ اضافی وقت کاروبار کی طرف دیتے گئے چنانچہ وہ اب بہت خوشحال لوگوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ لیکن ایک بات مجھے ہمیشہ کھٹکی کہ فطرت صاحب کے مرنے کے بعدان کا مجموعہ کلام بہت جلدی آنا چاہیے تھا مگر ایوب محسن صاحب نے ان کا مجموعہ چھاپنے میں بڑی کوتاہی کی کیونکہ لوگ تو بہت جلد بھول جاتے ہیں۔ بالآخر فطرت صاحب کا مجموعہ چھپا اور اس وقت چھپا جب اس کا بہت کم فائدہ مرحوم کی شہرت کو ہوا۔ کیونکہ ان کی وفات اور اس کی اشاعت میں اٹھارہ سال کا عرصہ گزر گیا تھا۔(جاری ہے )

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 95 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : گھنگروٹوٹ گئے