شادی کے موقعہ پر دولہا نے ایسی بات کہہ دی کہ لڑکی کے گھر والوں نے پکڑ کر اس کا سر مونڈ دیا

شادی کے موقعہ پر دولہا نے ایسی بات کہہ دی کہ لڑکی کے گھر والوں نے پکڑ کر اس کا ...
شادی کے موقعہ پر دولہا نے ایسی بات کہہ دی کہ لڑکی کے گھر والوں نے پکڑ کر اس کا سر مونڈ دیا

  

نئی دلی(نیوز ڈیسک) بھارتی حکومت نے بہت کوشش کر لی مگر جہیز کی لعنت کا خاتمہ ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ قانون تو اس گھٹیا روایت کا خاتمہ کرنے میں ناکام ہے مگر ریاست اترپردیش سے تعلق رکھنے والی ایک دلہن کے گھر والوں نے جو تکنیک متعارف کروائی ہے وہ شاید کارگر ثابت ہو جائے۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جہیز پر پابندی کے باوجود لڑکے والے بضد تھے کہ انہیں جہیز چاہیے، جس پر لڑکی والوں نے بھی مجبور ہو کر رضامندی ظاہر کر دی۔ اب ہر گزرتے دن کے ساتھ لڑکے کی فرمائشیں بڑھنے لگیں، جنہیں بڑی حد تک پورا بھی کیا گیا۔ شادی سے محض پانچ دن قبل اُس نے نئی فرمائش کر دی کہ اُسے موٹر سائیکل لے کر دی جائے۔ کسی طور پر یہ فرمائش بھی پوری کی گئی، مگر اسے موٹر سائیکل پسند نہیں آئی اور اُس نے اصرار کر کے دوسری کمپنی کی موٹر سائیکل لی۔ اب اُس نے ایک اور فرمائش کر دی کہ شادی کے دن اُسے سونے کا ہار پہنایا جایا۔ جب لڑکی والوں نے کہا کہ یہ اُن کے لئے ممکن نہیں تو بدقماش لڑکے نے شادی سے ہی انکار کر دیا، جس پر لڑکی والوں کو انتہائی مجبوری کے عالم میں اس بات پر بھی رضامندی ظاہر کرنا پڑی۔

لڑکی والوں نے سونے کا ہار پہنانے کا وعدہ تو کر لیا مگر اُن کے دل بہت دکھے ہوئے تھے کہ اس بدبخت لڑکے نے انہیں بہت ذلیل کیا ہے۔ وہ فیصلہ کر چکے تھے کہ اُسے بیٹی دینا بہت بڑی غلطی ہو گی اور اب وہ بھی اسے سبق سکھانا چاہ رہے تھے، مگر خاموش رہے اور انتظار کرنے لگے کہ وہ بارات لے کر آئے۔ جب لڑکا بارات لے کر آیا تب انہوں نے اپنا غصہ نکالنے کا فیصلہ کیا اور اُسے پکڑ کر اُس کا سر مونڈ ڈالااور پھر لعن طعن کر کے واپس رخصت کر دیا۔

ذلت و رسوائی کا نمونہ بن جانے والے دولہے اور اس کے گھر والوں نے اس سلوک پر بہت واویلا کیا ہے مگر دلہن والوں کا کہنا ہے کہ وہ جہیز لینے کے جرم میں اُن کے خلاف مقدمہ بھی درج کروائیں گے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے بارات کو واپس بھیجنے کا فیصلے کیا تھا مگر یہ معلوم نہیں کہ جھگڑے کے دوران دولہے کا سر کس نے مونڈ دیا۔ 

مزید :

ڈیلی بائیٹس -