میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ میں پرچہ آؤٹ، کئی شہروں میں یونیورسٹی ہیلتھ سائنسز کیخلاف مظاہرے

میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ میں پرچہ آؤٹ، کئی شہروں میں یونیورسٹی ہیلتھ سائنسز ...

ملتان،کوٹ ادو،رحیم یار خان(وقائع نگار،تحصیل رپورٹر،ڈسٹرکٹ رپورٹر)میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ میں پرچہ آؤٹ کرکے ہزاروں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگانے کیخلاف ہزاروں طلبہ اور ان کے والدین نے گزشتہ روز متعدد شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے اس حوالے سے ملتان سے وقائع نگار کے مطابق یونیورسٹی ہیلتھ سائنسز پنجاب کے میڈیکل انٹری ٹیسٹ میں پیپر آؤٹ ہونے کی شکایات پر گزشتہ روز دوسرے شہروں کی طرح ملتان میں بھی کچہری چوک پر(بقیہ نمبر10صفحہ12پر )

طالبات نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور شدید نعرے بازی کی۔لاہور کی ایک اکیڈمی کو بھی مظاہرہ میں نشانہ بنایا گیا تھا۔احتجاجی مظاہرے میں طالبات کے والدین نے بھی شرکت کی۔انٹری ٹیسٹ کیخلاف ایک پریس کانفرنس میں ڈاکٹر عقیل خان،عمران خاکوانی،ابراہیم خان،ڈاکٹر رفعت،خالد محمود،شیخ ندیم،مسز امجد اقبال نے شرکت کی کہ20اگست کو میڈیکل انٹری ٹیسٹ کا پرچہ آؤٹ ہوا اور اس کا فائدہ لاہور کی ایک اکیڈمی نے اٹھایا اس سے جنوبی پنجاب کے طلبہ کو نقصان ہوا ہے۔جبکہ لاہور کی اکیڈمی کے طالبات کو انٹری ٹیسٹ میں95فیصد نمبر ملیں گے۔مگر ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے طلبہ و طالبات کو محروم رکھا جائے گا۔کوٹ ادو سے تحصیل رپورٹر کے مطابق یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے تحت ہونے والے انٹری ٹیسٹ کا پرچہ آؤٹ ہونے اورآؤٹ آف کورس سوالات دینے کے خلاف سینکڑوں طالبعلم یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزاور پنجاب حکومت کے خلاف سرپا احتجاج،مین شاہراہ بلاک کر دی ،یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور حکومت کے خلاف نعرے بازی ، احتجاجی مظاہرہ سے ٹریفک کا نظام درہم برہم، انٹری ٹیسٹ منسوخ کرکے دوبارہ ٹیسٹ لینے کا مطالبہ،اس بارے تفصیل کے مطابق یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے تحت ہونے والے گزشتہ دنوں کے انٹری ٹیسٹ میں 220 ملٹی پل چوائس سوالوں پر مشتمل انٹری ٹیسٹ کا پیپر لاہور کے علاقوں میں آؤٹ ہونے اور آؤٹ آف کورس ہونے اور فزکس کمیسٹری کے نمیریکل زیادہ ہونے پر ہزاروں طلباء طالبات انٹری ٹیسٹ اچھے طریقے سے نہ دے سکے تھے جس پر ہزاروں طلباء طالبات کا ایک سال مزید ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیاہے جبکہ جنوبی پنجاب سے ہزاروں کی تعداد میں انٹری ٹیسٹ دینے والے طلباء طالبات کامستقبل بھی داؤ پر لگ گیا ہے، یونیورسٹی ہیلتھ آف سائنسز کے تحت میڈیکل کالج میں داخلہ کے لئے لیا جانے والا انٹر ی ٹیسٹ جس کا پرچہ لاہور میں ایک نجی اکیڈمی میں آؤٹ کرکے فی پرچہ 50ہزار سے ایک لاکھ میں فروخت کرکے اپر پنجاب کے طالب علموں کو کامیاب کرایا گیا تھا جبکہ جنوبی پنجاب کے طالب علموں کو اس حق سے محروم رکھنے کے لئے یہ اقدام کیا گیا تھا ، اس حوالے سے سینکڑوں طالب علموں نے گزشتہ روز جی ٹی روڈ پر احتجاج کیا ، احتجاج سے مین شاہراہ بلاک ہو گئی جس سے ٹریفک کا نظام مکمل طور پر معطل ہو گیا ، طالب علموں نے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے جس پر سٹار اکیڈمی ، یونیورسٹی ہیلتھ آف سائنسز اور حکومت پنجاب کے خلاف نعرے درج تھے، ،اس موقع پرطلباء کا کہنا تھا کہ اپر پنجاب میں پیپر آؤٹ ہونے پرتعلیمی پسماندگی کا شکار جنوبی پنجاب کے طلبہ بری طرح متاثر ہوئے ہیں،ان کا مطالبہ تھا کہ گزشتہ دنوں ہونے والے انٹری ٹیسٹ کو منسوخ کرکے دوبارہ انٹری ٹیسٹ مذکورہ نصاب سے لیا جائے ،اس موقع پر طلباء و طالبات یمنیٰ روحانی ، امامد چوہدری، ثناء حنیف، اویس الطاف، ابدال ندیم ، عبدالصمد، محمد اعجاز، مبشرہ،انثیٰ ممتاز، بسما، سدرہ، عبدالمنان ، حمنیٰ محبوب، اقراء اکرم، زروا حسن، خنصہ، لیبہ، لاریب نے اپنے مطالبات بتاتے ہوئے کہا کہ نشتر میڈیکل کالج کو میڈیکل یونیورسٹی کا درجہ دے کر الگ سرکاری سطح پر انٹری ٹیسٹ کا اہتمام کیا جائے اور جنوبی پنجا ب میں مزید میڈیکل کالج بنائے جائیں،پورے پنجاب کی 3400سیٹوں میں سے صرف700سیٹیں جنوبی پنجاب کے حصے میں آتی ہیں تعلیمی پسماندگی پر مشتمل جنوبی پنجاب کے لئے نشستوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ طلبہ کیلئے نفسیاتی تباہی اور والدین کیلئے مالیاتی بوجھ پر مشتمل غیر ضروری پرائیویٹ کاروباری ادارہ کے تحت انٹری ٹیسٹ کی لعنت کا خاتمہ کیاجائے یا پھر انٹری ٹیسٹ کا سرکاری سطح پر نصاب برائے انٹری ٹیسٹ مرتب کرکے انٹری ٹیسٹ تیاری کے مراکز سرکاری سطح پر بنائے جائیں،اس موقع پر انہوں نے گورنر پنجاب و دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیاکہ جنوبی پنجاب کے سینکڑوں طالب علموں کا سال ضائع ہونے سے بچایا جائے اور ان کا مستقبل تاریک کرنیوالوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے ،بصور ت دیگر جنوبی پنجاب کے طلباء یونیورسٹی آف ہیلتھ آف سائنسز اور وزیر اعلیٰ باڈی کا گھیراؤ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔رحیم یار خان سے ڈسٹرکٹ رپورٹر کے مطابق انٹری ٹیسٹ میں میرٹ کی دھجیاں اڑانے پردرجنوں امیدواروں کایورنیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزکے خلاف شدیداحتجاج‘ انٹری ٹیسٹ میں سلیبس سے ہٹ کرسوالات دئیے گئے اورایم ڈی سی اے ٹی کامیرٹ بھی ای سی اے ٹی کی طرح 70فیصدنہیں کیاگیا‘ امیدواروں کامطالبات منظورنہ ہونے کی صورت پریورنیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزکے باہرصوبہ بھرکے امیدواران کے ہمراہ دھرنادینے کااعلان۔گذشتہ روزرحیم یارخان کے درجنوں امیدواران میڈیکل انٹری ٹیسٹ نے یورنیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزکے خلاف ڈسٹرکٹ پریس کلب کے باہراحتجاج کرتے ہوئے بتایاکہ انٹری ٹیسٹ میں یورنیورسٹی کی سوالیہ شیٹ آنے سے پہلے کچھ امیدواروں نے جوابات اپ لوڈکردئیے اورفزکس کے سوال سوشل میڈیاپربھی اپ لوڈکردئیے تھے جویورنیورسٹی ہیلتھ سائنسزانتظامیہ کی جانب سے لیک کیے گئے‘ انٹری ٹیسٹ میں انجنےئرنگ کے طالب علم ایم سی اے ٹی دینے آئے اورایم بی بی ایس میں انرولڈطالب علم ایم ڈی سی اے ٹی دینے آئے جوغیرقانونی ہے‘ انہوں نے بتایاکہ یورنیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزکی جانب سے دئیے گئے سلیبس سے انحراف کیاگیا‘ انہوں نے کہاکہ حکومت پنجاب سمیت دیگراعلی حکام فوری طور پراعلی سطحی کمیٹی تشکیل دیں اورہزاروں امیدواروں کامستقبل تاریک بنانے والی یورنیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزکے حکام کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لاتے ہوئے انصاف فراہم کریں اگرمطالبہ تسلیم کرکے انصاف نہ ملاتوصوبہ بھرکے امیدواران یورنیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزکاگھیراؤاوراحتجاج کریں گے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر