شبلی فراز، نیب آرڈیننس پر مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی ک سفارشات سامنے لے آئے 

شبلی فراز، نیب آرڈیننس پر مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی ک سفارشات سامنے لے آئے 

  

  اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیراطلاعات   سینیٹر شبلی فراز نے نیب آرڈیننس ترمیمی بل پر مسلم لیگ  ن  اورپیپلزپارٹی کی سفارشات شیئر کر دیں۔سماجی  رابطوں کی سائٹ ٹوئٹر پر  ایک  ٹویٹ میں شبلی فراز نے  احتساب آرڈیننس 1999 میں ترمیم کے لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی مجوزہ ترامیم کے صفحات شیئر کرتے ہوئے لکھا کئی دنوں سے مسلم لیگ نواز لمیٹڈ ڈیمانڈ کر رہی تھی کہ این آراوکس نے مانگا، حضور والا یہ ہیں وہ ذرائع اور دستاویزات جن کی وساطت سے این آر او مانگا گیا۔انہوں نے کہا تاریخ گواہ ہے کہ ہر بار مسلم لیگ ن کی قیادت نے ملک اور قانون سے فرار کا راستہ اختیار کیا ہے۔ سینیٹر شبلی فراز کی  جانب سے شیئر کردہ  دستاویز ات کے مطابق  پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے قومی احتساب آرڈیننس 1999   کی سیکشن 18میں  مجوزہ ترامیم کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ   نیب جرم کے ارتکاب یا رقوم کی منتقلی کو 5 سال کا عرصہ گزرنے کے بعد مبینہ جرم کی تحقیقات، تفتیش یا ریفرنس دائر نہیں کرے گا۔ دستاویز میں درج تھاکہ   آرڈیننس کی ذیلی شقb میں نئی ذیلی شق (bb)متعارف کرانے کے بعد  قومی احتساب بیورو (نیب) مندرجہ ذیل صورتحال میں الزامات پر کوئی ایکشن نہیں لے گا۔(i) ایسی شکایت جو نامعلوم یا فرضی نام سے کی گئی ہو۔(ii) جس میں عوام کا پیسہ شامل نہ ہو۔(iii) جس میں شامل رقم ایک ارب روپے سے کم ہو۔ نیب آرڈیننس کی سیکشن 25میں ترمیم کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ذیلی شق اے کو ختم کیا جائے     اور ذیلی شق بی  کے مطابق   کہا گیا تھا کہ ’تحقیقات کا حکم دینے کے بعد یا انکوائری کے وقت، ٹرائل شروع ہونے سے پہلے یا بعد میں یا اپیل کے زیر التوا ہونے کے دوران سرکاری عہدہ رکھنے والا یا کوئی بھی دوسرا شخص کسی جرم کے نتیجے میں بنائے گئے اثاثے یا حاصل کیے گئے فوائد واپس کرنے کی پیش کش کرے تو اس  آرڈیننس کے تحت چیئرمین نیب، کیس کے حقائق اور پہلوؤں پر غور کر کے اپنی صوابدید اور جو شرائط و ضوابط وہ ضروری سمجھیں انہیں مدِ نظر رکھتے ہوئے اس قسم کی پیشکش کو قبول کرسکتے ہیں‘۔علاوہ ازیں اس میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر سرکاری عہدہ رکھنے والا کوئی بھی دوسرا شخص چیئرمین نیب کی متعین کردہ رقم واپس کرنے پر راضی ہو تو اس کیس کو سرکاری عہدہ رکھنے والے یا کسی بھی شخص یا شریک ملزم کی رہائی سے متعلق کیس کو منظوری کے لیے عدالت یا اپیلیٹ کورٹ میں بھیجا جائے گا۔دستاویز میں لکھا گیا کہ اگر چیئرمین نیب اس قسم کی پیشکش سے انکار کردیں تو سرکاری عہدیدار یا کوئی بھی شخص اس پیشکش پر غور یا منظوری کے لیے براہ راست عدالت سے رجوع کرسکتا ہے۔ 

شبلی فراز

مزید :

صفحہ اول -