ججوں کی تقرری،چند گزارشات

ججوں کی تقرری،چند گزارشات
 ججوں کی تقرری،چند گزارشات

  



افراد اور ادارے دنوں میں تیار ہوتے ہیں نہ دنوں میں ان کی ساکھ زمیں بوس ہوتی ہے، ان کی تیاری میں سالہا سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے مگر تباہی و بربادی دنوں میں ممکن ہو جاتی ہے،خاص طور پر ریاستی ادارے بنتے بگڑتے رہتے ہیں، ان میں وقت گزرنے کیساتھ جدید زمانے سے ہم آہنگی کیلئے ترمیم و تبدیلی بھی کرنا پڑتی ہے مگر ہمارا معاملہ الٹ رہا، اول تو ہم نے افراد اور اداروں کو بدلتے حالات کے تناظر میں جدید بنانے کی کوشش ہی نہیں کی جس کے باعث اداروں پر جمود طاری ہو گیا اور یہ عوام کو ریلیف دینے میں معاون ثابت نہیں ہو رہے۔ شاید یہ بھی ہوا کہ اداروں اور افراد میں حالات کیساتھ نمودار ہونے والی خامیوں پر قابو پانے کی کوئی باقاعدہ کوشش نہیں کی گئی،البتہ شکایات اور مشکلات کے وقت ہنگامی اور وقتی ترامیم کی سعی ضرور ہوتی رہی مگر مستقل بنیاد پر کوئی ایسا میکنزم آج تک تشکیل نہ دیا جا سکا جس کے تحت در آنے والی خامیوں پر بر وقت قابو پایا جا سکتا۔سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آنے والے فیصلہ اور ایک معزز جج کے ریمارکس نے عدالتی نظام کے متعلق بھی سوالات اٹھا دئے ہیں ،ہر کس و نا کس آئین سے آگاہ یا نا بلد شخص تنقید کے تیر برسانے میں مصروف ہے،جس کے منہ میں جو آرہا ہے کہے جا رہا ہے،اداروں کے تقدس کا کوئی اہتمام ہے نہ ملکی احترام سے کوئی غرض ہے۔

مشرف کیخلاف آنے والے فیصلہ سے جو جگ ہنسائی ہونا تھی وہ تو ہوئی مگر بعد میں ہونے والی توہین، تضحیک، تنقید نے باقاعدہ ہمیں عالمی برادری میں تماشا بنا دیا ہے،عدالتی فیصلوں پر اعتراضات کسی حد تک قابل برداشت مگر یہاں تو ججوں کی ذہنی حالت پر ہی شکوک و شبہات کا کھل کر اظہار اور ان کے ذہنی معائنہ کے مطالبات ہونے لگے۔کسی تجزیہ کار،تبصرہ نگار، ناقد، ماہر قانون نے نظام انصاف میں پائی جانے والی قباحتوں کی نشان دہی کی نہ کسی نے اصلاح احوال کیلئے کوئی تجویز دی اور یہ طرز عمل المیہ سے کم نہیں۔

کسی بھی ملک میں دفاع، انصاف کے ادارے انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ان دونوں اداروں کو دیگر اداروں پر نہ صرف اہمیت دی جاتی ہے بلکہ ان کے مسائل کو بھی ترجیحی بنیاد پر حل کیا جاتا ہے تاکہ شہریوں کو انصاف بھی ملتا رہے اور ملک کی سرحدیں بھی محفوط رہیں،مگر بد قسمتی سے ہماری اجتماعی عاقبت نا اندیشی سے دفاع اور انصاف فراہمی کے ذمہ دار اداروں میں ہی تصادم اور محاذ آرائی کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، جو ملک دشمنی اور سازش سے کم نہیں،منافرت کی ابتداء چند روز یا مہینے پہلے کی نہیں،جنرل مشرف نے 2007ء میں جب ایمرجنسی نافذ کی اور اعلٰی عدلیہ کے ججوں کو پی سی او کے تحت دوبارہ حلف اٹھانے کا کہا تو61کے قریب ججوں نے حلف اٹھانے سے انکار کر دیا، مشرف نے ان ججوں کو معطل کر کے نظر بند کردیا، اور یہاں سے دو اداروں میں مخاصمت کا آغاز ہوا،اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے بحالی کے بعد ججز بحالی تحریک کے سرکردہ رہنماؤں اور پرجوش وکلاء کو جج نامزد کیا،ان میں جوش اور اشتعال آج بھی پایا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وکیل حضرات ایک اینگری گروپ بن گیا،جو ہر وقت مارنے مرنے پر تلا رہتا ہے۔

ججز کی تقرری، طریق کار کے مطابق جوڈیشل کمیٹی کی سفارش پر صدر مملکت کرتے ہیں، جوڈیشل کمیٹی کے سربراہ چیف جسٹس سپریم کورٹ ہوتے ہیں اور ہر دور من پسند چیمبرز اور افراد کی تقرری کی گئی ،چیف جسٹس (ر)افتخار چودھری کے زمانے کے تقرر کردہ جج آج بھی مشرف کیخلاف بغض رکھتے ہیں اسی لئے آرمی چیف کی تقرری کو متنازع بنایا گیا، اور مشرف کو غیر انسانی سزا سنائی گئی، اگرچہ کچھ جج سیشن ججز کے کوٹہ سے بھی لئے جاتے ہیں تاہم اکثریت کا تقرر گروپ بندی کی بنیاد پر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ نواز شریف کو اب بھی عدالتوں سے ریلیف مل رہا ہے، اس تلخ صورتحال کے بعد اب ضروری ہو گیا ہے کہ ذاتی پسند کی بجائے انصاف فراہم کرنے والے جج تعینات کئے جائیں جو غیر جانبدار بھی ہوں۔

اب تلخ تجربے کے بعد ججز کی براہ راست تقرری،سیاسی وکلاء کو ججز بنانے کے بجائے مقابلہ کے امتحان کے ذریعے جج تعینات کئے جائیں،اس سلسلہ میں فیڈرل سروس کمیشن کی طرز پر ایک کمیشن بنایا جائے جو جج بننے کے امیدواروں سے سخت امتحان لے امیدواروں کا جسمانی اور ذہنی معائنہ بھی کیا جائے،ان کے حوالے سے خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے ایک رپورٹ تیار کرائی جائے اور دیکھا جائے کہ کوئی امیدوار کبھی کسی سیاسی اخلاقی جرم میں ملوث تو نہیں رہا، اس پر کرپشن کا کوئی الزام تو نہیں ان کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو قانون کیساتھ ان کی اخلاقی تربیت کو بھی مدنظر رکھا جائے،اس حوالے سے میرٹ کا بھی ایک خود کار میکنزم ہونا ضروری ہے۔

جس طرح آرمی میں شمولیت صرف ملازمت کیلئے نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے ملک و قوم کی خدمت، حفاظت اور قربانی کا جزبہ بھی کارفرما ہوتا ہے، سول سروس میں آنے والے لوگ صرف تنخواہ کی بجائے انتظامی بہتری اور اصلاح کا ماٹو لے کر آتے ہیں۔ ایسے ہی جج کی کرسی پر بیٹھنا بھی صرف ملازمت کا حصول نہیں ہونا چاہئے، بلکہ جج کے پیش نظر مظلوم مجبور لوگوں کو انصاف کی بروقت فراہمی مقصد ہونا چاہئے، جج کا عہدہ صرف پر کشش نوکری نہیں بلکہ ایک مشن کا نام ہونا چاہئے،جسٹس منیر نے 1958ء میں نظریہ ضرورت دیااور اس کے بعد آج تک ہر معاملہ نظریہ ضرورت کے تحت چل رہا ہے، چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی عدالت پر ن لیگی کارکنوں کے حملے کے بعد عدالت سیاسی ہو گئی، چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی اپنے مربی نواز شریف کو خوش کرتے رہے،چیف جسٹس افتخار چودھری باقاعدی سیاسی چیف جسٹس بن گئے اور زرداری دور میں اپوزیشن کا کردار سنبھال لیا، اپنے محسن نواز شریف کوراضی کرنے کیلئے روز از خود اختیارکے تحت نوٹس لیکر حکومتی اور انتظامی معاملات میں مداخلت کرتے رہے،21ویں اور 22ویں گریڈ کے اعلیٰ افسروں کو اپنی عدالت میں ہاتھ باندھ کر کھڑا کئے رکھتے،ان کے دور میں حکومت اور انتظامیہ بلکہ مقننہ کی حیثیت بھی صفر ہو کے رہ گئی تھی،چیف جسٹس ثاقب نثار نے فعال عدلیہ کے تحت عوامی مسائل کو اٹھایا وہ ان معاملات کو لیکر چلے جن کو ماضی میں کسی نے اہمیت نہیں دی تھی،اگرچہ ان پر بھی بے تحاشا تنقید کی گئی مگر وہ ایک عوامی چیف جسٹس ثابت ہوئے،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ان معاملات کو چھیڑا جن کے بعد ادارے آمنے سامنے آکھڑے ہوئے،جس کے بعد اس بات کی سخت ضرورت محسوس ہوئی کہ ججوں کی تقرری اور تعیناتی کے حوالے سے باقاعدہ ایک ایسا نظام وضع کیا جائے جس کے تحت مقرر ہونے والے جج عدالتی نظام انصاف کی فراہمی اور ماتحت عدلیہ میں پائی جانے والی خامیوں پر توجہ دیں،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ماڈل کورٹس اور آن لائن مقدمات کی سماعت کے حوالے سے اہم اقدام کیا تھا، مگر ان کا یہ اچھا کام سابق اور حالیہ آرمی چیف کے حوالے سے فیصلوں میں دب کر رہ گیا۔

وقت آ گیاججوں کی تقرری بھی ایک باقاعدہ اور سخت امتحان کے بعد ہونی چاہئے اور تقرری کے بعد ان کی تربیت کا اہتمام ہونا چاہئے، اگر چہ تربیت کا اہتمام ہے مگر ماتحت عدلیہ کے ججوں اور مجسٹریٹس کیلئے ہے،اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کیلئے بھی تربیت کو لازمی قرار دینا چاہئے، تقرری کے وقت اس بات کو بھی ملحوظ رکھا جائے کہ وکلاء سیاست میں سرگرم وکلاء جج نہ بن سکیں۔اعلیٰ عدلیہ میں زیادہ تر خرابی کی وجہ یہی وکلاء ہیں جو جج کی معزز کرسی پر بیٹھنے کے بعد بھی وکیل لیڈر ہی رہتے ہیں،اس لئے ضروری ہے کہ ججوں کی تقرری کیلئے ایک فول پروف نظام تشکیل دیا جائے تاکہ انصاف فراہم کرنیوالے حساس عہدے پر سنجیدہ لوگ ہی منتخب ہو کر آئیں اور پھر ان کی تربیت بھی ہو جائے تو یہ سونے پر سہاگہ ہو گا۔

مزید : رائے /کالم