جدید وار ٹیکنالوجی اور قرآن فہمی

جدید وار ٹیکنالوجی اور قرآن فہمی
جدید وار ٹیکنالوجی اور قرآن فہمی

  

عصرِ موجود میں جس ٹیکنالوجی نے برق رفتار ترقی کی ہے وہ ڈرون کہلاتی ہے جو وار ٹیکنالوجی ہی کی ایک شاخ ہے۔

جب 1903ء میں ہوائی جہاز ایجاد ہوا تھا تو کسی کے سان گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ اسی 20ویں صدی میں دو عالمی جنگیں لڑی جائیں گی جن میں ہوائی جہاز ایک اہم رول ادا کرے گا۔فضا اور اس کے اوپر خلا کی وسعتیں بے کنار تھیں لیکن ہوائی جہاز کی فضائی مشین نے دیکھتے ہی دیکھتے پہلی جنگ عظیم میں ایک کلیدی کردار ادا کیا اور پھر 21برس بعد 1939ء میں شروع ہونے والی دوسری عالمی جنگ میں اسی مشین نے ایک ایسا رول ادا کیا جو جنگ و جدال کی دنیا میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امر ہو گیا۔

امریکہ نے اگرچہ 1940ء کے عشرے میں ایٹم بم بنانے کے لئے ”پراجیکٹ مین ہٹن“ لانچ کیا تھا لیکن جب یہ بم بن چکا اور جولائی 1945ء میں اس کا کامیاب تجربہ بھی ہو چکا تو یہ دنیا کا خطرناک ترین ہتھیار ہونے کے باوجود انگریزی محاورے کے مطابق ایک بیٹھی ہوئی بطخ (Sitting Duck) تھی۔ اس کو دشمن کی طرف لے جانے اور اس پر گرانے کے لئے ہوائی جہاز کام آیا۔ بی۔29بمبار طیارے میں اسے لاد کر امریکہ سے جاپان لے جایا گیا اور دو جاپانی شہروں پر گرا کر یہ دوسری عالمی جنگ ختم کی گئی۔ کہا جا سکتا ہے کہ اس جنگ کے خاتمے کے لئے اگرچہ جوہری بم کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا لیکن عسکری ماہرین کے مطابق ہوائی جہاز بھی اس ’اعزاز‘ میں ففٹی ففٹی کا شریکِ کار اور حقدار تھا۔

جوہری بم کی عالمگیر تباہ کاری کے بعد بھی حضرتِ انسان کی حرص و آز میں کوئی کمی نہ ہوئی۔ ماہرین کہتے رہ گئے کہ کرۂ ارض کے پورے پانچ بڑے براعظموں کی آبادیاں موت کے منہ میں دھکیلنے کے لئے صرف 50بم ہی کافی ہیں لیکن انسان نے 50کی بجائے ہزاروں بم تیار کرکے آرڈننس سٹوروں میں رکھ دیئے…… اسے کچھ خبر نہ تھی کہ ان کو استعمال بھی کیا جا سکے گا یا نہیں۔ وہ دن اور آج کا دن، حضرتِ انسان جوہری جنگ کے دہانے پر بیٹھا ہے۔ ان ہزاروں بموں کو دنیا کے دور دراز کونوں تک لے جانے کے لئے ہزاروں بی۔29 بھی بنا لئے گئے۔(ان کا تازہ ترین ورشن بی۔52 بمبار تھا جو بی۔29کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ جدید اور کار آمد تھا)

انسانی دماغ میں عالمی حکمرانی کا کیڑا تو شاید ازل سے موجود تھا۔ جنگ کی تاریخ پڑھ کر دیکھیں۔ ہزاروں لاکھوں انسان لاتعداد جنگوں میں اسی اشرف المخلوق نے اپنی دیکھتی آنکھوں کے سامنے ہلاک کر دیئے لیکن اس کی خون آشامی کی پیاس پھر بھی نہ بجھ سکی۔ اس کے دماغ میں یہ کیڑا اب تک رینگ کر اِدھر اُدھر آ جا رہا ہے اور اس کے طفیل نت نئی مہلک ایجادات وجود میں آ رہی ہیں۔ کیا فضا، کیا زمین اور کیا سمندر، انسان نے اس کرۂ ارض کا کونہ کونہ چھاننے کے بعد خلاؤں کا رخ کیا اور بلیک ہول تک چلا گیا۔ میں کل ہی NASA کی طرف سے جاری کی گئی مریخ کی ایک تصویر دیکھ رہا تھا جو اس پر اترنے والی خلائی گاڑی نے زمین پر بھیجی تھی۔ یہ تصویر کیا تھی، ایک گول سا بے جان کرۂ تھا جس کی گولائی اور ’بے جانی‘ میں کوئی نئی بات نہ تھی۔

اب جوں جوں انسان خلائی سفروں کے انکشافات دیکھتا جاتا ہے اور اس کے ثبوت ہم زمین والوں کو دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں توں توں یہ حقیقت پایہء ثبوت کو پہنچتی جاتی ہے کہ اس کائنات کے اجزامِ فلکی میں اگر کوئی ایسا کرّہ موجود ہے کہ جس میں زندگی پائی جاتی ہے تو وہ صرف کرۂ زمین ہے…… اس کرۂ زمین کی حقیقت کیا ہے، خود حضرتِ انسان کی زندگی کی حقیقت کیا ہے اور اس کی موت کا راز کیا ہے یہ وہ سوال ہیں جو ہمیں خدا کی موجودگی کا پتہ دیتے ہیں اور الہامی کتابوں میں فرمائی گئی صداقتوں کا سراغ دیتے ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ جب کبھی مستقبلِ بعید میں انسان  خلاؤں کی تمام وسعتوں کو کھنگال لے گا اور خدا کی الہامی کتابوں کا مطالعہ کرے گا تو پکار اٹھے گا کہ ان صحیفوں کی ایک ایک سطر برحق ہے …… میں جب بھی ان نت نئی انسانی ایجادوں کی ہمہ گیریت پر نظر ڈالتا ہوں تو ان کی نہائتوں کے اختتامی مرحلوں کا اندازہ صرف اور صرف قرآن کی آیات میں ملتا ہے…… میں ہرگز کوئی عالمِ دین نہیں لیکن اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ جہاں فکرِ انسانی عاجز آ جاتی ہے اور کسی سوال کا جواب نہیں ڈھونڈ پاتی تو قرآنِ حکیم کھولتا ہوں اور اس کا جواب مل جاتا ہے! مثال کے طور پر میں نے سطورِ بالا میں حضرتِ انسان کی خوں آشامی کا ذکر کیا ہے۔ جوہری بموں کی کثرت کا رونا رویا ہے، ایک انسانی لشکر کو دوسرے انسانی لشکر کو تہہ تیغ کرنے کے لئے انسانی دماغ میں رینگنے والے کیڑے کا ذکر کیا ہے تو اس تانے بانے کا واحد جواب قرآنِ مجید کی آیاتِ مبارکہ میں مل جاتا ہے۔

ارشاد ربانی ہے کہ جب خدا نے اس خاکی انسان کو پیدا کیا اور فرشتوں کو اس کے آگے سرتسلیم خم کرنے کو کہا تو فرشتوں نے کہا کہ اے خدا! آپ اس مخلوق کو پیدا تو کر رہے ہیں لیکن یہ زمین میں فساد پھیلائے گا اور خونریزیاں کرے گا۔ اس پر خالقِ کائنات نے فرمایا جو کچھ میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے…… سورۂ بقرہ کی آیت نمبر30کا ترجمہ ملاحظہ کیجئے: ”پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ ”میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں“۔ انہوں نے عرض کیا ”کیا آپ ہم میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خونریزیاں کرے گاَ؟…… آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کے لئے تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں“۔ فرمایا: ”میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے“

یہ ترجمہ مولانا مودودی کا ہے۔ ان کے علاوہ احمد رضا خان، احمد علی، فتح محمد جالندھری، میاں محمد جونا گڑھی، محمد حسین نجفی، علامہ جوادی اور علامہ طاہر القادری سب نے عین مین یہی ترجمہ کیا ہے۔ اس آیت سے درج ذیل باتیں سامنے آتی ہیں:

1۔ انسان خدا کے انتظام میں رد و بدل پیدا کرے گا۔

2۔ انسان خونریزیاں کرے گا۔

3۔ جو کچھ فرشتوں کے علم میں نہیں، وہ خدا کو معلوم ہے۔

مفسرین نے درجِ بالا ان تین حقائق کی تفصیل بتاتے ہوئے بیان کیا ہے کہ اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ انسان اس کے بنائے ہوئے نظام کو بگاڑے گا اور اس میں رد و بدل پیدا کرے گا(یہ شکوک فرشتوں کے تھے)…… رب کائنات نے یہ بھی نہیں فرمایا کہ یہ خلیفہ جو میں زمین پر بھیج رہا ہوں یا یہاں عرش پر اس کو مقیم کر رہا ہوں یہ جنگ و جدال، کشت و قتال اور خونریزیاں نہیں کرے گا؟ کسی کا خون نہیں بہائے گا اور کسی کی جان نہیں لے گا…… اور پھر فرمایا کہ دیکھو جو کچھ میں جانتا ہوں، تم کو معلوم نہیں۔

اس آیتِ کریمہ سے جن تین حقائق کا اثبات ہوتا ہے ان میں پہلی حقیقت یہ ہے کہ انسان اللہ کی بنائی ترتیب میں بگاڑ پیدا کرنے کا ازل سے ہی مجرم ہے…… سو وہ کر رہا ہے۔ جوہری بم کی تخلیق، اس کا استعمال، فضاؤں کے بعد خلاؤں کی تسخیر کی کوششیں، یہ سب کچھ اگر ’بگاڑ‘ نہیں تو اور کیا ہے؟ ایک قوم دوسری قوم پر غالب آ جاتی ہے تو تیسری قوم دوسری کو ملیا میٹ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ سلسلہ ازل سے جاری ہے اور ابد تک رہے گا…… دوسری حقیقت انسان کی اس خوئے قتل و غارت گری کے بارے میں ہے کہ خوں ریزی اس کی تقدیر میں لکھی ہے۔ یہ جو آئے روز ہم جنگوں کی بھٹی دہکاتے ہیں اور بنی نوع انسان ان کا ایندھن بنتا ہے تو یہ خدا کی رضا ہی تو ہے!…… اور تیسری حقیقت یہ ہے کہ انسان کسی بھی کائناتی گتھی کو سلجھا نہیں سکتا کیونکہ جو کچھ خدا کو معلوم ہے، اس سے انسان بیگانہ ء محض ہے۔

چنانچہ بنی نوعِ انسان کو آئندہ کی وار ٹیکنالوجی کے ’طفیل‘ جن ایجادات سے واسطہ پڑنے والا ہے وہ اگر آج انسان کی دسترس میں نہیں تو کل ضرور ہوں گی۔ لیکن اس ٹیکنالوجی سے انسانی سرشت میں امن و امان،  سلامتی اور استحکام نہیں آئے گا۔

پس ثابت ہوا کہ اقوامِ عالم جو کچھ کر رہی ہیں، جس نشیب و فراز کی طرف انسان سرگرم سفر ہے اور جس شکست و ریخت اور پھر تعمیر و ترقی کا معمار ہے تو یہ اکھاڑ پچھاڑ اور پھر آباد کاری اس کی تقدیر میں ہے۔ اللہ کی تقدیر ہمیشہ پوری ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں بطورِ انسان وہ کچھ کرنا چاہیے جس کا گلہ فرشتوں نے کیا تھا اور اللہ نے ان کو یہ کہہ کر چپ کرا دیا تھا کہ جو کچھ میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے…… رہا یہ سوال کہ خدا کیا جانتا ہے اور فرشتے کیا نہیں جانتے تھے تو اس کا جواب انسان کو کفر کے دروازے تک لے جا سکتا ہے۔ قرآن کریم میں نفی و اثبات کے جو ہزارہا رنگ و روپ تحریر فرمائے اور بتائے گئے ہیں ان کو دیکھنا اور سمجھنا صرف اور صرف قرآن کو پڑھنے اور سمجھنے ہی سے آ سکتا ہے!

مزید :

رائے -کالم -