خانیوال سنگسار کیس :کیا آئی جی پنجاب اس قابل ہیں کہ تعینات رہیں دیکھتے ہیں وزیر اعظم کیسے ان کیخلاف اقدام نہیں کرتے چیف جسٹس

خانیوال سنگسار کیس :کیا آئی جی پنجاب اس قابل ہیں کہ تعینات رہیں دیکھتے ہیں ...

  

اسلام آباد (خبرنگار) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے خانیوال میں بے گناہ خاتون کو سنگسار کر کے موت کے گھاٹ اتارنے کے کیس میں پولیس رپورٹس مسترد کرتے ہوئے آئی جی پنجاب،ڈی آئی جی پنجاب سمیت گیارہ پولیس افسران کے خلاف 3 روز میں کارروائی کر کے رپورٹ رجسٹرار ارسال کرنے کا حکم دیا ہے۔جبکہ چیف جسٹس نے افتخار محمدچودھری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہیں کہ مرگ رپورٹ کچھ کہتی ہے جبکہ پوسٹ مارٹم میں کچھ اور ہے، لگتا ہے کہ سب ملے ہوئے ہیں، کیا یہ آئی جی اِس قابل ہے کہ تعینات رہے، دیکھتے ہیں کہ کیسے وزیراعظم، اس آئی جی کے خلاف اقدام نہیں کرتا؟ آئی جی پنجاب اور متعلقہ ڈی پی او وہاں موجود تھے۔پولیس آفیسرز نے کہاکہ خاتون کی موت گلا گھونٹنے کی وجہ سے ہوئی اور اسے اس کے شوہر نے مارا تھا،فرانزک رپورٹ آچکی ہے۔چیف جسٹس نے آئی جی کو مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ آپ کا کام ، پروٹوکول دینا نہیں، آپ کے علاقے میں ایک عورت کو پتھر ماکر سنگسار کردیاگیا،شوہراٹھالیاگیا،عدالت نے نوٹس لیا تو شوہر 10منٹ بعد نہر کنارے سوتا مل گیا، لگتا ہے کہ وہ شخص ،پولیس کے پاس ہی تھا۔عدالت نے خاتون کی ہلاکت و بعد از تحقیقات سے متعلق پولیس دستاویز ڈی پی او کو پڑھوائیں۔ راجے چھوٹ جائیں اور غریب مارا جائے یہ ہم نہیں ہونے دینگے ‘ کبھی اپنی فیور نہیں کی تو دوسروں کی کیا خاک کریں گے۔ جس نے ایک شخص کو قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا‘ آئی جی پنجاب نجانے کس کے انتخابات میں کامیابی کے لئے دورے کرتا پھر رہا ہے اور صوبے میں جرائم پیشہ عناصر کا راج ہے ‘ امن و امان کے حالات پولیس کے صحیح کام نہ کرنے سے ابتر ہو چکے ہیں ‘ اگر پولیس صحیح کام کر رہی ہوتی تو آج کہیں جرم نظر نہ آتا‘ اگر امریکی صدر اپنی انتخابی مہم چھوڑ کر 14 افراد کے قتل کی تحقیقات بارے پوچھ سکتا ہے تو ہمارے حکمران ایسا کیوں نہیں کر سکتے‘ خدا کا خوف نہ کرنے والے ظالموابھی تمہاری رسی دراز ہے لیکن یاد رکھو تمہارا انجام قریب ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ انتظامیہ کا کام ہم کر رہے ہیں‘ فیڈریشن اور صوبوں میں اگر حکومتیں اپنا کام صحیح کریں تو عدالت کا قیمتی وقت بچایا جا سکتاہے ‘آج بھی انہی کے کئے کو بھگت رہے ہیں۔ راجے چھوٹ گئے جبکہ پولیس ایک بے گناہ شخص کو قتل کے مقدمہ میں پھنسانے کےلئے رسی ڈھونڈتی پھر رہی ہے۔یہ خون ناحق ہے جو کبھی رائیگاں نہیں جائیگا۔پیرکو سماعت شروع ہوئی توآئی جی پنجاب اور حکومت پنجاب کی جانب سے عدالت کوبتایا گیا کہ 35سالہ خاتون اور 5 بچوں کی ماں مریم کو اس کے اپنے ہی خاوند نے سر میں اینٹیں مارمارکر قتل کردیا تھا اس نے اعتراف جرم کر لیا ہے اوراس وقت پولیس کی تحویل میں ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اشترا اوصاف نے عدالت کو مزید بتایا کہ عدالت کی جانب سے نوٹس لینے کے بعد ایک اعلیٰ سطحی پولیس افسران کی تفتیشی ٹیم مقرر کر دی گئی ہے جو اس سارے معاملے کو دیکھ رہی ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ یہ کیسا انصاف ہے کہ اگر عدالت نوٹس لے تو 10 ہی منٹ میں مطلوبہ بندہ نہر کے کنارے سویا ہوا مل جاتا ہے جبکہ لاکھوں بے گناہ پولیس کے دروازے پر سر رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں مگر ان کی کوئی سننے والا نہیں ہوتا۔ اس دوران چیف جسٹس نے پولیس کی ضمنی ڈاکٹر کی جانب سے جاری کردہ میڈیکل رپورٹ اوردیگر کئی اہم دستاویزات باری باری پڑھ کر سنائیں اور واضح کیا کہ پولیس نے کسی کام میں بھی انصاف سے کام نہیں لیا ہے۔ ڈاکٹر کہہ رہا ہے کہ ملزم نے خاتون کو پھانسی نہیں دی ہلکا سا ٹھوڑی پر نشان ہے جبکہ پولیس رسی کو ٹھوس شواہد بنا کر سرفراز احمد کو قاتل ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ دوران سماعت سرفراز کے والد عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کوبتایا کہ ان کے گھر میں اگر بچے بھی روئیں تو ان کی آواز 10 گھر سنتے ہیں کمال تو یہ ہے کہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے بیٹے نے خاتون کے سر میں اینٹیں مار مار کر اسے قتل کر دیا اور کہیں آس پڑوس میں اس کی آواز تک نہیں گئی۔ وقوعہ گھر سے باہر ہو رہاہے اوراس میں ہمارے اپنے مخالف راجے ملوث ہیں جن کے ساتھ گھاس کے معاملے پر جھگڑا ہوا تھا اور انہوں نے میری بہو کو مارا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ تمام شواہد واقعات اور پولیس کی اپنی رپورٹ یہ ثابت کرتی ہے کہ سرفراز کے والد کی جانب سے تھانے میں درج کرائی گی ایف آئی آر درست ہے تاہم پولیس نے جان بوجھ کر نئی کہانیاں گھڑی ہیں اور شک پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہم کسی کو کچھ نہیں کہتے ہم فقط دونوں حکومتوں (وفاق اور پنجاب)کو لکھ رہے ہیں کہ اگر آپ کے آئی جی ایسے افسران ہیں تو پھر صوبے کا اللہ ہی حافظ ہے۔ جو قانون کے مطابق کارروائی بنتی ہے وہ کی جائے اور رپورٹ رجسٹرار سپریم کورٹ کو ارسال کی جائے ۔عدالت نے اس ساتھ ہی لیاگیا ازخود نوٹس بھی نمٹادیا۔

مزید :

صفحہ اول -