شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال

شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال
شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال
کیپشن: pic

  

2013ءمیں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر نے ہسپتال میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور خدمات کے سلسلے میں متعدد اقدامات اٹھائے ،تاکہ نہ صرف عالمی سطح پر کینسر کے علاج میں تیزی سے ہونے والی ترقی کے ساتھ اپنی رفتار کو برقرار رکھا جاسکے ،بلکہ ہسپتال کی بڑھتی ہوئی طبّی ضروریات سے بھی نبرد آزما ہوا جاسکے۔ کینسر کے مریضوں کو اعلیٰ درجے کی نگہداشت فراہم کرنا ہسپتال کا مشن ہے ، قطع نظر اس کے کہ وہ مریض علاج کے اخراجات ادا کرسکتے ہیں یا نہیں۔ اپنے مشن کے مطابق ، ہم تقریباً دو عشروں سے 75فیصد مریضوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کررہے ہےں۔ دسمبر 1994ءمیں اپنے قیام سے لے کر اب تک ہسپتال نے کینسر کے ضرورت مند مریضوں کے علاج پرتقریباً 15ارب روپے خرچ کئے ہےں، ان مریضوں کا تعلق نہ صرف ہمارے ملک، بلکہ ہمسایہ ملک افغانستان سے بھی ہے۔صرف 2013ءمیں اس مد میں ہسپتال کی طرف سے 2.7ارب روپے خرچ کئے گئے۔

2013ءمیں 9,211نئے مریضوں کو رجسٹرکیا گیا ،جبکہ آو¿ٹ ڈور پیشنٹ میں تقریباً 175,000 مریضوں کا معائنہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ کیمو تھراپی سیشن، ریڈی ایشن ٹریٹمنٹ اور سرجیکل پروسیجرز کی تعداد میں بھی گزشتہ سال کی نسبت اضافہ ہوا۔ ہسپتال کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ مریضوں کو معالجاتی سہولتوں کی فراہمی کے لئے اپنی گنجائش میں اضافہ کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے، ایک نئے شارٹ سٹے یونٹ.... Short Stay Unit.... کے ساتھ ساتھ ڈسچارج لاو¿نج (Discharge Lounge) کا افتتاح کیا گیا اور دو نئے لینئر ایکسل ریٹرز (Linear Accelerators) کی تنصیب کے لئے ریڈی ایشن بنکرز تعمیر کئے گئے۔ ان نئی جدید ریڈی ایشن مشینوں کی تنصیب کے بعد،ہسپتال کا ریڈی ایشن تھراپی ڈیپارٹمنٹ یہ سہولت فراہم کرنے والا ملک کا سب سے بڑا ادارہ بن گیا ہے اور اس کا شمار خطے کے بڑے اداروں میں ہو نے لگا ہے۔ کینسر کی تشخیص میں جدید ترین سہولتیں فراہم کرنے کے لئے ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں نئی ایم آر آئی اور سی ٹی سکین مشینوں کی تنصیب کی گئی اور ایک بڑی تعداد میں نئے پیتھالوجی ٹیسٹ متعارف کروائے گئے۔

پشاور میں دوسرے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے۔ یہ نیوز لیٹر آپ کو موصول ہونے تک، اس ہسپتال کی پانچ منزلوں بشمول دو بیسمنٹ فلورزکی تعمیر مکمل ہوچکی ہوگی۔ہمیں امید ہے کہ 2014ءکے آخر تک اس ہسپتال کی عمارت کی تعمیر مکمل ہوجائے گی اور عوام کے لئے یہ ہسپتال 2015ءکے آخر یا 2016ءکے اوائل میں کھول دیا جائے گا۔اس سال پشاور واک اِن کلینک کو بھی حیات آباد میں پشاور ہسپتال کی نئی سائٹ پر منتقل کردیا گیا ہے جس سے شوکت خانم کینسر ہسپتال پشاور میں مریضوں کے لئے طبّی سہولت کی فراہمی کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔ ملتان میں ایک نئے واک اِن کلینک کا قیام ہوچکا ہے جس سے جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے مریض بھی استفادہ کرسکیں گے۔ہسپتال کا 2014ءکا بجٹ 6.8ارب روپے ہے۔ اپنے بجٹ کا نصف یہ ہسپتال اپنے ذرائع سے ،جبکہ باقی نصف عوام کی زکوٰة و عطیات کی مدد سے حاصل کرتا ہے۔ ٭

مزید :

کالم -