اولڈٹریفڈ ٹیسٹ دوسرا دن،وکٹ کیپر اور ظفر محمود

اولڈٹریفڈ ٹیسٹ دوسرا دن،وکٹ کیپر اور ظفر محمود
 اولڈٹریفڈ ٹیسٹ دوسرا دن،وکٹ کیپر اور ظفر محمود

  

اولڈٹریفڈ میں موسمی حالات اور وکٹ لارڈز سے بالکل مختلف ہے اور یوں لگتا ہے کہ اُونچی شہرت والے بیٹسمین بڑے رنز کریں گے۔ وکٹ بناتے وقت گراؤنڈانتظامیہ نے پاکستان کی باؤلنگ کی طا قت کے پیش نظر اپنے لئے سازگار وکٹ تیار کی ہے۔ پہلی اننگزز میں کک نے چائے سے پہلے بحیثیت کپتان اپنی گیارویں سنچری مکمل کی جبکہ روٹ نے جس اندازسے بیٹنگ کی یوں محسو س ہو رہا تھا جیسے اُن کے سامنے پاکستان کاباؤلنگ اٹیک بالکل بے اثر اور معمو لی ہے اس دوران محمد عامر جستجو میں لگے رہے اور بالآخرکک کو آؤٹ کرکے ایک بڑی پارٹنر شپ ختم کردی۔روٹس کے سٹروکس انتہائی جاندار اور شاندار تھے اور یوں وہ ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی دوسری شاندار ڈبل سینچری بنا کآاگے بڑھتے رھے۔ اولڈٹریفڈ کی وکٹ بڑے بیٹسمینوں کے لیے تحفہ ہے۔پاکستان کے با ؤلرز نے انفرادی طور پر سینکڑوں میں رنز دے ڈا لے اس صورت میں یوں اندازہ ہوا کہ پاکستان کی طرف سے بھی یونس ،مصباح ،اظہر علی ،حفیظ اور اسد شفیق کے علاوہ سرفراز رنز بنائیں گے۔ مہمان ٹیم کے بیٹسمین وکٹ کے باؤنس ما حول اور نوعیت کا بغور مشاہدہ کرچکے ہیں۔ پاکستان کو جو سبقت اس ٹیسٹ میچ میں حاصل ہے وہ اس کی گزشتہ شاندار کامیابی ہے جس کی بنیاد پر اس سیریز میں اسے ایک صفر کی برتری حا صل ہے۔ انگلینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیسٹ میچ پر اپنی برتری قائم کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے اب اس ٹیسٹ میں پاکستان کے بیٹسمینوں پر بھاری ذمہ داری ہے اور انہیں کے دم سے اس ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی کامیابی کا امکان یا پھر بچاؤ کا دارومدار ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مایہ ناز لیگ سپنر یاسر شاہ پاکستان کی کامیابی کے لیے جزو اوّل کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں انکا کامیاب نہ ہونا مخالفین کے حوصلے بڑھادیتا ہے ۔ انگلینڈ کی اننگز کے دوران کپتان مصباح الحق نے کچھ دیر کے لیے اظہر علی کو بھی متعارف کروایا جو کہ ایک قدرتی لیگ سپنر ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کو زیادہ تعداد میں اوورز اور باؤلنگ کے مواقع ملنے چاہئیں۔ دوسرے ٹیسٹ میں تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے سٹینڈدیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر ٹیسٹ میچز نتیجہ خیز ثابت ہوں تو عوام ابھی بھی اس طرز کی کرکٹ کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔

لارڈز میں پہلے ٹیسٹ میں تاریخی کامیابی کے بعد ٹیم سے پرفارمنس کے حوالے سے توقعات کا پھیل جانا قدرتی عمل ہے۔ پاکستان کی کرکٹ میں یہ ایک خوبصورت موقع تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اولڈ ٹریفڈ کے لیے انگلینڈ نے اپنی بہترین ٹیم کا اعلان کیا ہے۔ وہ پاکستان کی برتری کو ضائع کرنے کی پوری کوشش کریں گے بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ وہ جلد جیتنے والی پوزیشن میں بھی آسکتے ہیں۔میچ جتوانے والے سٹروکس اور اینڈرسن ٹیم میں واپس آچکے ہیں ۔کرکٹ میں ہر میچ مختلف ہوتا ہے یقیناًاس کا احساس پرفارمنس دینے والے کھلاڑی مصباح ، یونس اور اسد شفیق کوبھی ہوگا۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ پاکستان کی فاسٹ باؤلنگ کا شعبہ ابھی مکمل طور پر توقعات پر پورا نہیں اترا۔ جبکہ اس ضمن میں پاکستان کے شان مسعود ،حفیظ اور اظہر علی قابل ذکر پرفارمنس نہیں دے سکے۔ بہر حال سپن کے شعبے میں یاسر شاہ کی جارحانہ باؤلنگ نے انگلستان کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ ماضی میں حفیظ کی بحیثیت ایک کھلا ڑی کارکردگی اور رویہ مختلف اوقات میں مختلف رہا ہے۔ فیلڈنگ کے شعبے میں پاکستان کی روایتی کمزوری اب بھی برقرار ہے۔ پاکستان میں میڈیا میں بعض بہترین کھلاڑیوں کے حوالے سے بغیر کسی بنیاد کے ادھر ادھر کی باتیں کی جاتی ہیں۔ قومی ٹیم میں وکٹ کیپر کا شعبہ گزشتہ کئی سال سے ردوبدل اور پست پرفارمنس کا حامل رہاہے۔ سرفراز کی صورت میں پاکستان کو ایک بہترین بیٹسمین مل چکا ہے۔ جواچھی وکٹ کیپنگ بھی کرلیتے ہیں۔ انگلستان میں کرکٹ میں وکٹ کے آگے اور وکٹ کے پیچھے گیند کافی سوئنگ کرتا ہے جس کے لیے وکٹ کیپر کا غیر معمولی صلا حیتوں کا حامل ہونا ضروری ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جان بوجھ کر پاکستان کے وکٹ کیپنگ کے شعبے کو کمزور کیا گیا ہے۔قومی افق پر اس وقت عدنان اکمل قدرتی صلاحیتوں سے مالا مال بہترین وکٹ کیپر ہیں۔

سلیکٹرز کو انگلینڈ کے طویل دورے کے دوران اگر اولین نہیں تو دوسرے وکٹ کیپر کی حیثیت سے انہیں ٹیم میں شامل کرنا چاہیے تھا۔ٹیم میں شامل دوسرے وکٹ کیپر رضوان کوصرف پاکستان اے یا کسی اور صورت میں نظروں میں رکھا جانا چاہیے تھا۔ پاکستان کی ٹیم کے ساتھ چیف کوچ مکی آرتھر کی یہ پہلی بڑی کامیابی ہے۔ بحیثیت چیف کوچ ان کے معقول انتخاب پر اپنے گزشتہ کالم میں چند باتیں لکھ چکا ہوں لیکن’’ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں‘‘۔ تین ٹیسٹ میچ، چار ون ڈے اور ایک ٹی ٹونٹی میں ان کی صلاحیتوں کا کڑا امتحان ہوگا۔ یہی توقع ہے کہ مکی آرتھر ٹیم کے معاملات اور مسائل کی بجا آوری بطریق احسن سرانجام دیں گے۔ عبدالماجد بھٹی کے مطابق کرکٹ بورڈ میں ایک برطانوی ماہر ابلاغ کو ٹیم آفیسر تعلقات عامہ مقرر کیا گیا ہے ۔یہ کمال کی تعیناتی ہے۔انہیں خدمات کے عوض کیا مالی فوائد دیے جائیں گے یہ علم میں نہیں تاہم پی سی بی نے حال ہی میں آئی سی سی کی میٹنگ میں ملک میں کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے اپنی مالی مشکلات کا واویلا کیا ہے ۔ گزشتہ چند مہینوں میں کھلاڑی اور آفیشلز تہذیب وشائستگی کا اعلیٰ معیاررکھے ہوئے ہیں ایسی صورت میں اس بے محل اور بے وقت اور غیر ضروری تقرری کی کیا ضرورت ہے۔ اب اس تعیناتی سے ٹیم کے ساتھ منسلک افراد کی تعداد میں قابل قدر اضافہ ہوگا اوربورڈ میں باہر سے مزید پروفیشنلز کی بھرتی کا دروازہ بھی کھلے گا ۔ دوسری طرف کچھ اچھی خبریں بھی ہیں جن میں پاکستان کرکٹ کی پلاننگ کمیٹی کے چیئر مین ظفرمحمود نے ملکی کرکٹ میں عوام کی دلچسپی کو بڑھانے کے لیے سٹیڈیمز کی سہولیات کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے اورایک انگر یزی اخبار کو انٹر ویو دیتے ہوئے انہوں نے یہ تجویز دی ہے کہ سٹیڈیم میں میچوں کے دوران فیملیز کو مدعو کیا جائے اورانہیں اس سلسلے میں مختلف مراعات دی جائیں۔ ان کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ پاکستان کے کرکٹ سٹیڈیم تماشائیوں کے لیے گوشہ تفریح نہیں ہیں۔ غالباً یہ پہلا موقع ہے کہ کرکٹ بورڈ کے کسی رکن نے کرکٹ کے کسی بنیادی مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ ہماری عام فرسٹ کلاس کرکٹ یا منتظم کی دلچسپی اور رائے زنی کا ہدف انٹرنیشنل کرکٹ ہوتا ہے۔ توقع ہے کہ اس ضمن میں کرکٹ بورڈ کے چیئر مین اور دیگر ارباب اختیار کوئی عملی قدم اٹھائیں گے۔

مزید : کالم