بجلی اور کتوں کے ستم رسیدوں کے نام

بجلی اور کتوں کے ستم رسیدوں کے نام
 بجلی اور کتوں کے ستم رسیدوں کے نام

میں نے تو اپنی زندگی میں دیکھا نہ سنا کہ پاکستان کے کسی ایک شہر میں چند دنوں کے دوران پانچ سو سے زائد لوگ گرمی سے مر گئے ہوں ایسا تو زلزلوں یا طوفانوں میں ہوتا ہے، گرمی تو ایک ایسی چیز ہے جس سے بچا جا سکتا ہے کسی سائے میں آکر کسی پنکھے کے نیچے بیٹھ کر، پانی سے نہا کر، مگر لگتا ہے کراچی میں مرنے والے اِن تمام سہولتوں سے محروم تھے۔ چھوٹے چھوٹے گھروں کی چھتیں جب تپ کر تندور بن گئی ہوں گی، بجلی نہ ہونے سے پنکھے بند ہوں گے، پانی دستیاب نہ ہوگا تو وہ زندگی کی بازی ہارے ہوں گے۔ مگر صاحب ذرا آپ غور تو فرمائیں، اِتنا بڑا سانحہ بیت گیا اور حکمرانوں کا ردعمل بس اتنا سا رہا جیسے انسان نہیں ایک ہزار چیونٹیاں مر گئی ہوں۔ ہلکا سا اظہار افسوس، کے الیکٹرک کو ایک وارننگ، آصف زرداری کا وزیر اعظم کو بجلی کے حالات ٹھیک کرنے کے لئے ایک ملتجیانہ خط۔ باقی اللہ اللہ خیر صلا۔ حیرت ہے کہ ایم کیو ایم جو کراچی میں اپنا ایک بندہ مر جانے پر ہڑتال کی کال دے دیتی ہے ہلکے پھلکے احتجاج سے آگے نہیں بڑھی۔ یوں لگتا ہے جیسے اس بار کراچی میں واقعی مکھیاں مری ہیں، جن پر احتجاج کرنا گوارا نہیں کیا گیا۔ کراچی میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ سے جتنے لوگ سال میں مارے جاتے تھے۔ اُتنے گرمی نے چار دن میں مار دیئے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں مرنے والوں کا تو کوئی مقدمہ بھی درج ہو جاتا ہے، اِن بے چاروں کا تو کفن دفن بھی ایدھی والوں کو کرنا پڑتا ہے۔

ساکنانِ خطہ خاک، میں آپ کو کوئی طوطا مینا کی کہانی نہیں سنا رہا کہ جسے سن کر آپ محظوظ ہوتے اور سر دھنتے رہیں۔ میں تو آپ کو دگرگوں حالات کی وہ تصویر دکھا رہا ہوں جو ایک مہذب اور اسلامی معاشرہ کہلانے کے دعویداروں کے لئے شرمناک ہے۔ کسی آفت سے تو ہمارے حکمرانوں اور اداروں نے شہریوں کو کیا بچانا ہے یہ تو موسمی گرمی سے اُنہیں نہیں بچا سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے چار دن کی شدید گرمی کے بعد کراچی میں مینہ برسا کے یہ پیغام دیا ہے کہ مخلوقِ خدا کو صرف وہی راحت دے سکتا ہے پاکستان میں حکمرانوں سے کوئی توقع نہ رکھی جائے۔ مرنے والوں کے لواحقین بھی سوچتے ہوں گے کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں۔ وفاقی حکومت کہتی ہے ہم نے کے الیکٹرک کو بجلی دے دی ہے، اب کراچی ہماری ذمہ داری نہیں، سندھ حکومت کہتی ہے کے الیکٹرک سے معاہدہ وفاقی حکومت نے کیا ہے، اس لئے ہم ذمہ دار نہیں۔ کے الیکٹرک والے کہتے ہیں لوگ بل نہیں دیتے اس لئے ہم بھی ذمہ داری نہیں لیتے۔ خدا کے بندو یہ ملک ہے یا ٹھیکے پر دیا گیا سنیما گھر۔ جس کی ٹکٹوں والی کھڑکی پر کوئی اور بیٹھا ہے۔ گیٹ پر کسی اور کا راج ہے اور فلم چلانے کی ذمہ داری کسی اور کی ہے۔ اس ملک میں 20 کروڑ افراد رہتے ہیں، وہ اپنے خون پسینے کی کمائی سے کھربوں روپے ٹیکسوں کی شکل میں جمع کراتے ہیں، اسمبلیاں بناتے ہیں، حکمرانوں کے اللے تللے برداشت کرتے ہیں، مگر جواب میں اُنہیں ٹھینگا دکھا دیا جاتا ہے۔

کیا کے الیکٹرک کو ٹھیکہ دے کر یہ لائسنس بھی دیا گیا ہے کہ وہ بندے مارے، کیا اُس پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھا گیا۔ کیا ریاست اتنی ہی کمزور ہو گئی ہے کہ وہ کسی پرائیویٹ ادارے کے سامنے بے بس ہو کر رہ جاتی ہے۔ حتیٰ کہ اپنے شہریوں کی جان بھی نہیں بچا سکتی۔ کراچی میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہماری جمہوریت، ہمارے حکمرانوں اور ہمارے اداروں کے ماتھے پر ایک ایسا بدنما داغ ہے کہ جس نے دُنیا بھر میں ہمارے چہرے کو مسخ کر دیا ۔ جس انداز کی بے رحمانہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے مجھے تو لگتا ہے کہ کراچی جیسے واقعات پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی رونما ہوں گے۔ ابھی تو اِکا دُکالوگ گرمی سے مر رہے ہیں لیکن اگر بجلی بندش کا دورانیہ اسی طرح بڑھتا رہا تو غریب غرباء کی یہاں بھی شامت آ جائے گی۔ کراچی میں تو کے الیکٹرک کو ذمہ دار قرار دے کر پانی و بجلی کے دونوں وزراء بری الذمہ ہو گئے ہیں، یہاں ایسا ہوا تو وہ کیا کریں گے؟ گھبرائیں نا اُنہوں نے یہاں بھی اس کا انتظام کر رکھا ہے۔ میں کل ایک ٹی وی پروگرام میں خواجہ آصف کی یہ بات سن کر حیران رہ گیا کہ ملتان میں بھی چونکہ لائن لاسز بہت زیادہ ہیں اور لوگ بل نہیں دیتے اس لئے وہاں بجلی کی بندش کا دورانیہ زیادہ ہے۔ معاف کیجئے خواجہ صاحب آپ نے ملتانیوں پر بہت بڑا الزام لگایا ہے۔ اب آپ اسے ثابت بھی کریں۔

یہی الزام آپ نے اپنی حکومت کے آتے ہی اُس وقت بھی لگایا تھا جب بجلی کی مسلسل بندش سے اُکتائے ہوئے غریب عوام نے واپڈا کے گارڈن ٹاؤن سب ڈویژن کو آگ لگا دی تھی۔ آپ نے اُنہیں بجلی چوروں کا خطاب دیا تھا لیکن کسی ایک پر بھی بجلی چوری کا مقدمہ درج نہیں کرایا تھا۔ اصل میں جب بندے کے پاس اپنی نا اہلی کا کوئی جواز نہ ہو تو وہ دوسروں پر الزام لگانے لگتا ہے، خواجہ آصف اور عابد شیر علی بھی یہی کر رہے ہیں۔ ملتان اُن شہروں میں شامل ہے جہاں ریکارڈ اووربلنگ ہوتی ہے۔ روزانہ لوگوں کو لاکھوں روپے کے جرمانے کئے جاتے ہیں اور مقدمات بھی درج ہوتے ہیں۔ کوئی علاقہ بھی ایسا نہیں جو پولیس یا واپڈا والوں کے لئے نوگو ایریا ہو، پھر وزیر موصوف یہ کیسے دعویٰ کر رہے ہیں کہ ملتان میں بجلی چوری زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے لوڈشیڈنگ بھی زیادہ ہے۔ یہ صرف اپنی نا اہل اور زیریں پنجاب کی تقسیم کار کمپنی میپکو کو کم بجلی دینے کی ظالمانہ پالیسی پر پردہ ڈالنے کی بھونڈی کوشش ہے۔

میں کالم یہیں تک لکھ پایا تھا کہ مجھے یہ خبر ملی کہ علی پور میں ایک 80 سالہ بزرگ پر با اثر زمینداروں نے صرف اس وجہ سے کتے چھوڑ دیئے کہ اُس نے اپنے حصے کا پانی لینے کی کوشش کی تھی۔ خونخوار کتوں نے اُس کی تکا بوٹی کر ڈالی اور وہ موقع پر جاں بحق ہو گیا۔ ساتھ ہی یہ خبر بھی ملی کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے حسب سابق اپنی شاندار روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس سفاکانہ واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے اور یقین دلایا ہے کہ بزرگ کے ورثاء کو ہر ممکن انصاف فراہم کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کے ایسے نوٹسوں کا کیا بنتا ہے ایک کمیشن اس پر بھی بٹھانے کی ضرورت ہے یا کم از کم پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ماس کمیونیکیشن کو اس پر ایک تحقیقی مقالہ لکھوانا چاہئے جس کے بعد ایسے دلخراش حقائق سامنے آئیں گے کہ اس مصنوعی نظام کا رہا سہا بھرم بھی جاتا رہے گا۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نہایت درد مند دل سادہ طبیعت اور منکسر المزاج رکھنے والے انسان ہیں۔ وہ ہر ایسی خبر کا جس میں ظلم ہوا ہو نوٹس اس لئے لیتے ہیں کہ اُن کا دل اُس کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ مگر وہ اپنے نوٹسوں کا فالو اَپ لینا بھول جاتے ہیں۔ اُنہیں علم ہی نہیں ہوتا کہ نوٹس لے کر اُنہوں نے بے رحم نظام کے کرداروں کی مزید حوصلہ افزائی فرما دی ہے جن کا ریٹ مزید آسمان پر چلا جاتاہے۔ اُنہوں نے ہر صورت مظلوم کے مقابلے میں ظالم کو ریلیف دینا ہوتا ہے بس ظالم کے لئے تھوڑا سا ریٹ بڑھ جاتا ہے اور یہی اُسی کی اصل سزا ہوتی ہے جو وزیر اعلیٰ کے نوٹس کی وجہ سے ملتی ہے۔ کتوں کے ذریعے بندہ مروانے والے اتنے کمزور تو نہیں ہو سکتے کہ یہ لولا لنگڑا نظام اُن کی گردن تاپ سکے۔ اِدھر وزیراعلیٰ نے نوٹس لیا اور اُدھر متعلقہ ڈی ایس پی نے یہ کہہ کر انصاف کا طریقہ کار بتا دیا کہ ہم واقعہ کی تحقیق کر رہے ہیں۔ بس سامنے کا واقعہ بھی تحقیق کی اس کند چھری سے اس طرح ذبح کر دیا جاتا ہے کہ غریب سائل کو تو اپنی جان بچانا مشکل ہو جاتی ہے۔

کراچی سے لے کر علی پور تک کے واقعات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان میں انسان مر رہا ہے اور اس طرح مر رہا ہے کہ جیسے اب اس ملک میں کتے بھی نہیں مارے جا رہے۔ بلکہ کتوں کو کھلی چھٹی دیدی گئی ہے کہ وہ فیصل آباد کے تین معصوم بچوں کو بھنبھوڑ کے رکھ دیں یا علی پور کے 80 سالہ بزرگ کے اعضاء نوچ ڈالیں، ایک زمانہ تھا کہ آوارہ کتے تلف کرنے کی مہم چلائی جاتی تھی، اب شاید اسے وسائل کا ضیاع سمجھ کے ختم کر دیا گیا ہے۔ ہر قسم کے سگ آزاد ہو گئے ہیں اور انسان اُن کے درمیان ایک مجبور شخص کی صورت میں بے یارو مدد گار پڑا ہے، جسے ہاتھ پاؤں باندھ کر اُن کی کچھار میں ڈال دیا گیا ہو۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...