حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کی اونچائی معمول سے زیادہ تھی، پائلٹ نے بار بار کہنے کے باوجود اپروچ ریڈار کی بات نہیں مانی، رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف

حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کی اونچائی معمول سے زیادہ تھی، پائلٹ نے بار بار ...
حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کی اونچائی معمول سے زیادہ تھی، پائلٹ نے بار بار کہنے کے باوجود اپروچ ریڈار کی بات نہیں مانی، رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) جمعۃ الوداع کے روز کراچی میں حادثے کا شکار  ہونے والے طیارے کے بارے میں ایئر ٹریفک کنٹرولر کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ طیارے کی اونچائی معمول سے زیادہ تھی اور اپروچ ریڈار کی بار بار ہدایات کے باوجود پائلٹ نے بات نہیں مانی۔

ایئر ٹریفک کنٹرولر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جس وقت پی کے 8303 کراچی ایئر پورٹ سے 15 ناٹیکل میل کی دوری پر تھا تو اس کی بلندی 10 ہزار فٹ تھی ، حالانکہ اتنے فاصلے پر طیارے کی بلندی 7 ہزار فٹ ہونی چاہیے تھی۔  ایئر ٹریفک کنٹرولر نے پائلٹ کو اونچائی کم کرنے کا کہا تو اس نے کہا کہ وہ مطمئن ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایئر ٹریفک کنٹرولر نے پائلٹ کو دوسری بار اس وقت بلندی کم کرنے کا کہا جب طیارہ 10 ناٹیکل میل کی دوری پر تھا۔ 5 ناٹیکل میل پر طیارے کی بلندی ساڑھے 3 ہزار فٹ تھی، کنٹرولر نے تیسری مرتبہ بھی پائلٹ کو ہدایت کی کہ لینڈنگ مؤخر کرے اور طیارہ 180 ڈگری پر بائیں موڑ لے لیکن پائلٹ نے تیسری مرتبہ بھی کنٹرولر کی ہدایت  کو نظرانداز کیا اور کہا کہ رن وے 25 لیفٹ پر لینڈ کرے گا۔

 اِس وقت طیارہ ائیر پورٹ سے 5 ناٹیکل میل دور اور 15 سو فٹ کی بلندی پر تھا۔ طیارے نے 10 ہزار فٹ لمبے رن وے پر 200  فٹ کے اسٹینڈر ’تھریش ہولڈ‘ کی بجائے ساڑھے 4 ہزار فٹ پر طیارہ ٹچ کیا۔

ایئر ٹریفک کنٹرول کی رپورٹ میں طیارے کا لینڈنگ گیئر نہ کھلنے کے حوالے سے کوئی بات موجود نہیں ہے۔ خیال رہے کہ شروع میں یہ کہا جارہا تھا کہ طیارے کا لینڈنگ گیئر نہ کھلنے کے باعث پائلٹ نے طیارے کو رن وے سے دوبارہ اٹھادیا تھا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -