صوبائی دارالحکومت، ٹریفک اشاروں پر ڈکیتیاں ، مزاحمت پر قتل معمول بن گئے، شہری خوفزدہ، پولیس بے بس

صوبائی دارالحکومت، ٹریفک اشاروں پر ڈکیتیاں ، مزاحمت پر قتل معمول بن گئے، ...

لاہور(کرائم رپورٹر،وقائع نگار) صوبائی دارالحکومت میں بڑھتے ہوئے سٹریٹ کرائم پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے برہمی کا اظہار کیا اور اس حوالے سے سٹریٹ کرائم کو کنٹرول کرنے کے لئے بنائی گئی فورسز کی کارکردگی کی رپورٹ طلب کر لی ہے ۔ذرائع کے مطابق رواں ماہ میں صوبائی دارالحکومت میں سٹریٹ کرائم میں 80فیصد اضافہ ہوا ہے اور اب چور و ڈاکو دن دیہاڑے وارداتیں کرنے لگے ہیں یہاں تک کہ پوش علاقوں میں موجود ٹریفک اشاروں پر کھڑی ہونے والی گاڑیوں سے بھی وارداتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جس پر جہاں عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے وہاں پولیس فورس کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان پیدا ہو گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق سٹریٹ کرائم میں اس اضافہ کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب نے پولیس حکام سے کوئیک رسپانس فورسز جن میں ڈولفن اور پیرو فورس شامل ہے کی کارکردگی کی رپورٹ طلب کر لی ہے ۔ذرائع کے مطابق شہر میں رواں سال کے دوران 10ہزار سے زائدافراد کو سٹریٹ کرمنلز نے موبائل فونز اور دیگر قیمتی اشیااور سواریوں سے محروم کر دیا ہے۔شہریوں کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پنجاب پولیس سٹریٹ کرائم کو روکنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔انتظامیہ نہ ان جرائم پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھاتی ہے اور نہ ہی مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے جس سے مجرموں کے حوصلے مزید بلند ہوجاتے ہیں۔ دن دیہاڑے خواتین سمیت راہگیروں شہریوں سے موبائل، نقدی چھیننے کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جب کہ ڈکیتی مزاحمت میں شہریوں کو زخمی کرنے کی وارداتیں بھی بڑھ گئیں۔ ابھی چند روز قبل ہی ملت پارک کے علاقہ میں ڈکیتی مزاحمت پر باپ بیٹا سمیت 5افراد کو ڈاکوؤں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔پولیس تاحال ملزمان کو گرفتار نہیں کر سکی بلکہ سابق ریکارڈ یافتہ افراد سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق سٹریٹ کرائم پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے برہمی کا اظہار کیا اور اس حوالے سے سٹریٹ کرائم کو کنٹرول کرنے کے لئے بنائی گئی فورسز کی کارکردگی کی رپورٹ طلب کر لی ہے ۔ذڑائع کے مطابق پولیس کی نااہلی کے باعث ہر پانچواں شہری سٹریٹ کرائم کا شکار ہے۔

مزید : صفحہ آخر