درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 42

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 42
درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 42

  

یوں تو میں نے ایک سے ایک خونخوار شیر اور چیتے کا سامنا کیا ہے اور کتنی ہی مرتبہ موت کے منہ سے نکلا بھی ہوں لیکن جس واقعے کا ذکر کررہا ہوں وہ میری شکاری زندگی کا انتہائی بھیانک اور لرزہ خیز واقعہ ہے۔شیر کی آمد کا تو میں منتظر تھا ہی، مگر وہ چیخ جس نے میرے ہوش و حواس گم کر دیے ،قطعاً غیر متوقع تھی۔ رات کے گہرے سناٹے کو چیرتی ہوئی چیخ کی آواز جب میرے کانوں تک پہنچی تو یقین کیجئے، دہشت سے خون رگوں میں جمنے لگا۔ چند لمحوں کے لیے میں اس معصوم کبوتر کی مانند آنکھیں بند کیے دبکا رہا جو بلی کو اچانک اپنے سامنے دیکھ کر سہم جاتا ہے۔تھوڑی دیر بعد اوسان بحال ہوئے تو میں سوچنے لگا کہ اس بھیانک چیخ سے شیر کا کیا تعلق؟ شیر تو اس طرح کبھی چیختے نہیں اور میرے اردگرد یا دور تک کسی ایسے جانور کے ملنے کا امکان نہ تھا جو پراسرار چیخوں سے میرا کلیجہ ہلا دیتا۔

بڑی عجیب اور حیرت انگیز آواز تھی جو میں نے اس سے پہلے کبھی نہ سنی تھی۔ ابھی میں اس پر غور کرہی رہا تھا کہ دوبارہ وہی آواز جنگل میں گونجی اور آنکھوں کے سامنے بھوتوں کی خیالی شکلیں رقص کرنے لگیں جو چیخ چیخ کر میری بے بسی کا مذاق اڑا رہے تھے۔

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 41  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں ابتدا ہی سے کچھ وہمی طبیعت کا آدمی ہوں اور شکار وغیرہ کی مہموں میں جب غیر متوقع حادثوں سے دو چار ہونا پڑے تو سخت گھبرا جاتا ہوں۔چنانچہ یہ آوازی سننے کے بعد پہلا خیال دل میں یہی آیا کہ یہ رات بھی ضائع ہوئی۔دراصل حالات نے شروع شروع میں کچھ ایسا رخ اختیار کیا کہ میں بدک گیا اور ایک تو موقعہ واردات پر جانے کا ارادہ ہی ترک کر چکا تھا۔ تذبذب کی اولین وجہ’’گارے‘‘کی اطلاع کا نا وقت ملنا تھا۔’’گارا‘‘شکار کی اصطلاح میں اس مویشی کو کہتے ہیں جسے شیر نے ہلاک کیا ہو اور اسے کسی اور وقت آکر ہڑپ کرنے کے ارادے سے چھوڑ گیا ہو۔تیسرے پہر ساڑھے تین بجے تک کوئی اطلاع نہ ملی اور بعد میں جب خبر پہنچی تو ضروری انتظامات کے لیے وقت تنگ تھا۔گارا ہمارے گھر سے پانچ میل کے فاصلے پر تھا۔۔۔سردیوں کے دن تھے۔۔۔سورج جلد جلد اپنا سفر طے کرکے مغرب میں چھپ جاتا تھا اور تاریکی کے مہیب بادل بستیوں اور جنگل کو چاروں طرف سے گھیر لیتے تھے۔ان حالات میں مچان تک پہنچتے پہنچتے اندھیرا یقیناً مسلط ہو جاتا۔ میں نے پہلے سوچا کہ جانے کا ارادہ ترک کر دوں،کیونکہ کامیابی کا بظاہر کوئی امکان نہ تھا لیکن موقع ایسا تھا کہ میں اسے یونہی ضائع کرنا بھی نہ چاہتا تھا۔ شاید اس لیے کہ میرے مویشیوں کے تحفظ کا مسئلہ بھی سر اٹھا رہا تھا۔مویشی خورشیر ہمیشہ وسیع و عریض علاقے میں سرگرم عمل رہتا ہے اور ممکن تھا کہ یہ شیر ایک دوروز میں میرے علاقے پر بھی حملہ آور ہو جاتا، لہٰذا موذی کا پہلے ہی سے سر کچل دینا مناسب نظر آیا۔

خبر ملنے کے بیس منٹ بعد میں موگورا جانے والی پگڈنڈی پر چلا جارہا تھا۔ راستہ نہایت دشوار گزار اور خطرناک تھا لیکن میں ایک گھنٹے کے اندراندر موضع کے اندر پہنچ گیا۔گاؤں کے مکھیا اور دوسرے لوگوں کی ایک چھوٹی سی ٹولی سے ملاقات ہوئی۔ضروری معلومات فراہم کرنے میں کچھ دیر اور لگی۔مجھے ان لوگوں نے بتایا کہ گارا دوپہر کے فوراً بعد ہوا تھا اور شیر مردہ گائے کو گھسیٹ کر جنگل کے گھنے حصے میں لے گیا تھا۔گاؤں والے جب گائے کی تلاش میں نکلے تو انہوں نے ایک گھاٹی کے اندر لاش پڑی پائی، چونکہ ان وگوں کو آئے دن ایسی وارداتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور شکار کے آداب اور شکاری کی ہنگامی ضرورتوں سے آگاہ ہوتے ہیں، اس لیے انہوں نے فوراً ایک قریبی درخت پر مضبوط مچان باندھ دیا اور فوراً ہی ایک آدمی مجھے خبر دینے روانہ ہو گیا۔

اس حد تک تو سب ٹھیک ٹھاک ہوا تھا۔ بادی النظر میں یہی معلوم ہوتا تھا کہ ان لوگوں نے اپنے فرض کی ادائی میں ذرا بھی کوتاہی نہیں کی۔مچان کے بارے میں بتایا گیا کہ نہایت مضبوطی سے باندھا اور گھنی شاخوں اورپتوں سے چھپا دیا گیا ہے۔اب گاؤں والے میری جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔میں نے گھڑی پر نگاہ ڈالی۔سورج غروب ہونے میں بیس پچیس منٹ باقی تھے لیکن جنگل میں ابھی سے اندھیرا پھیلنے لگا تھا۔چند لمحے سستانے کے لیے میں مکھیا کے گھر کے باہر پڑے ہوئے ایک تخت پر بیٹھ گیا اور لوگوں کے چہروں کا بغور جائزہ لینے لگا۔ مجھے محسوس ہوا جیسے کوئی بات چھپائی جارہی ہے۔کوئی شخص مجھ سے آنکھ نہ ملاتا تھا۔ آخر میں مکھیا سے دریافت کیا:

’’اور کوئی بات تو نہیں جو تم لوگ مجھے بتانا بھول گئے ہو؟‘‘

اس سوال پر تھوڑی دیر خاموشی طاری رہی۔ لوگ کن انکھیوں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے ۔مکھیا نے دیھرے سے جواب دیا:

’’جی نہیں اور تو کوئی ایسی بات نہیں۔‘‘

اس کا لہجہ چغلی کھارہا تھا کہ بات ضرور ،مگر دانستہ مجھ سے چھپائی جارہی ہے۔

بہرحال میں نے اس صورت حال پر تشویش کا قطعاً اظہار نہ کیا، کیونکہ جانتا تھا گاؤں والے نہایت سادہ دل اور نیک طینت لوگ ہیں۔اگر یہ کوئی بات چھپاتے ہیں تو محض اس وجہ سے کہ مجھے کہیں نقصان نہ پہنچ جائے۔انہیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ ایک شخص تمام رات درندے کے انتظار میں مچان پر ٹنگا رہے گا اور نتیجہ تصیح اوقات کے سوا کچھ نہ نکلے گا۔ تاہم اپنی سادہ لوحی کے باعث جرح کے دوران میں تمام سربستہ راز اگل دیتے ہیں۔اب میں نے ایک نئے انداز سوال کیا:

’’مچان باندھنے والے آدمی واپس گاؤں آئے تو اس کے بعد کوئی آدمی مچان کے قریب گیا تھا؟‘‘

چند ثانیوں کی معنی خیز خاموشی کے بعد مکھیا نے پان کی پیک تھوکی اور سوال کا جواب دینے کے بجائے کہنے لگا:

’’سورج چھپنے والا ہے جناب، آپ جلدی سے مچان تک چلے جائیں،ورنہ اندھیرا ہو جائے گا۔‘‘

ان لوگوں کے نزدیک کسی سوال کا براہ راست جواب دینے سے بچنے کا یہی طریقہ ہے کہ پان کی پیک تھوک دی جائے۔یہ اشارہ ہاں یا نہیں،دونوں جواب ظاہر کرتا ہے جس کے بعد آپ کو اخلاقاً مزید زور نہیں دینا چاہیے بلکہ خود ہی کوئی رائے قائم کر لیجیے۔۔۔مجھے شک ہوا کہ مکھیا کے اس اشارے کا جواب’’ہاں‘‘ میں ہے اور مچان کے پاس یقیناً کوئی نہ کوئی گیا ہے۔میں مکھیا کو ایک طرف لے گیا اور کہا:

’’دیکھو بھائی،اگرتم ساری بات مجھے نہ بتاؤ گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے۔شیر آہستہ آہستہ تمہارے سب جانور ہڑپ کر جائے گا اور ہو سکتا ہے اس کے بعد آدمیوں کی باری آجائے۔‘‘

’’آپ کے آنے سے آدھ گھنٹہ پہلے گاؤں کے مویشی یہیں تھے۔ آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے ہاں چھوٹے چھوٹے لڑکے ڈنگروں کو لے کر جنگل میں پھرتے رہتے ہیں۔ہمارے دو لڑکوں نے بھی گائے کے بارے جانے کی خبر سن لی تھی اور وہ اس کی لاش دیکھنے کے لیے بڑے بے چین تھے۔ہم نے انہیں منع بھی کر دیا تھا کہ مچان کے قریب نہ جائیں مگر وہ نہ مانے۔‘‘

’’یہ بات تمہیں پہلے ہی بتانی چاہیے تھی۔‘‘میں نے کہا:’’اچھا یہ بتاؤ کہ لڑکوں کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا؟‘‘

مکھیا کے چہرے پر ہلکا سا تغیر نمودار ہوا جسے اس نے بڑی چالاکی سے منہ پھیر کر چھپانے کی کوشش کی لیکن میں اس کی گھبراہٹ تاڑ چکا تھا۔ اب میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔۔ضرور کوئی حادثہ پیش آیا ہے۔

’’ذرا ان لڑکوں کو بلاؤ،میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔‘‘

’’وہ بھی ابھی تک گاؤں میں نہیں آئے۔‘‘مکھیا نے بتایا:’’البتہ مویشی آچکے ہیں۔میرا خیال ہے وہ باندھا کھیڑا گاؤں بھاگ گئے ہوں گے،وہاں ان کی نانی رہتی ہے۔‘‘

یہ کوئی حوصلہ افزا ابتدا نہ تھی۔ میں نے دل ہی دل میں اس واقعے کی تصویر تیار کی۔ جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ شر یر لڑکے مویشی لے کر مچان کے قریب گئے لیکن شیر کی موجودگی سے خوف کھا کر مویشی بھاگ اٹھے اور گاؤں پہنچ گئے۔لڑکے ڈرے کہ اب انہیں سزا ملے گی، اس لیے وہ گاؤں آنے کے بجائے باندا کھیڑا کی طرف چلے گئے۔(جاری ہے)

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 43 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

آدم خور -