76 پروفیسرز اور ایسوسی ایٹ پر وفیسرز بھرتی کیخلاف جواب طلب

76 پروفیسرز اور ایسوسی ایٹ پر وفیسرز بھرتی کیخلاف جواب طلب

  



پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس اعجازانورپرمشتمل دورکنی بنچ نے پشاوریونیورسٹی میں76پروفیسرزاورایسوسی ایٹ پروفیسرزکی بھرتی کے خلاف دائررٹ پروائس چانسلرسے جواب مانگ لیاہے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے یہ احکامات گذشتہ روز درخواست گذار ڈاکٹرامیرحمزہ وغیرہ کی جانب سے عباس سنگین ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائررٹ پرجاری کئے اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ پشاوریونیورسٹی نے یونیورسٹی میں76 پروفیسرزکی بھرتی کے لئے اشتہارجاری کیاہے جن میں پروفیسر ز ٗ ایسوسی ایٹ پروفیسرز ٗ اسسٹنٹ پروفیسرز اورلیکچررزشامل ہیں تاہم درخواست گذار پشاوریونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرچکے ہیں اور انہیں نظراندازکیاگیاہے کیونکہ درخواست گذار نے پی ایچ ڈی کررکھی ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان بھرتیوں کے لئے پوسٹ الوکیشن کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کایونیورسٹی قواعدوضوابط میں کوئی ذکرنہیں جبکہ بھرتی کااختیارصرف سینڈیکیٹ کو ہے اورپوسٹ الوکیشن کمیٹی غیرآئینی اورغیرقانونی ہے لہذانئی پوسٹوں کااشتہارکالعدم قرار دیا جائے عدالت عالیہ کے دورکنی بنچ نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے پوسٹوں پربھرتی کاعمل جاری رکھنے تاہم حتمی نتائج جاری کرنے سے روک دئیے اوروائس چانسلرسے جواب مانگ لیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر