قائد اعظمؒ : کچھ یادیں ،کچھ باتیں

قائد اعظمؒ : کچھ یادیں ،کچھ باتیں
قائد اعظمؒ : کچھ یادیں ،کچھ باتیں

  

مسولینی نے کہا تھا: ’’قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے لئے یہ بات کہنا غلط نہیں ہوگا کہ وہ ایک ایسی تاریخ ساز شخصیت ہیں جو کئی صدیوں میں جا کر پیدا ہوتی ہے ‘‘۔۔۔ بے شک قائد اعظمؒ جیسا انسان صدی میں نہیں بلکہ ہزار سال میں ایک ہی پیدا ہوتا ہے۔ مسلمانوں کی آزادی کا سفر میرے نزدیک اسی دن سے شروع ہو گیا تھا جب ٹیپو سلطان نے 14 مئی 1799ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی افواج سے لڑتے ہوئے سرنگا پٹم میں اپنی جان قربان کر دی۔ 1930ء سے 1940ء تک دس برس کا عرصہ بر عظیم کے مسلمانوں کے لئے ابتلا اور آزمائش کا زمانہ تھا جبکہ ہندوؤں میں مسٹر گاندھی، سبھاش چندربوس، آچاریہ کرپلانی، راجندر پرشاد، ولبھ بھائی پٹیل، گوپال کرشن، گوکھلے اور مرار جی ڈیسائی وغیرہ ایک سے ایک بڑھ کر چوٹی کے لیڈر موجود تھے۔ لیکن مسلمان لیڈروں میں اس وقت صرف محمد علی جناح تھے۔ قائد اعظم نے سخت نامساعد حالات اور پسماندگی سے کچلی ہوئی قوم کو اپنی بصیرت اعلیٰ کردار اور عظیم نصب العین دے کر زندگی کی نئی امنگوں سے سرشار کیا، جس نے توحید کا پرچم لے کر اس افلاس کی ماری ہوئی قوم کو اس شان کے ساتھ بلند کیا کہ عرب و عجم اس کے زیر نگیں ہو گئے۔قائد عظمؒ کے ثابت کر دیا کہ جو ذرائع اور مواقع عموماً بڑے بڑے بادشاہوں اور جرنیلوں کو حاصل ہوتے ہیں، ان کے مقابلے میں انسانی کردار کی پختگی، راست بازی، صاف گوئی اور یقین کامل و عزم پیہم زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور ان صفات کے حامل بھی آزادی حاصل کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ بابائے قوم نے کر دکھایا:

ہم رقص کرنے والے ہیں خود زندگی کے ساتھ

وہ اور تھے جو گردش دوراں سے ڈر گئے

بابائے قوم محمد علی جناحؒ نے اپنے کردار کی عظمت سے ہمیں آزادی سے ہمکنار کیا اور پاکستان گاندھی جی کی لاش پر نہیں بلکہ اس کی حیات میں ہی قائم ہو گیا۔ قائد عظمؒ کی زندگی کے کئی ایسے کارنامے ہیں جن سے ان کی روشن دماغی، عزت نفس اور تدبر کا ثبوت ملتا ہے۔ انہیں سستی شہرت کی خواہش نہیں تھی ا ور نہ ہی نمود کی۔ ایک مرتبہ بابائے قوم نے پنڈت نہرو کے سوال کے جواب میں کہا کہ تم پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہو کہ عوام کو کیا پسند ہوگا، میں یہ فیصلہ پہلے کرتا ہوں کہ درست کیا ہوگا پھر اس پر عمل شروع کرتا ہوں تو لوگ میرے گرد جمع ہونا شروع ہوتے ہیں اور مخالفت غائب ہو جاتی ہے۔ آپ نے فرمایا: کردار، محنت، استقلال، اور جرأت انسانی زندگی کے چار بہترین اصول ہیں، قائد عظمؒ اپنے پرانے ڈکوٹا پر ہی سفر کرتے رہے حالانکہ یہ خطرے سے خالی نہیں تھا اور انجینئروں نے اس سے منع بھی کیا تھا۔ اس ڈکوٹا پر ڈھاکہ جاتے ہوئے راستے میں پالم پور کے ایئرپورٹ پر تیل بھروانہ پڑتا تھا قائد نے اس کا حل خود ہی نکالا اور اس میں دو زائد ٹینکیاں لگوا دیں۔ قائد عظمؒ نے بحیثیت گورنر جنرل پاکستان یہی فرمایا تھا کہ ہمارا ملک ابھی میرے لئے نئے جہاز کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ کسی نے قائد سے پوچھا آپ ایئرکنڈیشن ریل گاڑی میں سفر کرتے ہیں جبکہ گاندھی جی تھرڈ کلاس میں سفر کرتے ہیں اس پر قائد نے جواب دیا آپ فکر مند نہ ہوں گاندھی جی کا ٹکٹ کانگریس خریدتی ہے اور میں اپنا ٹکٹ اپنی جیب سے خریدتا ہوں۔ (یاد رہے یہ تھرڈ کلاس کا ڈبہ سفر سے پہلے قیمتی عطریات اور خوشبویات سے دھویا جاتا تھا)۔

علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر سر ضیاء الدین نے قائد اعظمؒ کو اعزازی ڈگری ’’ڈاکٹر آف لاء‘‘ دینے کے لئے خط لکھا لیکن قائد نے انکار کر دیا۔ یہ جواب لکھ کر کہ میں ہر چیز اپنی محنت سے حاصل کرتا ہوں، آپ کا شکریہ۔ قدرت اللہ شہاب فرماتے ہیں کہ وہ بطور سیکریٹری صوبہ اڑیسہ کی ملازمت میں تھے، جب وہاں کے وزیر اعظم شری کرشن مہتاب نے یہ تجویز تحریر کی کہ جن صوبوں میں کانگریس کی وزارتیں ہیں، وہاں سے مسلمانوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹا دیا جائے ۔پولیس ملازمین اور ملٹری پولیس کو معطل کر کے اسلحہ واپس لے لیا جائے وغیرہ۔ چنانچہ میں یہ دستاویز لے کر قائد عظمؒ کے پاس چلا گیا۔ انہوں نے جب یہ دستاویز پڑھی تو فرمایا تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اس سے اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے۔ یہ خفیہ تجویز تھی۔ قائد نے یہ دستاویز مجھے واپس کرنے کی اجازت دے دی۔ جنرل شاہد حامد نے بتایا کہ پاکستان بننے کا اعلان ہو چکا تھا، دہلی میں ان کے گھر ڈنر پارٹی ہوئی۔ قائد عظمؒ بھی شریک تھے ،جن سے پوچھا گیا: سر پاکستان بن چکا ہے، اب ہم مسلمانوں کی ترقیاں جلدی جلدی ہوں گی؟ جواب ملا: ’’ملک کو مضبوط کرنے کی بات نہیں کرتے ۔۔۔ ترقیوں کی دکان نہیں کھولی جائے گی۔

’’ There will be no pre. promotion. Promotion will be given on merit and merit alone‘‘

قائد عظمؒ آئین اور قانون کی بالا دستی کے قائل تھے انہوں نے زندگی بھر کسی چھوٹے سے چھوٹے قانون کی بھی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔ ایک دفعہ وہ کار پر سفر کر رہے تھے ان کے ساتھ محترمہ فاطمہ جناح بھی تھیں راستے میں ریلوے پھاٹک بند تھا۔ اے ڈی سی نے اس خیال سے پھاٹک کھلوا دیا کہ قائد عظمؒ کو انتظار نہ کرنا پڑے، مگر قائد عظمؒ نے یہ پھاٹک دوبارہ بند کروا دیا اور فرمایا کہ اگر لیڈر قانون کی خلاف ورزی کرے تو قوم قانون پر کیسے عمل کرے گی؟

قائد عظمؒ صاف گوئی اور دو ٹوک بات کہنے کے عادی تھے۔ 20 فروری 1940ء کو مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ دہلی سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: ’’لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہمارا مطمح نظر کیا ہے؟ بات بالکل صاف ہے۔ برطانیہ ہندوستان پر حکومت کرنا چاہتا ہے۔ مسٹر گاندھی اور کانگریس مسلمانوں پر حکومت کرنا چاہتے ہیں۔ ہم برملا کہتے ہیں کہ ہم نہ برطانیہ کو مسلمانوں پر حکومت کرنے دینگے اور نہ مسٹر گاندھی کو اور کانگریس کو اپنے سر پر سوار کریں گے بلکہ دونوں کے اثر سے آزاد ہونا چاہتے ہیں‘‘۔

نہ اُٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے

حضرت قائد عظمؒ کی زندگی شروع ہی سے بڑی بھرپور اور مصروف تھی۔ قیام پاکستان کے وقت آپ کی عمر ستر سال سے تجاوز کر چکی تھی، لیکن بڑھاپے، کمزوری اور جان لیوا بیماری کے عالم میں بھی وہ شب و روز بے تحاشا کام کرتے رہے حالانکہ ڈاکٹروں نے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا تھا۔ تب بھی وہ نہ مانے اور ڈاکٹروں کی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے کام میں کھو گئے۔ گیارہ ستمبر 1948ء کو جب پیغام اجل آیا تو آپ کی آنکھیں پرنم تھیں، شاید انہیں اس محرومی کا غم تھا کہ وہ اپنے منصوبوں کو تشنۂ تکمیل چھوڑ چلے ہیں۔ پاکستان کی سرزمین طویل عرصے سے ایک ایسے ہی قائد کی تلاش میں ہے جو بابائے قوم محمد علی جناحؒ کے معیار پر پورا اُتر سکے!

مزید :

کالم -