صدر آزاد کشمیر سردار محمد یعقوب خان سے ایک مکالمہ

صدر آزاد کشمیر سردار محمد یعقوب خان سے ایک مکالمہ
 صدر آزاد کشمیر سردار محمد یعقوب خان سے ایک مکالمہ

  


 صدر آزاد جموں کشمیر سردار محمد یعقوب خان پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے مداح ہیں۔ ان کے خیال میں پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اپنے بین الاقوامی دوروں بالخصوص برطانیہ اور امریکہ میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کر کے کشمیریوں کے دل جیت لئے ہیں۔ بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ سردار محمد یعقوب خان کا موقف ہے کہ پاک فوج کے سربراہ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر دوٹوک موقف نے کشمیریوں کی امنگوں اور جذبوں کو جوان کر دیا ہے۔ سردار محمد یعقوب خان سے اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر ایک ظہرانے پر مسئلہ کشمیر اور آزاد کشمیر پر طویل گفتگو ہوئی۔ سردار محمد یعقوب خان اس وقت لائن آف کنٹرول کی صورتحال پر کافی پریشان ہیں۔ وہ اس کو پاکستان اور بھارت دونوں کے لئے خطرناک سمجھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ان کا موقف ہے کہ اس سے نہتے کشمیریوں کا بہت نقصان ہو رہا ہے۔ بھارتی جارحیت نے لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف بسنے والے عام کشمیری کی زندگی کو خطرہ سے دوچار کر دیا ہے۔ وہ غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ جب بھارت جارحیت کرتا ہے تو لائن آف کنٹرول کے اس طرف رہنے والا کشمیری غیر محفوظ ہو تا ہے اور جب پاک فوج اس جارحیت کا جواب دیتی ہے تو لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف رہنے والا کشمیری غیر محفوط ہو جاتا ہے۔ نقصان دونوں طرف کشمیریوں کا ہو تا ہے۔ پاکستان میں جاری دہشت گردی کے حوالہ سے جب گفتگو ہوئی تو میں نے کہاکہ یہ افغان جہاد کی وجہ سے ہے تو وہ مسکرائے اور کہنے لگے آزاد کشمیر کے ہر گھر میں کشمیری شہید کے ورثا ہیں۔ ہر گھر میں شہادت کی ایک داستان ہے۔ ہر گھر میں بھارتی جارحیت کی نشانیاں موجود ہیں۔ کشمیری آزادی کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ یہ تحریک مکمل طور پر کشمیری ہے ۔لیکن آپ آزاد کشمیر کا امن وا مان دیکھیں کس قدر مثالی ہے۔ آزاد کشمیر کا کرائم ریٹ پاکستان کے ہر صوبے کی نسبت کم ہے۔ کوئی دہشت گردی نہیں ہے۔لوگ راتوں کو پہاڑوں میں سفر کرتے ہیں۔ لیکن محفوظ ہیں۔ ہر ایک کی جان مال عزت محفوظ ہے۔ وہ مسکرائے اور کہنے لگے کہ یہ آزاد کشمیر کی حکومت کا کمال نہیں ہے ۔ میں اس کا کریڈت نہیں لینا چاہتا۔ یہ کشمیریوں کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ یہ امن پسند ہیں۔ قانون نہیں توڑتے۔ اسی لئے کشمیری دنیا میں جہاں جا کر آباد ہوئے ہیں۔ انہوں نے نیک نامی ہی کمائی ہے۔ بی جے پی کی کشمیر پالیسی اور مقبوضہ کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے مختلف سولات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر بی جی پی کا حامی تھا۔ میرا خیال تھا کہ کانگریس نے ساٹھ سال کشمیر پر ایک سٹیٹس کوء کی پالیسی بنا رکھی ہے۔ اس لئے شائد بی جی پی کے آنے سے یہ سٹیٹس کوء ٹوٹ جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پو موودی کا بھی حامی تھا ۔ میرا خیال تھا کہ وہ وزیر اعظم بن کر بڑے فیصلہ کرے گا۔ لیکن میرا یہ خیال نہیں تھا کہ وہ لائن آف کنٹرول پر حالات خراب کر دے گا۔ وہ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد کہنے لگے میں مودی سے نا امید ہوا ہوں۔ افسوس ۔ میں نے کہاکہ مودی تومقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ہی ختم کرنے کے درپے ہیں۔ مسکرائے اور کہنے لگے اتنا آسان ہوتا تو چاہئے ہی کیا تھا۔ مسئلہ کشمیر کب کا حل نہ ہو چکا ہو تا۔ زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ مودی نے کشمیر کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے جو کشمیر کے لئے زیادہ خطرناک ہے۔ اس سے مقبوضہ کشمیر کے حالات مزید خراب ہو نگے۔ جموں اور کشمیر کے درمیان ایک خلیج پیدا ہو گئی ہے جو آگے چل کر بڑھے گی۔ اب ہی خلیج اتنی وسیع ہو گئی ہے کہ محبوبہ مفتی کی جماعت ااور دیگر کشمیری جماعتیں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے سے ڈر رہی ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں کوئی حکومت نہیں بن رہی اور گورنر راج قائم ہو گیا ہے۔ یہ بی جی پی اور بالخصوص مودی کی نا کامی ہے۔ گفتگو کاموضوع بدلتے ہوئے میں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی شرح خواندگی مقبوضہ کشمیر سے بہت کم ہے۔ آزاد کشمیر میں تعلیمی اداروں بالخصوص یونیورسٹیوں کی تعداد مقبوضہ کشمیر سے بہت کم ہے۔ کیا یہ بات درست نہیں کہ آزاد کشمیرمیں ترقی مقبوضہ کشمیر سے کم ہے۔ صدر آزاد کشمیر سردار محمد یعقوب خان جو آزاد کشمیر کے وزیر اعظم بھی رہے ہیں ۔ مختلف محکموں کے وزیر بھی رہے ہیں ۔ کہنے لگے یہ ہماری نا کامی ہے۔ لیکن آپ سمجھیں آزاد کشمیر کی قیادت تو مسئلہ کشمیر کے حل لئے کوشاں رہی ۔ مقبوضہ کشمیر میں تو کالج یونیورسٹیاں قیام پاکستان سے قبل بھی تھے۔ ہم سمجھتے رہے کہ وہ تعلیمی ادارے ہمارے ہیں۔ جب اکٹھے ہو ں گے تو ہمارے بچے اس میں پڑھیں گے۔لیکن اب ہم نے آزاد کشمیر میں کالج اور یونیورسٹیاں بنانی شروع کر دی ہیں۔ اب ہم اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دے رہے ہیں۔ ہمیں احساس ہے کہ ہم نے اپنی نئی نسل کو پڑھانا ہے۔ میں نے کہا ۔کہ۔ کہا جا تا ہے کشمیر زمین پر ایک جنت ہے ۔ لیکن آزاد کشمیر کی سیاحت بھی کمزور ہے ۔ اگر کشمیر میں امن و امان کی صورتحال اس قدر بہترین ہے تو سیاحت کیوں کم ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہاکہ پچھلے سال پندرہ لاکھ سیاح آزاد کشمیر آئے ۔ میں نے کہا کہ یہ تعداد کم نہیں۔ مری سے کتنی کم ہے۔ کہنے لگے کم ہے۔ ہم اس پر توجہ دے رہے ہیں۔ یہ تعداد بڑھے گی۔ سردار محمد یعقوب خان اس بات کے حامی ہیں کہ بلاول کو ابھی فوری عملی سیاست میں نہیں آنا چاہئے بلکہ اپنے والدآصف زرداری سے سیکھنا چاہئے۔

مزید : کالم