ایک مردِ قلندر کی بات

ایک مردِ قلندر کی بات
ایک مردِ قلندر کی بات

  



گزشتہ ماہ کے ”میثاق“ میں بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم و مغفور کی ایک تحریر ”سقوط ڈھاکہ کا سانحہ ء فاجعہ“ کے عنوان سے شائع ہوئی، جو دراصل ڈاکٹر اسرار احمد کی ایک تقریر ہے جو انہوں نے 16 دسمبر 1994ء کو ایک جلسے میں کی تھی۔ انہوں نے سانحہ کے جو اسباب بتائے، ان پر ہم آئندہ کسی موقع پر اظہار خیال کریں گے۔ اس وقت ان کی ایک ایسی بات پیش نظر ہے جو بہت کھٹکی ہے۔ فرماتے ہیں: ”ہمیں اب بھی ہمارے صحافی دھوکہ دیتے ہیں کہ وہاں تو محبت کے زمزمے بہہ رہے تھے، جبکہ درحقیقت وہاں جو نفرت پیدا ہو چکی تھی اور جو اتنا عظیم انقلاب آ چکا تھا، اس کی صحیح خبر یہاں دی ہی نہیں گئی۔ ہمارے یہ صحافی وہاں گئے، چند دعوتیں کھائیں، چند لوگوں سے ملے اور یہاں آکر محبت کے زمزموں کی داستانیں سنا دیں“…… (ص: 32)

اس اقتباس میں ڈاکٹر اسرار احمد نے دراصل مدیر اردو ڈائجسٹ جناب الطاف حسن قریشی کے سلسلہ ء تحریر ”محبت کا زم زم بہہ رہا ہے“ کی طرف اشارہ کیا ہے جو اردو ڈائجسٹ کے اگست تا نومبر 1966ء کے چار شماروں میں چھپا تھا۔ اس سلسلہ ء تحریر کے بارے میں ڈائجسٹ کے اکثر قارئین کی طرح ڈاکٹر صاحب نے بھی غلط تاثر قائم کر لیا۔ایک تو لفظ ”زمزمہ“ نہیں، ”زم زم“ ہے۔ دوسرے، عنوان تو بلاشبہ ”محبت کا زم زم بہہ رہا ہے“ ہی تھا، لیکن اس تحریر کے اندر مشرقی پاکستان میں تیزی سے پھیلتے ہوئے منفی سیاسی رجحانات کی ٹھیک ٹھیک نشاندہی کی گئی تھی۔ میرا خیال یہ ہے کہ الطاف صاحب نے اس تحریر کو قابلِ ہضم بنانے کے لئے اس طرح کا عنوان قائم کیا تھا۔ اگر عنوان کے الفاظ صورت حال کے مطابق ذرا سخت ہوتے تو بعید نہ تھا کہ ایوب خان کی حکومت ڈائجسٹ پر پابندی لگا کر ایڈیٹر صاحب کو جیل بھیج دیتی۔ اس وقت اظہار پر کڑی پابندیاں تھیں۔

اس سلسلہ ء تحریر کے حوالے سے الطاف صاحب نے آج تک بہت طعنے مہنے سُنے ہیں، کیونکہ جب سقوط ڈھاکہ کا سانحہ پیش آیا تو لوگوں کے ذہنوں میں وہ عنوان موجود تھا، چنانچہ انہوں نے کہا: الطاف صاحب تو کہتے تھے وہاں محبت کا زم زم بہہ رہا ہے، حالانکہ وہاں تو نفرتوں کی فصل اُگ رہی تھی۔ اب ڈاکٹر اسرار صاحب کی تحریر میں بھی یہی طعنہ دہرایا گیا ہے تو مَیں نے الطاف صاحب کا ایک پرانا قاری ہونے کے ناتے اپنا موقف سامنے لانا ضروری خیال کیا ہے۔ ممکن ہے ڈاکٹر اسرار صاحب کو بھی یاد نہ رہا ہو کہ اس عنوان تلے الطاف صاحب نے ہمیں حالات کی سنگینی کا کتنی درد مندی اور فراست کے ساتھ احساس دلایا تھا۔

حقیقت کچھ اس طرح ہے کہ الطاف صاحب پہلی بار 3جولائی 1964ء کو ڈھاکہ گئے اور تین دن تک معاشرے کے مختلف دائروں میں گھومتے رہے۔ انہوں نے نچلے طبقات سے بھی مکالمہ کیا اور سیاسی،صحافتی اور کاروباری حلقوں سے بھی صوبے کے مسائل معلوم کرنے کے لئے تگ و دو کی۔ واپس آکر ”میرا ڈھاکہ“ کے عنوان سے ایک چشم کشا مضمون لکھا جو ڈائجسٹ کے ستمبر کے شمارے میں شائع ہوا۔ اس میں انہوں نے اعدادوشمار وغیرہ تو نہیں دیئے، البتہ خطرات کی نشاندہی ضرور کر دی۔ اس وقت تک مشرقی پاکستان کے بگڑتے حالات کے بارے میں خبریں مغربی پاکستان پہنچ رہی تھیں،لیکن کسی بڑے سے بڑے ایڈیٹر کو بھی وہاں براہ راست پہنچ کر حالات و واقعات کا براہ راست مشاہدہ کرنے کی توفیق نہیں ہوئی تھی۔ الطاف صاحب لکھتے ہیں:”ایک کتب فروش سے ملاقات ہوئی، وہ انگریزی میں باتیں کرنے لگا۔ ملک کے مختلف مسائل زیرِ بحث آئے۔ مَیں اس کی معلومات پر حیرت کا اظہار کئے بغیر نہ رہ سکا۔ ایک موقع پر اس نے کہا: ”اگر حالات کا رُخ یہی رہا تو مجھے ڈر ہے کہ مشرقی پاکستان زیادہ دیر تک آپ کے ساتھ نہ رہے“مجھے اس کے اس فقرے نے چونکا دیا، میرے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا۔ اس نے فوراً ہی کہا: ”مَیں جانتا ہوں تمہیں اس سے دکھ پہنچا ہے اور مَیں نے بھی یہ الفاظ دکھ سے کہے ہیں، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ لوگ اس انداز پر سوچ رہے ہیں“۔(ص:19)

اسی سال صدارتی الیکشن ہوئے۔ پورا مشرقی پاکستان مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ تھا،لیکن صدر ایوب خان نے بیورو کریسی کی مدد سے بی ڈی ممبروں کو ڈرا دھمکا کر یا چھوٹے موٹے مالی مفادات کا لالچ دے کر الیکشن جیت لیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب جنگ ستمبر ہوئی تو اہلِ مشرقی پاکستان نے کوئی سرگرمی نہ دکھائی، بلکہ قومی اسمبلی میں سوال اٹھایا کہ دورانِ جنگ ہمارے دفاع کا کیا انتظام تھا؟ الطاف صاحب جب مشرقی پاکستان گئے تو شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات آ چکے تھے اور سیاسی ماحول خاصا گرم ہو چکا تھا۔ الطاف صاحب نے عالمی اور مقامی پریس سے حوالے دے کر واضح کیا کہ شیخ مجیب الرحمن شہرت کی کن بلندیوں پر پہنچ کر کس طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔ چھ نکات میں مشرقی پاکستان کی جن اقتصادی محرومیوں کا ذکر تھا اور جو اقدامات تجویز کئے گئے تھے، ان کا اعدادوشمار کے حوالے سے بڑا حقیقت پسندانہ تجزیہ پیش کیا۔ الطاف صاحب نے اپنے سلسلہ ء تحریر میں حکومت کو گول میز کانفرنس منعقد کروانے کا مشورہ دیا تاکہ حزب اقتدار اور اپوزیشن مل کر مشرقی پاکستان کے بڑھتے ہوئے مسائل کا ٹھوس حل تجویز کریں،مگر افسوس حکومت گول میز کانفرنس بلانے پر اس وقت تیار ہوئی، جب پانی سر سے گزر چکا تھا اور جنرل یحییٰ خان اور ان کے ساتھی آئینی زندگی پر شب خون مارنے کی پوری تیاری کر چکے تھے۔

الطاف صاحب کا مذکورہ تجزیہ مَیں کئی بار پڑھ چکا ہوں۔ حیرت ہوئی ہے کہ حالات کی سنگینی پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کتنا پُرخلوص اور شائستہ لہجہ اور منطقی انداز اختیار کیا۔ معلوم نہیں مغربی پاکستان والوں نے اس الارمنگ تحریر پر کیوں توجہ نہ دی۔ زیادہ افسوسناک رویہ تو ان لوگوں کا ہے، جنہیں الطاف صاحب کی اس تحریر کا صرف عنوان یاد رہا، اس کے مندرجات بھول گئے۔ الطاف صاحب نے بعد میں اسی سلسلے کو ”چھ نکات کی سچی تصویر“ کے عنوان سے کتابی صورت میں بھی شائع کیا۔1970ء میں دوبارہ ڈھاکہ گئے اور شیخ مجیب الرحمن کا انٹرویو کرکے آئے جو ڈائجسٹ ہی میں شائع ہوا۔ آج ڈاکٹر اسرار صاحب کے طنزیہ جملے پڑھے تو دل بھر آیا، جی چاہا کہ اپنی گواہی تو پیش کردوں کہ جب ہر طرف ہاہا کار مچی ہوئی تھی تو ایک مردِ قلندر ایسا بھی تھا جس نے اہلِ پاکستان کو آنے والے طوفانوں سے بروقت خبردار کیا تھا، لیکن آج سب سے زیادہ وہی طنز و تعریض کے تیروں کا سامنا کر رہا ہے!

مزید : رائے /کالم