گلاس مارو سر پھاڑو

گلاس مارو سر پھاڑو
گلاس مارو سر پھاڑو

  

 مشہور اداکار اور مصنف  محمد احمد سے ایک ٹی وی شو میں  سوال کیا گیا کہ آپ اب کامیڈی ڈراموں میں کیوں کام نہیں کرتے ؟ تو انھوں نے برجستہ جواب دیا  کہ ’’ کیا یہ خبریں مزاحیہ نہیں اور ٹی وی اینکرز بہترین کامیڈین  نہیں ؟  لہذا ان کی موجودگی میں مزاحیہ اداکاروں کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے ؟ ‘‘

یہ ایک لطیف سا طنز ہے اور بالکل برجستہ بھی ۔ معاشرے میں فنون لطیفہ سے وابستہ افراد اگر مایوسی کا شکار ہونے لگیں  اور سطحی پروگراموں کی ریٹنگ میں  اچانک اضافہ ہونے لگے تویہ سمجھنے میں  دیر نہیں لگتی کہ معاشرہ اب کس ڈگر پر چلنا شروع ہو چکا ہے۔

 اب سیاسی پروگرام  سیاست پر بحث و مباحثہ کے پروگرام نہیں بلکہ ایک اینکر مداری کے ساتھ کشتی کا اکھاڑا بن چکے ہیں ۔ جی بالکل ایک کامیڈی شو، جہاں صرف جارحانہ رویے رکھنے والوں کی بات ہی سنی جاتی ہے ۔

جہاں چیخ و پکار کرنے سے اپنی رائے آگے پہنچائی جا سکتی ہے ، جس پروگرام میں  واک آئوٹ نہ ہو ، گلاس نہ توڑے جائیں ، تھپڑ نہ مارے جائیں  وہ بھلا کہاں کامیاب ہو سکتا ہے ۔ سلجھی ہوئی گفتگو ، بہترین اور سنجیدہ مہمانوں کا پینل  اور پھر متعلقہ موضوعات  کا نہ تو کوئی انتخاب کرتا ہے  اور نہ ہی ان کی ریٹنگ آتی ہے ۔

جو جتنا بڑا تماشا لگا سکتا ہے  جتنی لڑائی کروا سکتا ہے  وہ اتنا ہی کامیاب اینکر ہوتا ہے ۔ بھانت بھانت کے میزبان جو لاکھوں روپے کا پیکج لے رہے ہوتے ہیں  انھیں پس پردہ کام کرنے والے ریسرچرز اور ٹیکنیکل سٹاف جو چند ہزار پر مشتمل تنخواہ پاتا ہے  کی کوئی پروا نہیں ہوتی ۔

بلکہ بارہا  ان انیکرز کی جانب سے انھیں  جتایا جاتا ہے کہ میں نے تمھیں اپنی ٹیم میں رکھا ہوا ہے  میں تمھارے بغیر بھی پروگرام کر سکتا ہوں۔ یوں ان کی ساری محنت کو  سکرین پر دکھایا جاتا ہے  لیکن ان کے نام سے نہیں ۔ یا یوں کہنا چاہیے کہ سارے کا سارا تیار حلوہ  مہمانوں کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے ۔

کئی دفعہ تو میزبان الف سے کہانی خود شروع کرتے ہیں اور انھیں یے تک  ان کے لڑاکا اور جھگڑالو مہمان پہنچا دیتے ہیں ۔ ہمارے عوام بھی بے چارے سارا دن کے تھکے ہارے ہوتے ہیں  اور پھر سیاست پر بحث کرنا ہر کوئی اپنا حق سمجھ لیتا ہے ۔ کئی میزبانوں کے بارے میں تو اتنی پیش گوئیاں ہو چکی ہوتی ہیں کہ آج ان کے پروگرام میں  دنگل ہی ہو گا اور ہوتا بھی ہے  لیکن اگر نہ ہو پہلے تو تشویش ہوتی ہے  اور پھر لوگ پریشانی سے پہلو بدلنے لگتے ہیں ۔ اسکے بعد  اکثر ناظرین یہ کہہ کر چینل تبدیل کر دیتے ہیں کہ آج مزا نہیں آیا اور وقت ہی برباد کیا ۔

مہمانوں کی تو کیا خوب رہی وہ بھی  جو لڑائیاں پارلیمان میں نہیں لڑ سکتے  اس کے لئے  ٹی وی پروگراموں کا  سہارا لیا جاتا ہے ۔ خوب ایک دوسرے  کے ساتھ لفاظی کی جاتی ہے  بلکہ کئی مرتبہ تو  دست و گریبان  بھی ہوجاتے ہیں ۔فون پر موجود مہمان  کہتے ہیں  ہماری آواز نہیں سن رہے  ہمیں وقت نہیں دے رہے ۔ خواتین مہمانوں کے لئے نازیبا  الفاظ  تک بولے جاتے ہیں  اور میزبان تماشا  دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔ 

تاہم حقیقت یہ ہوتی ہے  کہ یہ سب لڑائیاں اور  مارکٹائیاں طے شدہ ہوتی ہیں اور جتنے بھی مہمانان گرامی ہوتے ہیں وہ پروگرام کے بعد خوشی خوشی اپنے گھروں کو روانہ ہو رہے ہوتے ہیں ۔۔

حالانکہ پینل پر ساتھ بیٹھنے پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہمیں کیا علم تھا کہ آپ نے اسے بلایا ورنہ میں تو آتا ہی ناں  ۔۔ جبکہ یہ کسی کو پتہ نہیں ہوتا کہ  شام سے پہلے ہی اینکرز سے طے کر لیا جاتا ہےکہ یار ہماری گنجائش رکھنا یا میں نے آپ کے چینل والوں سے بات کی ہے کہ ہمارے اس بندے کو نمایاں کوریج دینی ہے ۔

یہ  سب کچھ آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی  کہ ہر میڈیا ہائوس کا ایک ایجنڈا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عوام کے لئے کوئی ایجنڈا رکھا گیا ہے ؟ کیا ان کی بہتری کے لئے  کام کیا جا رہا ہے ؟ کیا سلجھے ہوئے مہانوں کو بلا کر  ان کی اخلاقی اور سیاسی تربیت کی جا رہی ہے ؟ کیا بہترین معیار کے پروگرام پیش کئے جا رہے ہیں جو مثبت سوچ کو جنم دے سکیں ؟

عوام کے ذہنوں کو تو غربت اور ناخواندگی سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا ہے ان میں سوال پوچھنے کی سکت ہی نہیں رہی ۔ وہ آٹے دال کے بھائو سے ہی نہیں نکل پائے  تو وہ سوچ کیا سکتے ہیں ؟ اور پھر ضروری یہ بھی نہیں کہ جو سوچے وہ سوال پوچھنے کی ہمت بھی رکھتا ہو ۔

سوال عوام سے بھی ہے کہ  آخر وہ کب تک  ان بے معانی اور سطحی پروگراموں  کو  پروموٹ کرتے رہیں گے  کب تک  ایسے پروگرامز دیکھیں گے  جو کسی بھی  طرح گھٹیا سٹیج ڈراموں سے کم نہیں ہوتے ۔

.

  نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -