ڈی پورٹ پالیسی پر عمل نہ کرنیوالے ایف آئی اے کے 78افسروں کیخلاف کارروائی

ڈی پورٹ پالیسی پر عمل نہ کرنیوالے ایف آئی اے کے 78افسروں کیخلاف کارروائی

لاہور( زاہد علی خان) وفاقی حکومت نے ڈی پورٹ پالیسی پر عمل نہ کرنے والے ایف آئی اے کے افسران کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے اور 78 افسروں کے خلاف رپورٹ وفاقی حکومت کو بھجوادی ہے ان افسران نے پالیسی میں اپنے طور پر رودبدل کیا اور ایسے افراد کو ائیرپورٹ کی بجائے اپنے دفاتر لے گئے اور ان سے تفتیش کی ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خاں نے پالیسی میں بتایا تھا کہ جس ملک سے ڈی پورٹ ہونے والے آئیں تو اس سے ائیرپورٹ پر ہی تفتیش کی جائے اور اگر وہ کسی جرم میں ملوث ہے تو اس کے خلاف نہ صرف رپورٹ بنا کر حکومت کو ارسال کی جائے بلکہ اسے دسرے جہاز پر واپس اسی ملک بھجوادیاجائے جہاں سے وہ آیا تھا مگر افسران نے اپنی من مانی کی اور 102سے زائد مسافروں کو واپس بھجوانے کی بجائے ان سے مک مکا کر لیا گیا نہ صرف ان کے بارے میں حکومت کو کوئی رپورٹ بھجوائی اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی کاروائی کی گئی ۔وزیر داخلہ نے اس کا سخت نوٹس لیا ہے اور کہا ہے کہ ان افسران کو نہ صرف دوسرے شعبوں میں تبدیل کردیا جائے بلکہ ان کے خلاف محکمانہ کاروائی بھی کی جائے ۔ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران سولہ سو سے زائد افراد بیرون ملک سے ڈی پورٹ ہو کر آئے مگر ائیرپورٹ ایف آئی اے کے بعض افسران اور متعلقہ عملے نے یہاں اپنی حکومت بنا رکھی ہے جس سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے ۔یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ڈی پورٹ پالیسی پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی بھی کی جارہی ہے ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ پاکستان میں موجود انسانی سمگلروں کے علاوہ بیرون ملک میں ان کے باا ثر ساتھویں کو گرفتار کرنے کے لئے بھی جلد ہی کریک ڈاؤں کیا جائے گا جس کے لئے کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔

مزید : صفحہ آخر