کینیڈا کے موسم

کینیڈا کے موسم
کینیڈا کے موسم

  



کینیڈا میں موسم دلکش ہوتے ہیں۔قدرت برستی ہے۔ سردی میں سفید رنگ پہاڑ اور میدان ایک سے ہوجاتے اور گرمی میں سبزہ ہر سونظر آتا ہے۔ اس ملک کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں پہاڑ، جھیلیں اور جنگل اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ پانی اور سبزہ کا شمار نہیں۔ ان دنوں یہاں موسم خزاں نے ڈیرے ڈال ر کھے ہیں اور جگہ جگہ درختوں کے پتوں نے کئی رنگ اوڑھ لئے ہیں۔ تیز ہوائیں، بارش اور پتوں کا مسلسل گرنا خزاں کے بعد موسم سرما کی آمد کی نوید ہے اور گرمیوں میں امریکہ سے ہجرت کرکے کینیڈا کے مختلف علاقوں میں آنے والے پرندے اب سردی اور برفباری سے پہلے یہاں سے واپس اُڑان کیلئے بڑے بڑے میدانوں میں اکٹھے نظر آتے ہیں۔

اس سال موسم گرما میں یہاں عجیب معاملہ ہوا کہ آوارہ مکھیوں کے کاٹنے سے مینی ٹوبہ صوبہ میں تین افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ واقعات اچنبھے کی بات ہے۔ ماہرین نے ان اموات کی وجہ مکھیوں کا کاٹنا خوف و ہراس کا باعث قرار دیا ہے۔ ان مکھیوں کی بہتات کی وجہ کم سردی اور گرم و خشک موسم گرما بتایا گیا۔

اگر موسم گرما میں یہاں زیادہ بارشیں ہوں اور درجہ حرارت کم رہے تو جنگلوں اور جھیلوں میں مچھروں کی بہتات ہوجاتی ہے۔یوں کیمپنگ کرنے والوں کیلئے مچھر وبال جان بن جاتے ہیں۔ ان مچھروں سے بچاؤ کیلئے لوشن استعمال کرنا پڑتے ہیں۔

گرمیوں میں جیسے ہی درجہ حرارت30 سینٹی گریڈ سے بڑھتا ہے تو یہاں حبس بھی ہوجاتا ہے اور یہ صورتحال سانس کی بیماری میں مبتلا افراد کیلئے مصیبت بن جاتی ہے۔ ایسے افراد کی بڑی تعداد عمررسیدہ افراد پر مشتمل ہوتی ہے جنہیں جان کے لالے پڑجاتے ہیں۔

خزاں کا موسم اداسی کا موسم تصور کیا جاتا ہے اور خاص طور پر ذہنی دباؤ کا شکار افراد اس سے بے حد متاثر ہوتے ہیں۔ وہ اس موسم میں مایوسی کا زیادہ شکار نظر آتے ہیں لیکن جابجا پارکس میں سبز، زرد اور سرخی مائل پتوں کے رنگ عام افراد کو بے حد بھلے لگتے ہیں۔

پت جھڑ کے اس موسم کو سردی کے موسم میں تبدیل ہونے میں دیر نہیں لگے گی اور اسی لئے یہاں سردیوں میں استعمال ہونے والی جیکٹس اور دیگر کپڑوں جوتوں کی خریداری اپنے عروج پر ہے۔ اسی طرح گرمیوں میں شروع ہونے والے شاہرات اور گلیوں وغیرہ میں تعمیر و مرمت کے کاموں کو بھی جلدازجلد مکمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایک سے دوسرے علاقے میں رہائش تبدیل کرنے اور اس سے قبل اپنی گھریلو استعمال کی اضافی استعمال شدہ اشیاء کے سستے داموں فروخت کیلئے گیراج سیل کا سلسلہ بھی تقریباً رک جائے گا۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ