مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے کیلئے ذیلی کمیٹی با اختیار ہونی چاہئے

مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے کیلئے ذیلی کمیٹی با اختیار ہونی چاہئے

                   لاہور(جاوید اقبال+حنیف خان)مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے کے لئے ذیلی کمیٹی با اختیار ہونی چاہییں ۔طالبان کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر حکومت تذبذب کا شکار ہے جس سے طالبان فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ملک میں معصوم شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنار ہے ہیں اور حکومت اپنی رٹ قائم کرے اور فیصلہ کرے کہ مذاکرات کرنے ہیں یا معصوم شہریوں کی زندگیاں محفوظ بنانے کے لئے آپریشن کرنا ہے لوگوں کو قتل و غارت کا بازار گرم کرنے والوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے اس امر کا اظہار مختلف سیاسی مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں ،عسکری و خارجہ امور کے راہنماﺅں نے ”پاکستان“ سے اپنے ردعمل میں کیا۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے چیئرمین ر اجہ ظفر الحق نے کہا کہ حکومت کی طرف سے طالبان سے مذاکرات کے لئے قائم کی گئی کمیٹی بااختیار ہے حکومت مذاکرات کی کامیابی کے لئے پرامید ہے اور آخری حد تک جائیں گے۔ ذیل کمیٹی بنانا اچھا اقدام ہے اور اس کے اچھے نتائج برآمد سابق آرمی چیف جنرل (ر) ضیاءالدین بٹ نے کہا کہ حکومت کو انٹیلی جنس شیرنگ کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا اور ایجنسیوں کے آپس میں رابطے کو مزید مضبوط کرنا ہوگا تاکہ ”منفی“ کارروائیاں کرنے والے عناصر کو ان کے خلاف ”کارروائی“ کرنے سے قبل ان کے منصوبے اور عزائم ناکام بنائے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور آپریشن ساتھ ساتھ دینے کے فارمولے کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔ مسلم لیگ ق کے سیکرٹری اطلاعات سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ میری نظر میں مذاکرات کے سود مند نتائج برآمد ہونے کی توقع نہیں ہے آخر کار حکومت کو آپریشن کرنا پڑے گا مذاکراتی کمیٹیوں کے دونوں اطراف حکومتی کمیٹی میں حکومت اور طالبان کمیٹی میں طالبان موجود نہیں ہیں۔ تو نتائج کیسے برآمد ہوسکتے ہیں حکومت نے بے گناہ لوگوں کو اور فورسز کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین نے کہا کہ حکومت طالبان سے مذاکرات کے لئے مثبت راستہ اختیار کئے ہوئے ہے مذاکرات ضرور کامیاب ہونے چاہئیں چونکہ مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو بھیانک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں لیکن مذاکراتی عمل میں تیزی آنی چاہئیں۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ مذاکراتی عمل کو کامیاب کرنے کے لئے ذیلی کمیٹی کے قیام پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن مذاکرات کامیاب ہونے چاہییں وہ کامیاب ہوتے نظر نہیں آرہے ۔انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت ملکی معاملا ت چلا نہیں پارہی ہر طرف شہریوں اور ہمارے جوانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہما ری سکیورٹی فورسز کو جانی نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے ۔حکومت ناکا م عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنی ناکامی کا اعتراف کرے۔متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی رہنما وسم اختر نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر حکومت تذبذب کا شکار ہے جس سے طالبان فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ملک میں معصوم شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنارہے ہیں حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث شہریوں کوٹارگٹ کرکے مارا جارہا ہے حکومت حتمی فیصلہ جلد کرے طالبان کے ساتھ مذاکرات کامیاب بنائیں یا پھر ان کے خلاف آپریشن کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے مذاکرات کے نام پر وقت ضائع کیا جارہا ہے اور طالبان جہاں چاہتے ہیں معصوم شہریوں اور سکیورٹی فورسز کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں حکومت دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے لئے فری ہینڈ دے مذید کمیٹیاں بنانے کے چکر میں نہ پڑے۔جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے پیش نظر مذید ذیلی کمیٹی بنانے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے حالات کا تقاضا ہے کہ طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما حاجی غلام احمد بلو ر نے کہا کہ ملک میں امن قائم ہونا چاہیے حکومت نے تحفظات کو دور کرنے کے لئے جو کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے اس کمیٹی کے قائم ہونے سے کوئی اعتراض نہیں مگر حکومت اور طالبان کو چاہیے کہ وہ اب مذاکرات کا باب بند کریں اور مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنائیں ۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لئے ایک ٹائم فریم ہونا چاہیے تھا اور مقررہ ٹائم فریم میں مذاکرات ہونے چاہیے۔سابق وزیر خارجہ گوہر ایوب نے کہا کہ کسی کو کسی بے گناہ کو قتل کرنے کی اجازت نہ مذہب دیتا ہے نہ کوئی آئین ،حکومت نے طالبان سے بات چیت کا راستہ اختیار کرکے دانشمندی کا ثبوت دیا ہے ہم مذاکرات کی کامیابی سے پر امید ہیں مذکرات کے لئے ذیلی کمیٹی قائم کرکے حکومت نے ملک میں امن قائم کرنے کی طرف اپنے مثبت سوچ کا ثبوت دیا ہے ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...