سرحدی جھڑپییں تباہ کن جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں ،سید علی گیلانی

سرحدی جھڑپییں تباہ کن جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں ،سید علی گیلانی

                                    سرینگر (کے پی آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے چےرمےن سید علی گیلانی نے جنگ بندی لائن پر جاری دونوں جانب کی گولہ باری کے نتیجے میں ہوئے انسانی زندگیوں کے اتلاف پر اپنے گہرے افسوس اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سرحدی جھڑپیں کسی بھی وقت بڑے اور تباہ کن جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہیں اور یہ جنگ ہر صورت میں دونوں ممالک کے لےے گھاٹے کا سودا ہوگا اور اس میں کسی کی بھی جیت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری حدمتارکہ پر موجود صورتحال سے لاتعلق نہیں رہ سکتے کہ دونوں ممالک کے مابین اس کشیدگی کی بنیادی وجہ کشمیر کا مسئلہ ہے اور اس سے سب سے زیادہ خمیازہ کشمیری قوم کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ گیلانی نے کہا کہ بھارت 25اگست کی مجوزہ میٹنگ کے بارے میں کئے گئے سخت فیصلے پر کیسے قائم رہ سکتا ہے، جبکہ سیز فائیر خلاف ورزی کے موجودہ معاملے پر پاکستان کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر بات چیت کرنا اس کے لئے ایک مجبوری بھی ہے اور ایک ضرورت بھی۔بات چیت نہ کرنے کی صورت میں حالات خطرناک رخ اختیار کرسکتے ہیں اور یہ کسی کے بھی حق میں اچھا نہیں ہوگا۔ پچھلی چھ دہائیوں کے دوران میں دونوں کی طرف سے ہزاروں بار جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوتی رہی ہے اس کو روکنے کے لئے سینکڑوں بار بات چیت بھی ہوئی ہے، البتہ یہ سلسلہ آج تک برابر جاری ہے اور مستقبل میں بھی اس پر روک لگنا ممکن نظر نہیں آتا ہے۔ گیلانی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اسطرح کی سیز فائیر خلاف ورزیوں کے نتیجے میں دونوں طرف سے اکثر کشمیریوں کو ہی جانیں گنوانا پڑتی ہیں اور وہ ہی گھر سے بے گھر ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کے نئے وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کیا کہ کشمیر کے حوالے سے ان کا جنونی فرقہ پرستانہ اپروچ چل نہیں سکتا ہے۔ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اسکو سیاسی اور پرامن ذرائع سے ہی حل کیا جانا ممکن ہے۔ اس مسئلے کو کوئی روایتی سیاستدان حل نہیں کرسکتا ہے، بلکہ اس کے لئے ایک اسٹیٹس مین کی ضرورت ہے۔

 اور دونوں ممالک کے عوام کو اس کا انتظار ہے۔

مزید : عالمی منظر