علامہ عنایت اللہ مشرقی

علامہ عنایت اللہ مشرقی
علامہ عنایت اللہ مشرقی

  

انگلستان اور یورپ کی اعلیٰ یونیورسٹیوں سے 1907ء سے 1912ء تک صرف پانچ سال کے عرصے میں تمام ریکارڈ توڑ کر رینگلر سکالر کے اعلیٰ اعزازات حاصل کرکے لوٹنے والا انسان جس کی ریاضی میں کمال درجہ کی کامیابی پر برٹش اخبار ’’ٹریبون‘‘ نے لکھا:‘‘ کیااب بھی کوئی کہے گا کہ مسلمان حساب نہیں جانتے‘‘؟۔۔۔1924ء میں اپنی شہرہ آفاق کتاب تذکرہ کو شائع کرکے مسلمانان عالم کو ان کی موت و حیات کے متعلق آخری پیغام دے دیا ۔اسلام کا یہ فرزند جلیل اپنی پیوندلگی خاکی قمیض اور خاکی پاجامے میں ملبوس لاہور اور ہندوستان کے شہر شہر منتشر اور بکھری قوم کو اتحاد امت ، اخوت و خدمت خلق کا صدیوں پرانا بھولا ہوا درس دہرانے کے لئے دربدر پھرتا رہا ۔ وہ عظیم انسان علامہ عنایت اللہ المشرقی تھے۔وہ 25 اگست 1888 ء کو امرتسر میں غلام ہندوستان کے ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جس گھرانے کو عالم اسلام کے عظیم مجاہد سید جمال الدین افغانی اور سید عبداللہ العمادی کاشرف میزبانی حاصل رہا ۔

دنیابھر کی اعلیٰ سوسائٹیوں اور یونیورسٹیوں سے داد تحسین حاصل کرنے والے اس بطل حریت نے مسلمان قوم کی حالت کو دیکھتے ہوئے 1931ء میں خاکسار تحریک کی بنیاد رکھی۔ علامہ المشرقی نے قوم کو باور کرایا کہ ان کی صدیوں کی بادشاہت، عظمت رفتہ اور غلبہ اسلام سے محبت بلا واسطہ عمل اتحاد امت اور خوف خدامیں مضمرہے۔وہ غلامی کو دنیاوی جہنم سمجھتے تھے اور قرآن حکیم کی تعلیمات اورنبوی اسلام پر کار بند ہو کر انقلاب برپا کرنے اٹھے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ کمزوری غلامی اور ذلت کو دعوت دیتی ہے۔ انہوں نے امت مسلمہ کو یاد دلایا کہ اسلام کی عسکری زندگی کو پھر سے اختیار کرے۔ سپاہیانہ عمل،اخوت و اطاعت امیر، قطار بندی اور بے لوث خدمت میں کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کا راز ہے۔ لہٰذا ہر صاحب ایمان کا فرض ہے کہ وہ کاہلی اور سستی کی بجائے عمل کرنے والا بننے کی سعی کرے۔علامہ المشرقی کے اس انقلابی طریقے پر لبیک کہتے ہوئے لاکھوں افراد خاکسارتحریک میں شامل ہوگئے ۔ کراچی سے خیبر اوربرما سے راس کماری تک ہر جانب خاکساروں کی صفیں بندھ گئیں۔ انہوں نے اپنے خطبے میں کہا کہ غلامی کی زنجیروں سے نجات محض عدم تشدد، ستیہ گرہ، عدم تعاون یا ننگ دھڑنگ رہ کر چرخہ کاٹنے سے ممکن نہیں۔گوشت پوست کی اس دنیامیں غالب آنا صرف خون کا کھیل ہے۔ جو قوم جب تک یہ کھیل کھیلتی ہے ،غالب ہے ،شکست اور زوال اس وقت آتے ہیں جب قومیں اس سبق کوبھول جاتی ہیں۔

ادھرملت اسلامیہ کا یہ فرزند عظیم قوم کے اندر طاقت و غلبہ اورباہمی رواداری حاصل کرنے کی انتھک جدوجہد میں مصروف تھا تو دوسری طرف انگریزوں کے وفادار وڈیروں سرکارپرستوں اور ٹوڈیوں نے جن میں کچھ وظیفہ خوار مسلمان بھی شامل تھے ،تاج برطانیہ اور انگریز وائسرائے ہند سے ملاقات کرکے اسے کہا کہ علامہ المشرقی اور اس کے خاکسار پانی پت کی چوتھی جنگ لڑنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس سے انگریز حکومت کی تباہی یقینی ہے۔ لہٰذا جس قدر جلد ہو خاکسار تحریک کو کالعدم قراردے کر اس کے نظم و ضبط، اتحاد و اخوت اورخدمت خلق کی تمام سرگرمیوں پر پابندی لگا دی۔علامہ المشرقی اس وقت شمالی ہندوستان کے دورہ پر تھے ،انہوں نے تاج برطانیہ اوروائسرائے کو خط لکھا کہ ہم اپنی قوم کے اخلاق و کردار درست کرکے ان کے اندر اطاعت اورخدمت کا جذبہ پیدا کر رہے ہیں جو کسی صورت بھی قانون شکنی نہیں ہے۔وائسرائے نے مذاکرات کے بہانے علامہ المشرقی کو دہلی بلالیا اور ریلوے سٹیشن پر گاڑی سے اترتے ہی گرفتار کرکے ویلور کے قلعے میں نظر بند کر دیا گیا۔خاکساروں پریلغار کر کے ریاست یوپی،جونا گڑھ، دہلی اورلاہورمیں سینکڑوں خاکساروں کو شہید کر دیا گیا۔

علامہ المشرقی کی طویل نظربندی سے رہائی کے بعد ہندوستان کی سیاسی تاریخ کا نقشہ ہی بدل چکا تھا۔ دنیا کے نقشے پر سب سے بڑی اسلامی مملکت کے یقینی وجودکے بعد حضرت علامہ لٹے پٹے قافلوں کودیکھ کر لرز اٹھے اور پاکستان کے وجود کو قائم رکھنے کے لئے حکمرانوں کو بھارتی سازشوں سے آگاہی دیتے رہے۔ 1950ء میں منٹو پارک لاہور میں جلسے سے خطاب کے دوران انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارت دو ارب روپے کی لاگت سے دریاؤں کے رخ موڑ کر ڈیم تعمیر کرنے کی سازش کر رہا ہے، لہٰذا جس قدر جلد ہو کشمیرکوہرحالت میں حاصل کر لیا جائے ۔اگرایسانہ کیا گیاتو خدشہ ہے کہ بھارت دریاؤں کا پانی روک کر پاکستان کی لاکھوں ایکڑ اراضی بنجر کر دے گااورجب چاہے گا پانی چھوڑ کر ہماری لہلہاتی فصلوں کو تباہ وبرباد کر دے گا۔مگر افسوس کہ اس خطرے کی جانب توجہ دینے کی بجائے حکمرانوں نے علامہ المشرقی کو گرفتار کرکے بغیرمقدمہ چلائے ڈیڑھ سال کے لئے میانوالی جیل میں نظر بند کر دیا۔

1956ء میں علامہ صاحب نے مشرقی پاکستان میں رونما ہونے والے خطرناک حالات سے آگاہ کرتے ہوئے حکمرانوں کو مشورہ دیا کہ دونوں طرف سے دس دس لاکھ انسانوں کو وطن عزیز کے مشرقی اورمغربی حصوں میں بسا دیا جائے تاکہ ہمارا کلچر اوررہن سہن ایک جیسا ہو جائے ۔ ہم سب مضبوط رشتہ داریوں کے بندھن میں بندھ جائیں ۔ اگر ایسا نہ کیاگیا تو میرا حسابی اندازہ ہے 1970 ء کے بعد مشرقی پاکستان مغربی حصے سے الگ ہو جائے گا جو کہ ہماری تاریخ کا نہایت بد قسمت دن ہوگا۔ایک اجڑی ہوئی کھیتی کو سر سبزی وشادابی میں تبدیل کرنے کا خواہشمند اور ایک بکھری ہوئی قوم کو اتحاد ملت، اخوت وبھائی چارے ،خدمت اور قطار بندی کے عملی پروگرام کا درس دینے والا ملت اسلامیہ کا یہ بطل جلیل 27اگست 1963ء کو اس دار فانی سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گیا۔ اسلام کا درد رکھنے والے پر شیدائی کو اس عظیم تحریک کے بانی حضرت علامہ عنایت اللہ خان المشرقی اوراس کی خاکسار تحریک کاحسرتناک انجام خون کے آنسو رلانے کے لئے کافی ہے:

میری حکمت چل کے رہے گی ہر گوشہ دنیا میں

مگر رک رک کے سمجھے گا بشرآخرپناہ یہ ہے

مزید :

کالم -