کیا سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال معاشرے کی رگوں کو کھوکھلا کر رہا ہے؟انتہائی اہم سوال کا جواب جانئے

کیا سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال معاشرے کی رگوں کو کھوکھلا کر رہا ...
کیا سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال معاشرے کی رگوں کو کھوکھلا کر رہا ہے؟انتہائی اہم سوال کا جواب جانئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ہمارے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ نیکی اور اچھائی  کی طرف بلانے والوں کی زبان بہت سخت ہے اور وہ نرم گفتاری کا سبق اَزبر تو کرتے ہیں پر عمل کی منزل سے کوسوں دور ہیں۔معاشرتی اصلاح میں والدین، اساتذہ اور دینی رہنما بنیادی کردار ادا کرتے ہیں،یہ ان کی ذمہ داری بھی ہے اور فرض بھی لیکن ان سب نے اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی میں دانستہ کوتاہی کی ہے ،ان کی اسی لاپروائی اور بے توجہی کی وجہ سے معاشرتی بگاڑ اور فساد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جس کی سزا پوری پاکستانی قوم بھگت رہی ہے۔ اخلاقی اور سماجی برائیوں کو بے نقاب کرنے اور اس کے خاتمے کیلئے شعوری طور پر کسی نے بھی کچھ نہیں کیا، ہمارے سیاستدان اور حکمران بھی اس معاملے میں مجرمانہ خاموشی اور لاپروائی کے مرتکب ہوئے ہیں، دوسری طرف پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے اپنی زیادہ تر توجہ سیاست اور سیاستدانوں کی طرف ہی مرکوز رکھی ہے ۔

آج کے جدید دور میں سماجی ذرائع ابلاغ نے انسانی زندگی کو بالکل اک نئی سمت دے دی ہے، کمپیوٹر، موبائل، ٹیبلٹ اور طرح طرح کی نئی ایجادات ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہیں، فیس بک، وٹس ایپ، ٹویٹر، وائبر اور بیشمار ایپس نے رابطوں کو آسان سے آسان تر بنا دیا ہے۔ ایک بچے سے لیکر بڑے تک خاصی تعداد میں لوگ اپنی حیثیت اور ضرورت کے مطابق سوشل میڈیا سے منسلک رہتے ہیں، سماجی ذرائع ابلاغ کے استعمال نے ذاتی زندگی، معاشرتی روابط اور سیاسی و معاشرتی معاملات کو بہت متاثر کیا ہے جبکہ آج دنیا بھر میں بہت ساری تحریکوں پر سوشل میڈیا کے اثرات ہیں۔سوشل میڈیا نے جہاں تعلم و تفریح، رائے عامہ کی تعمیر اور معاشرے کو متحرک بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے وہاں اس کا غلط استعمال اخلاقی و ثقافتی زوال کا سبب بھی بن رہاہے۔ اس کے غلط استعمال سے کئی ایک برا ئیا ں جنم لے رہی ہیں ، ناشائستہ اور بیہودہ زبان استعمال کی جا رہی ہے، اس حوالے سے باضابطہ بیداری شعور مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے۔سوشل میڈیا کے استعمال میں اکثر اخلاقی اقدار کو پیچھے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ کس طرح اخلاقیات کے داٸرے میں رہتے ہوۓ نوجوان نسل سوشل میڈیا کے ذریعے مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے؟ ملک کے مشہور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ علی معین نوازش  سے ہونے والی گفتگو آپ بھی دیکھئے۔۔۔۔

۔۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔

مزید : وڈیو گیلری