اداروں کی پرائیویٹائزیشن (1)

اداروں کی پرائیویٹائزیشن (1)
 اداروں کی پرائیویٹائزیشن (1)

  

دنیا کی تاریخ وسائل پر قبضے کی جنگوں سے بھری پڑی ہے۔ وسائل کی یہ جنگیں قوموں کے حکمران اور بڑے سرمایہ دار مل کر کمزور ممالک کے خلاف لڑتے ہیں۔ جوممالک کمزور نہ ہوں، انہیں پہلے حیلوں بہانوں سے کمزورکیا جاتا ہے اور جب وہ اپنے وسائل کا دفاع کرنے میں سست اور کمزور ہو جاتے ہیں، تب طاقتور ان پر قابض ہوتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے دنیا پر قبضے کا نظام چنداداروں کے ذریعے قائم کیا، ان اداروں میںیو این او، آئی ایم این، ورلڈ بینک اور ڈبلیو ٹی اوقابل ذکر ہیں۔ ان اداروں کے علاوہ امریکہ نے مختلف ممالک کو ایڈاور قرض کا لالچ دے کر ان ممالک کو اپنے اداروں کے ذریعے ایسی شرائط پر آمادہ کرنا شروع کردیا جس کی بنا پر ایڈ اور قرض وصول کرنے والا ملک ترقی کی منازل کبھی طے ہی نہ کرسکے۔ یہ نیا نظام قرض کے بوجھ تلے دبی حکومتوں کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ بنیادی ضروریات مثلاً خوراک ، پانی، توانائی، لباس، تعلیم، صحت ، مواصلات ، ذرائع آمدورفت قدرتی ومعدنی وسائل وغیرہ سمیت ہرقسم کی پیداوار سے حکومتی اختیارات کو بتدریجاً کم کرتے ہوئے بالکل ختم کردے، یعنی جن بنیادی ضروریات کی فراوانی کو یقینی بنانا اور غرباءومساکین کے لئے ان کی مفت فراہمی حکومتوں کے ذمہ فرض ہوتا ہے، اس سرمایہ دارانہ نظام کے تحت ان بنیادی ضروریات کی فراہمی سے حکومتوں نے پہلوتہی برتنی شروع کردی، اور اسے باقاعدہ کاروبار کا درجہ دے کر ضروریات پر آہستہ آہستہ ملٹی نیشنل اور قومی بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری قائم ہونا شروع ہوگئی جو مسلسل جاری ہے، اس کے نتیجے میں ان بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور دولت چند ملٹی نیشنل اور قومی بڑی کمپنیوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہونا شروع ہوگئی۔ قیمتوں میں گرانی سے بنیادی ضروریات کے لئے متوسط آمدن والے گھرانے بھی تنگی کا شکار ہوجاتے ہیں اور یوں متوسط گھرانے بھی غریب ہونا شروع ہوجاتے ہیں، اس طرح غربت پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے UNDPمیں غربت ختم کرنے کے جن پروگراموں کا ذکر کیا جاتا ہے ،ان کے مطابق جب سے Poverty Alleviation،یعنی غربت مکاﺅ پروگرام شروع ہوئے ہیں۔ مجموعی طورپر دنیا میں ایک فی صد بھی غربت میں کمی نہیں آئی، بلکہ دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں بڑھا ہے۔ کریڈٹ سوئس بینک کی حال ہی میں شائع شدہ Global Wealth Report 2013 کے مطابق دنیا کی کل بالغ آبادی کی 91فی صد کے پاس دنیا کی کل دولت میں سے صرف 17فی صد دولت ہے جبکہ محض 8.5فیصد لوگ دنیا کی 83فی صد دولت کے مالک ہیں۔ سٹیٹ بینک کے اعادوشمار کے مطابق 2008ءسے لے کر دسمبر 2011ءتک جب پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے اس کی کل آبادی کا تقریباً 40فیصد تھے اور پاکستان میں ترقی کی شرح صرف 2فیصد تھی تو ان تین برسوں میں پاکستان کے بینکوں میں پہلے سے موجود کروڑ پتیوں میں 12000نئے کروڑ پتی شامل ہوئے، یعنی دولت غریبوں کے ہاتھوں سے نکل کر امیروں کے ہاتھوں میں مرتکز ہورہی تھی ،2012ءمیں پاکستان میں بینکوں میں رکھے کل 5688ارب روپوں میں سے 2116ارب روپے صرف 36500لوگوں کے اکاﺅنٹ میں پڑے تھے۔ یہ ہے وہ دولت کا ارتکاز جسے قرآن نے منع کیا تھا اور جس ارتکاز کو ختم کرنے کے لئے اسلامی ریاست کو حرکت میں آنا ہوتا ہے۔ اللہ کافرمان ہے کہ ”ایسا نہ ہوکہ دولت تمہارے امیروں کے ہاتھوں میں گردش کرتی ہوئی رہ جائے “.... (القرآن مفہوم : الحشر 7) .... امریکہ کی انہی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ دنیا میں 10لاکھ ڈالر یا اس سے زیادہ دولت رکھنے والے 52فی صد لوگ صرف امریکہ (39فیصد ) اور جاپان (13فیصد ) میں رہتے ہیں۔

جب بنیادی ضروریات صرف صاحب حیثیت ہی کی پوری ہوسکیں اور غریب اپنی بنیادی ضرورت کی تکمیل سے قاصر رہتا رہتا مایوس ہونے لگے گا ،یوں حکومت کی اپنی ذمہ داری نہ اٹھانے سے مایوس لوگ خودکشیاں تک کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ صرف 2010-11ءمیں پاکستان میں 8500لوگوں نے خودکشیاں کیں۔ آفرین ہے ان حاکموں پر جو خود کو مسلمان بھی کہتے ہیں، لیکن ان کی حکمرانی میں نبی ﷺ کے ہزاروں امتی بھوک سے لقمہ ¿ اجل بنتے رہے ،مگر ان ہزاروں کی جانیں اس ایک کتے کے برابر بھی نہ ہوسکیں، جس کے بھوکے مرجانے سے حضرت عمر ؓکو اللہ کی پکڑ سے ڈرلگتا تھا۔ جبکہ حکومتیں لوگوں سے وصول کردہ ٹیکسوں سے بڑی کمپنیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دینے میں مگن رہتی ہیں، چونکہ پالیسی ساز جمہوری اداروں میں غرباءنہیں امراءکے نمائندے بیٹھتے ہیں، جن کی رائے پالیسی سازی کے لئے حتمی ہوتی ہے۔ یوں ٹیکسوں سے حاصل شدہ پیسہ غرباءکی بجائے بڑے سرمایہ داروں کے لئے سڑکیں بنانے میں لگ جاتا ہے اور لوگ بھوک ، علاج معالجے ، اور دیگر بنیادی ضروریات کے لئے بھی تڑپتے رہتے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں اجارہ داری : دنیا کے وسائل اور دولت کا چند ہاتھوں میں مرتکز ہونا جن عوامل کی بنیاد پر ممکن ہورہا ہے، ان میں سب سے اہم تیل، گیس ، بجلی غرض توانائی کے ذرائع کا ایسٹ انڈیا کمپنی جیسی کمپنیوں کی ملکیت میں جانا ہے۔ پاکستان میں 80کی دہائی سے قبل توانائی کے تمام ذرائع حکومت کے ہاتھ میں تھے۔ مثلاً بجلی، تیل اور گیس کی خریدوفروخت پر حکومت ٹیکس نہیں لگاتی تھی۔ جب بھی توانائی پر ٹیکس لگایا جائے یا اس پر منافع خوری شروع کردی جائے تو اس کی وجہ سے ہونے والی مہنگائی ہر چیز کی مہنگائی پر منتقل ہوجاتی ہے۔ آٹا جب ایک شہر سے دوسرے شہر ٹرک پر جائے گا تو تیل کی مہنگائی آٹے کی قیمت میں شامل ہو جائے گی۔ جس بس پر بچے سکول جائیں گے، اس بس کا کرایہ بڑھ جائے گا، باپ کا اپنے کام پر جانے کا خرچ بھی بڑھ جائے گا، پھر دکاندار کی دکان پر آنے والی ہر چیز کسی جادوئی قالین پر تو آتی نہیں، بلکہ ٹرکوں اور لوڈرگاڑیوں پر آتی ہیں، چنانچہ دکان سے ملنے والی ہر چیز کی قیمت بڑھے گی، خواہ ان کا تعلق روزمرہ کی اشیائے خوردونوش سے ہو یا ادویات، لباس اور درسی کتب سے، غرض جب ہرچیز مہنگی ہوگی تو ہرایک کو اپنی قوت خرید بڑھانے کی فکر ہوگی، تب ہی تو ہرایک کو ہر چیز اور ہراجرت کے نرخ بڑھانے ہوں گے۔ اس طرح پورا ملک مہنگائی کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔ گویا اگر کسی کو توانائی خصوصاً تیل، گیس اور بجلی کے ذرائع پر اجارہ داری قائم کرنے دی جائے تو وہ ملک ساری دنیا کو غلام بنالے گا، گویا ایسا کرلینے دینا اپنی شہ رگ کسی اور کے حوالے کردینے کے مترادف ہے۔ جب وہ چاہے شہ رگ دبا کر جو مرض کام کروالے۔ یعنی تیل اور گیس کے کنوﺅں کی ملکیت، توانائی کی پیداوار اور اس کی رسد کا اختیار جس کے پاس ہوگا وہی دنیا پر مطلق العنان حکمرانی کرے گا۔

دوسری جنگ عظیم سے قبل دنیا کی حکمرانی کا درجہ برطانیہ نے چند دیگر یورپی ممالک کے ساتھ مل کر حاصل کررکھا تھا، لیکن پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں دنیا کے تیل اور دیگر معدنی وسائل سے بھرپور علاقوں کا کنٹرول یورپی، خصوصاً برطانوی ہاتھوں سے نکل گیا، چونکہ جنگ عظیم نے ان قابض یورپی ممالک کو کمزور کردیا تھا، خصوصاً برطانیہ امریکی قرضے میں جکڑا ہوا تھا۔ جب کہ دوسری جنگ عظیم میں اتحادی افواج کو امریکی مدد کی خاص ضرورت تھی جس پر امریکی دباﺅ پر برطانیہ نے اٹلانٹک چارٹرپر 14اگست 1940ءکو دستخط کردیئے جو بعد میں یو این او کی بنیادی دستاویز بنا۔ اس کی روسے یہ قرار پایا کہ علاقائی آزادی کی تحریکوں کی مدد کی جائے گی، برطانیہ اپنی کالونیوں سے واپس ہوگا اور ان مقبوضہ علاقوں کے وسائل خصوصاً معدنی وسائل کو آزادی کے بعد بھی ان ملکوں کے استعمال میں نہیں رہنے دیا جائے گا۔ امریکہ نے دنیا میں برطانیہ اور جرمنی کی پسپائی اور ہار سے پیدا ہونے والے خلا کا بہت فائدہ اٹھایا، بلکہ اب تک اٹھا رہا ہے۔ اس نے یورپ کی پرانی نو آبادیوں میں آزادی کی اٹھنے والی تحریکوں کو سیاسی، اخلاقی اور معاشی مددوکی آڑ میں نسلی، لسانی اور علاقائی بنیادوں پر لوگوں کو اس طرح تقسیم کیا کہ نو آزاد ممالک میں جو آبادی اور رقبے کے اعتبار سے بڑے تھے، انہیں وسائل سے محروم رکھ کر ترقی یافتہ ممالک پر انحصار بڑھادیا گیا جیسے مصر، عراق اور پاکستان بشمول بنگلہ دیش وغیرہ اور وسائل کے اعتبار سے بہتات رکھنے والے علاقوں کو آبادی سے محروم رکھ کر افرادی قوت کے لئے دوسروں پر انحصار کی زنجیر باندھ دی گئی جیسے کویت، قطر اور بحرین وغیرہ۔

1945ءسے 1955ءکے درمیان دنیا کے نقشے پر ابھرنے والے 40سے زائد ممالک میں یہ قدر مشترک نظر آئے گی۔ پھر کچھ ایسے بڑے ممالک تھے، جن کے پاس آبادی اور دریافت شدہ معدنی وسائل کی بناءپر فوجی آمروں اور بادشاہوں کے ذریعے کنٹرول کو برقرار رکھا گیا۔ جیسے سعودی عرب، ایران اور ترکی وغیرہ۔ معرض وجود میں آنے والے ان ممالک کو امریکہ نے ایڈ اور قرضوں کی ادائیگی کے عوض ان کے معدنی وسائل، خصوصاً تیل اور گیس کے کنوﺅں پراپنی سرمایہ دار کمپنیوں کے ذریعے ایسے طویل المدتی معاہدے کئے، جن کی بناپر انہیں اس تیل، گیس اور دیگر قدرتی وسائل کو انتہائی سستے داموں ان ممالک سے لے جانے کے اختیارات مل گئے۔ یوں اس نے توانائی کے شعبے پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، تاہم پاکستان جیسے چند ممالک میں توانائی کے ذخائر ، ان کی پیداوار اور رسدوغیرہ پر حکومت کے ادارے مامور تھے۔ ان اداروں کے ہوتے ہوئے توانائی کے شعبے پر مکمل اختیار حاصل کرنا مشکل تھا، چنانچہ اس نے یو این او، ورلڈ بینک، آئی ایم این اور ڈبلیو ٹی او کی قراردادوں اور امریکی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ممالک پر قرض کی شرائط عائد کرکے ان اداروں کو بیچنے کے لئے زور دینا شروع کردیا۔ اصل میں یہ سرکاری ادارے جو ملکوں کے قدرتی وسائل یا دفاعی سٹر ٹیجی پر نگران ہیں، امریکہ کی بلاشرکت غیرے دنیا کی حکمرانی کی راہ میں رکاوٹ ہیں، خاص طورپر پاکستان ہیں۔

پاکستان دنیا کے ممالک میں ایک خاص اہمیت کا حامل خطہ ہے، اس کے ایٹمی اثاثے ، دور مارکرنے والا میزائل پروگرام، اس کی فوج، اسے کے زرعی شعبے میں خود کفالت ، اس کی افرادی قوت بالخصوص تکنیکی افرادی قوت، اس کے چارموسم ، اس کا جغرافیائی محل وقوع، اس کے دریا، اس کے وسیع توانائی اور معدنی وسائل اور ان سب سے بڑھ کر اس کا وہ اسلامی عقیدہ ،جو اسے اس کے آفاقی وجود سے آشنا کرکے ایک بھاری ذمہ داری اس کے کاندھوں پرڈالتا ہے،اگر پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات میں خودکفیل ہوجائے تو یہ کسی بھی ملک پر انحصار نہیں کرے گا اور یہ خود ایک بین الاقوامی طاقت بن جائے گا۔ اس وقت پاکستان میں بجلی، تیل اور گیس انتہائی مہنگے بھی ہیں اور مانگ کے مقابلے میں ان کی پیداوار بھی کم ہے۔ اگر ان اداروں سے صحیح طورپر کام لیا جاتا تو اس وقت ہم اپنی توانائی میں خود کفیل ہوتے۔ (جاری ہے)

80کی دہائی تک پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات میں خود کفیل تھا، تاہم اسی دہائی کے اختتام پر روس کی افغانستان سے پسپائی کے بعد امریکی ایماءپر سرکاری اداروں کو بیچنے کی بات شروع ہوگئی۔ 1980ءمیں پاکستان اپنی کل ضروریات کا تقریباً 57%حصہ ڈیموں میں پیدا ہونے والی پن بجلی سے حاصل کررہا تھا۔ جبکہ بقیہ بجلی تھرمل گھروں سے حاصل ہوتی، بہت ہی کم مقدار میں ایٹمی طاقت سے بھی بجلی پیدا کی جارہی تھی۔ آج ہم اپنی مانگ کا صرف 25%حصہ پن بجلی سے حاصل کررہے ہیں۔ جبکہ تقریباً 70%حصہ فرنس آئل، گیس اور ڈیزل سے بنارہے ہیں۔ اس میں سب سے بڑا حصہ فرنس آئل اور گیس سے پیدا کی جانے والی بجلی کا ہے جو بالترتیب 42% اور 26%ہے۔ ڈیموں سے پیدا ہونے والی پن بجلی انتہائی سستی ہے NEPRAکے اعدادوشمار کے مطابق مارچ 2013ءمیں یہ تقریباً 8پیسے فی یونٹ میں پڑتی ہے جبکہ گیس سے پیدا کی جانے والی بجلی تقریباً 4.83روپے فی یونٹ کی پڑتی ہے اور فرنس آئل سے پیدا ہونے والی بجلی ہمیں تقریباً 17روپے فی یونٹ پڑتی ہے۔ یہ فرنس آئل ہمیں درآمد کرنا ہوتا ہے۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان کے 19ارب ڈالر کے تجارتی خسارے میں تیل کی درآمدات کا حصہ تقریباً 15ارب ڈالر ہے ، اس تیل میں سے 5ارب ڈالر سے زائد کا تیل صرف بجلی پیدا کرنے کے لئے استعمال کررہے ہیں اس میں سے بیشتر تھرمل بجلی گھر پرائیویٹ کمپنیوں کے ہیں جو انتہائی مہنگی بجلی دے رہے ہیں۔ اگر اس کے مقابلے میں ایک بڑا ڈیم بن چکا ہوتا تو کم ازکم 5ارب ڈالر کا زرمبادلہ ہرسال بیرون ملک جانے سے روکا جاسکتا تھا، اور یادرہے اتنی خطیر رقم آج تک امریکہ نے پاکستان کو کبھی بھی ایک سال میں ادا نہیں کی۔ تھرمل پاور پلانٹ کمپنیوں کے مالکان اب باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بڑے ڈیم بنانے اور کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کے خلاف مہم کا حصہ ہیں۔ تاکہ پاکستان اپنے تجارتی خسارے کو پورا کرنے کے لئے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور بینکوں پر انحصار رکھے اور وہ بدلے میں ملکی پالیسیوں کو اپنے مطلب کے مطابق بنواتے رہیں۔

امریکہ اب تک پاکستان کو پاور سیکٹر میں اصلاحات (Reforms)کی مد میں 300ملین ڈالر ادا کرچکا ہے۔ انہی نام نہاد، اصلاحات‘کے نتیجے میں GENCOsیعنی بجلی پیدا کرنے والی جنریش کمپنیاں اور DISCOSیعنی ڈسٹری بیوشن کمپنیاں پیدا ہوئیں اور ستم ظریفی یہ ہے کہ بجلی پیدا کرنے اور گھروں تک پہنچانے والی جن تنصیبات کی قیمت عوام نے اپنا پیٹ کاٹ کر بلوں میں ادا کی تھی اور اس طرح انہوں نے قوم کو ان تنصیبات کا مالک بنایا تھا آج حکومت نے امریکی Reformsکے تحت انہی تنصیبات کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کردیا اب ہم انہیں بجلی اپنے گھروں تک پہنچانے کی قیمت ادا کرنا شروع کرتے ہیں۔ اب بھلا آپ ہی بتائیں کہ جب حکومت پن بجلی کی بجائے درآمد شدہ تیل پر بجلی بنائے پھر بجلی پیدا کرنے کا کام پرائیویٹ کمپنی کے ہاتھوں بیچ دے اور اس پر انہیں منافع دینا شروع کردے، اور پھر گھروں تک پہنچانے کے کام کو بھی ٹھیکے پردے دے تو بجلی میرے اور آپ کے گھر تک سستی کیوں کر پہنچے گی ؟ اور ہماری صنعت کا بھٹہ نہیں بیٹھے گا تو اور کیا ہوگا؟ پھر ہم عالمی مالیاتی اداروں سے قرض نہیں لیں گے تو اور کیا کریں گے ؟ تب ہی تو ہم ان کے غلام بن جائیں گے ایسی حالت میں ہم کسی سے بھلا کیا جنگ لڑیں گے، آپ نے سنا نہیں ہر چند دن بعد آواز آتی ہے کہ پاکستان کے پاس چند دن کا تیل رہ گیا، حالانکہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اپنے ذرائع سے اپنی ضروریات پوری کرسکیں، لیکن اگر ملک کا دفاع کمزور نہیں ہوگا تو اس پر قبضے کا خوب دشمن کیسے دیکھے گا۔ ؟

برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی کی مثال نہ بھولیں :

اگر ہم نے اب بھی اپنی آنکھ نہ کھولی تو ہم نئے دور کی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھوں پھر غلام بن جائیں گے اس وقت بھی ہم کم ازکم گروی تو ہیں۔ برطانوی ملکہ ایلزبتھ اول نے 1600ءمیں دنیا کی پہلی جوائنٹ سٹاک کمپنی بنائی، جسے ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یورپ میں دنیا کی یہ پہلی ملٹی نیشنل کمپنی مانی جاتی ہے۔ بظاہر تجارت کی غرض سے برصغیر میں مغل شہنشاہ جہانگیر کے دور میں داخل ہونے والی اس کمپنی نے اپنی ( بلیک واٹر اور ذی کارپوریشن کی طرح ) کرائے کی فوج رکھنا شروع کردی جس کے ذریعے اس نے آہستہ آہستہ برصغیر کی جاگیروں پر قبضہ شروع کردیا خصوصاً ساحلی علاقوں پر حتیٰ کہ 1757ءکی جنگ پلاسی میں بنگال کے نواب سراج الدولہ کو اس کے اپنے جرنیل سید میر جعفر علی نے انگریزوں کے ساتھ مل کر قتل کروادیا (آج بھی تیسری دنیا کے جرنیل انہی مقاصد کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔) اور یوں ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر پر 1757ءسے حکومت کرنا شروع کردی 1773ءمیں اس کا پہلا گورنر جنرل مقرر کیا گیا۔

100برس برصغیر نے ایک شیئر والی پرائیویٹ کمپنی کی غلامی میں زندگی گزاری اور 1857ءکی جنگ آزادی کے بعد برطانوی حکومت نے براہ راست برصغیر پر قبضہ کرلیا۔ یہ براہ راست قبضہ 1947ءمیں تقسیم ہند کی صورت میں ختم ہوا لیکن بالواسطہ قبضہ آج تک ختم نہیں ہوا۔ ذرا سوچئے پورے پاک وہند پر قبضہ رچانے والی یہ صرف ایک کمپنی کی داستان ہے، جب اس طرح کی بہت سی کمپنیاں موجود ہوں تو وہ کس طرح دیگر ممالک کے جرنیلوں اور حکمرانوں کو خرید کر ان ممالک کے وسائل پر قابض ہوتی ہوں گی۔ یہ مسئلہ صرف برطانیہ کا پیدا کردہ نہیں، بلکہ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز پر، ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی، فرانسیسی ایسٹ انڈیا کمپنی ، اور پرتگالی ایسٹ انڈیا کمپنی نے انڈونیشیا ، جاپان اور برصغیر پاک وہند میں لوٹ مار کا بازار گرم کئے رکھا۔ یہ حال اسی زور وشور سے مغربی، جنوبی اور شمالی افریقہ کا بھی کیا جاتا رہا۔ ان نوآبادیوں کے رہنے والوں کو نہ صرف غلام بنایا گیا بلکہ انہیں ان کے قوانین، رسوم ورواج اور معدنی وسائل سے بھی محروم کیا جاتا رہا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی ، اپنے مقبوضہ علاقوں سے کپاس، کالی مرچ، دارچینی، سونا، تانبہ، خام تیل وغیرہ نکال کر اپنے ممالک میں بیٹھے امیر زادوں کی تجوریاں بھرتی رہی۔ برطانیہ اپنے دور کی سپر طاقت ہونے کے باعث سب سے زیادہ قتل وغارت اور لوٹ مار میں مگن رہا، تاہم دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنوں کے ہاتھوں یورپ کو خوب مار پڑی خصوصاً برطانیہ کو، جبکہ اس جنگ میں امریکہ اپنے ایٹمی طاقت ہونے کے باعث اور جنگ کے میدانوں سے دور ہونے کے باعث دنیا پر تو ظلم وجورتوڑتا رہا لیکن خود بچتا رہا یہاں تک کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد طاقت کا ایک نیا مرکز بن کر ابھرا۔ روس بھی امریکہ کے ہم پلہ بین الاقوامی عزائم رکھنے والی طاقت کی حیثیت سے جانا جانے لگا۔ تاہم امریکہ نے دنیا کو غلام بنانے کا ایک نیا نظام وضع کیا، جس پر اس کی دسترس اور اختیار روس اور یورپ کی نسبت زیادہ تھا اور ہے۔ جن اداروں کی نجکاری کا شکار آج سابقہ برطانوی کالونیاں ہیں وہ اسی نئے امریکی نظام کی زنجیریں ہیں جن سے وہ ممالک کو اپنا دست نگر بناتا ہے۔ 1990ءمیں سویت یونین کی تقسیم کے بعد امریکہ نے اپنے ہی پیدا کردہ نطام کے اداروں کو انتہائی سخت گیری کے ساتھ دنیا پر اپنے تسلط کو مستحکم بنانے کے لئے استعمال کیا، اس کام میں یورپ ، بھارت ، اسرائیل اس کی قابل ذکر ہم پیالہ وہم نوالہ ہیں۔

بلوچستان میں بیرونی مداخلت کے پیچھے سرمایہ دار کمپنیاں ہیں :

بلوچستان کی موجودہ شورش بھی اس سلسلے کی مثال ہے۔ اس میں بھارت سمیت جن پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں، ان میں امریکی این جی او (HRW) Human Raghts Watch کو 100ملین ڈالر دینے والا کوئی اور نہیں ہنگری نژاد امریکی جارج سورو ہے جس نے یہ رقم 2010ءمیں دینے کا اعلان کیا اور بلوچستان میں HRWنئی سمت میں گامزن ہوگئی۔ اب اسی HRWکو نہ تو بلوچستان میں بیرونی ہاتھ ہی نظر آتا ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کے اس ٹھیکیدار کو اپنے سرمایہ دار آقا کا کردار۔ یادرہے یہ وہی جارج سورو ہے جو دنیا میں ایشیائی ٹائیگرز کی معیشت کو ڈبونے والے طاقتور سرمایہ دار کی حیثیت سے بدنام ہے اس کا اصل کام کرنسی کے اتار چڑھاﺅ سے کمائی کرنا اور کمزور معیشتوں کی سٹاک ایکسچینجوں کو ڈبونا ہے۔ پھر Carnegi Endowment for International Peace (CEIP) کے نام نہاد ہاتھوں میں کھیلتے چند سرداروں نے امریکی گود میں جگہ تلاش کرلی۔ CEIPہی نے امریکی کانگرس میں بلوچ سرداروں کی طرف سے ایک قرارداد بھیج رکھی ہے جس کی روسے حکومت پاکستان کو بلوچوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر امریکہ سے اپنی آزادی کی تحریک میں مدد مانگ رکھی ہے۔ دنیا میں Carnegiخاندان خام لوہے اور دیگر دھاتوں کیا کانکنی اور ان سے متعلق صنعت سے عبارت ہے۔ یہ دونوں ادارے امریکی سرمایہ داروں کے عزائم پورے کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ورنہ انہیں اپنی حکومت کے جاپان، عراق، اور افغانستان میں ظلم وستم سے بھری تاریخ کے خلاف آواز اٹھانے سے کم ازکم اس صدی میں فرصت نہ ملتی۔ یوں بلوچ بھائیوں کے قتل کے ساتھ ساتھ ان عناصر نے اس کے معدنی وسائل کو بھی یرغمال بنارکھا ہے۔

ہسپتالوں ،تعلیمی اداروں، ریلوے اور واسا وغیرہ جیسے اداروں کی نجکاری بھی طے شدہ پلان کے مطابق چل رہی ہے تاہم لوگوں کے شور مچانے سے اور ان محکموں کے ملازمین کے دباﺅ میں آکر یہ کچھ عرصے کے لئے ٹل جاتی ہیں لیکن جیسے ہی مزاحمت کمزور پڑتی ہے تو یہ سرمایہ دارانہ ایجنڈا دوبارہ چل پڑتا ہے۔ مثلاً ریلوے میں بزنس ٹرین کی طرز پر دس سے بارہ ٹرینوں کی پرائیویٹائزیشن عمل میں آنا تھی لیکن ورکرز کے مشترکہ احتجاج پر اس میں یہ تبدیلی آئی ہے کہ اب اس کا خسارہ کم کرکے یا منافع بخش بناکر بیچنے کی بات ہورہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں Tenure Track Systemکے ذریعے اساتذہ کی پکی نوکریاں چھڑواکر انہیں کنٹریکٹ پر بھرتیوں پر رکھا جارہا ہے جس سے اساتذہ کی اپنے شعبے سے وابستگی میں کمی آئی ہے اور جب سلف فنانس پر طلبا کے داخلے کئے گئے تو کسی نے یہ سوال نہ اٹھایا کہ نادار اور غریب طلباءکا کیا ہوگا۔ پھر اس وقت ایسے پراجیکٹس امریکہ سے پنجاب یونیورسٹی اور خیبر پختونخواہ کی سرکاری جامعات میں جاری ہیں جن میں طلباءکے لئے Endowment Fundsقائم کئے جارہے ہیں یعنی مخیر حضرات سے فنڈ اکٹھے کرواکر بڑے بینکوں میں اس سرمایہ کو Long Term Investmentکے تحت رکھ دیا گیا ہے۔ اس کے بعد اس سے حاصل شدہ سود سے طلبا وطالبات کی فیسیں ادا کی جارہی ہیں اور جیسے جیسے یہ سود بڑھتا جائے گا ویسے ویسے حکومت تعلمی بجٹ میں کٹوٹی کرتی رہے گی اور اس طرح سرکاری تعلمی اداروں سے مرحلہ وار پروگرام کے تحت ”خودکماﺅ اور خود کھاﺅ“ کی پالیسی چلنا شروع ہوجائے گی اور یہ ہی تعلیم کی نجکاری ہے۔ کچھ عرصے بعد یورپی اور امریکہ کے یہ Endowment Fundsاپنی مرضی کی تعلیمی پالیسی چلانے کی شرائط کے ساتھ نصاب میں تبدیلی کرنا شروع کردیتے ہیں۔ پھر تعلیم وہ ہوگی جسے فنڈ کے مالک تعلیم کہیں گے اور اس کے علاوہ ہرچیز کو جہالت کہا جائے گا۔

ہسپتالوں میں بھی PUblic. Private Partnershipچل رہی ہے جس میں 1990ءکی دہائی سے ہسپتالوں کے پرائیویٹ شعبے سے حاصل شدہ رقم ، مخیر حضرات سے حاصل شدہ ڈونیشن ،زکوٰة ، خیرات اور صدقات کی مداور Endowment Funds کے ذریعے حاصل ہونے والے سود کو بنیاد بناکر صحت کے شعبے سے بتدریج بجٹ کم کرنا ہے اور یہاں بھی حکومت اپنے اوپر غریبوں کی ذمہ داری سے دستبردار ہونے کا بہانہ تلاش کررہی ہے جو ورلڈ بینک کی پالیسی کے عین مطابق ہے۔

واٹر، سیوریج اور سینی ٹیشن کے اداروں میں بھی پرائیویٹائزیشن کی جانی ہے تاہم اس سے زیادہ استحصال والے ادارے ابھی پڑے ہیں۔ لاہور میں کوڑا اٹھانے تک کا ٹھیکہ اب غیرملکی کمپنی کے ہاتھ میں ہے۔ کراچی میں گھریلو استعمال کے پانی کی جو صورت حال ہے اور اس پر حکومت کی جو بے اعتنائی ہے وہ سب کے سامنے ہے جب کہ وہاں پانی ٹینکروں کا کاروبار بھی اب ایک مکمل مافیہ بن چکا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کی لعنت اور اسلام کا حل :

اسلام نے حکومت کو لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اور اسلام میں یہ بنیادی فرق ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں بنیادی ضروریات اور سامان تعیش میں فرق نہیں کیا جاتا اور حکومت تمام اشیاءخواہ وہ بنیادی ضروریات ہوں یا سامان تعیش دونوں کو سب لوگوں کے لئے دستیاب کرنے کا ذمہ اٹھاتی ہے لیکن ان سے مستفید صرف وہ ہوسکتا ہے جو ان کی قیمت ادا کرسکیں۔ جب کہ اسلام بنیادی ضروریات کو سب کے لئے فراہم کرنا حکومت پر فرض قرار دیتا ہے اور جو ان کی قیمت ادا نہ کرسکیں تو ان کے قریبی عزیزان کا ذمہ لیں اگر تب بھی ان کی بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں تو ان کی ضروریات پوری کرنا حکومت کے خزانے پر ہے۔ یہاں تک کہ ان کی بنیادی ضروریات کو کسی غیر سرکاری تنظیم کے حوالے بھی نہیں کیا گیا اور سامان تعیش اس کے لئے میسر ہوگا جو اس کی قیمت خرید رکھتا ہو۔ صاحب حیثیت لوگوں کے لئے خوراک ، لباس، رہائش ، تعلیم اور صحت کی فراہمی نجی شعبے میں کھلے کاروبار کے ذریعے پوری کی جاسکتی ہیں لیکن استطاعت نہ رکھنے والوں کے لئے حکومت ان کا ذمہ اٹھاتی ہے۔ جبکہ انسان کی کمالی ضروریات کے لئے حکومت پر ان کو دستیاب رکھنے اور کی ہرممکن ضمانت دینا ہے۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں پانی، چارہ اور آگ“ (مفہوم الحدیث ابوداﺅد ) روایت کیا گیا ہے۔ جن میں لوگ حصہ دار ہوں ان پر منافع یا ٹیکس نہیں ہے اور آگ میں شامل ہے توانائی کے تمام ذرائع ، تو ان کے استعمال پر حکومت صرف اپنے اخراجات لے سکتی ہے لیکن نہ تو انہیں کسی فرد یا کمپنی کے ہاتھوں بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہی حکومت ان کی مالک ہوا کرتی بلکہ وہ تو صرف ان کی لوگوں کے واطسے نگرانب ہوکرتی ہے۔ یعنی آگ میں شامل ہے بجلی، تیل گیس ، کوئلہ، ایٹمی پاور وغیرہ ، اور اسی طرح پانی بھی حدیث کی روسے نجی شعبے میں نہیں دیا جاسکتا۔ اور نہ ہی پارکوں اور کھلے میدانوں کو جولوگوں کے تصرف عام میں ہیں ان پر ٹیکس، یا منافع خوری کی مد میں رقم بٹوری جاسکتی ہے۔

معدنی وسائل پر دارمی کی روایت میں ہے کہ جب ابیض بن جمال نے رسول اللہ ﷺ سے مارب کا نمک (اپنے لئے ) الاٹ کروانا چاہاجب وہ واپس ہوئے تو کہا گیا یارسول اللہ ﷺ کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کیا چیز اس کے نام کردی ہے ؟ آپ ﷺ نے ان کے لئے مال عدالاٹ کردیا تو آپ ﷺ نے ان سے وہ نبمک کی کان واپس لے لی اور مال عد ومال ہے جو ختم ہونے والا نہیں ہے یعنی آپ نے وہ معدنیات اس آدمی کے نام کردیں جو ختم نہ ہونے والی تھیں گویا وہ ایک کان تھی۔ یعنی زمین کے نیچے معدنی وسائل کی کانیں افراد اور کمپنیوں کی ملکیت میں نہیں جاتیں حتیٰ کہ حکومت بھی لوگوں کی لئے نگرانی کافریضہ انجام دیتی ہے البتہ حکومت لوگوں سے وہ اخراجات وصول کرسکتی ہے جو اس نے ان وسائل کو لوگوں تک پہنچانے یا معدنیات کو Refineکرنے میں استعمال کئے ہیں۔ لیکن ان میں منافع خوری اور ٹیکس وغیرہ شامل نہیں۔ چنانچہ اسلام بنیادی ضروریات پر اجارہ داری قائم کرنے یا معدنی وسائل کی نجکاری کی اجازت نہیں دیتا اور حکومت کے لئے جائز نہیں کہ اسلام کے احکامات کے خلاف کام کرے اللہ تعالیٰ کافرمان ہے مفہوم آیت ”اور جس نے میرے ذکر (نصیحت ) سے اعراض کیا تو میں اس کی معیشت تنگ کردوں گا اور قیامت کے روز اس اندھا اٹھاﺅں گا “ (مفہوم طٰہ :124)

لائحہ عمل گزارشات

پرائیویٹائزیشن کے اس ایجنڈے کو ناکام بنانا اصل میں آزادی کی ایک اور جنگ لڑنے کے مترادف ہے۔ برطانیہ کے بعد امریکہ سے آزادی۔ تب ہی ہم اللہ کے بھیجے ہوئے نظام کے تحت زندگی گزار سکیں گے۔ پرائیویٹائزیشن کے خلاف جنگ ہمیں اسلام کی تلوار سے لڑنا ہے اور صرف اسلام کی تلوار ہی سرمایہ دارانہ نظام کے زہر کا تریاق ہے۔ ضروری ہوگا کہ ملک کو کمزور کرنے، اسے معاشی اور دفاعی بدحالی سے دوچار کرنے اور اس کے قومی اداروں کو نئے دور کی ایسٹ انڈیا کمپنیوں کے ہاتھوں یرغمال ہونے سے بچایا جائے۔ اس کے لئے چار بڑے محاذوں پر مورچے جمانے ہوں گے۔ یہ جنگ لڑنے والے جانتے ہیں کہ یہ کفر اور اسلام کی جنگ ہے جب آپ یہ لڑیں گے تو کفر اپنی پوری طاقت آزمائے گااور اہل ایمان آزمائے جائیں گے !

 پہلا محاذ اپنا ہی گھر ہے۔ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ مل کر ان تمام ٹھیکیداروں کو جنہوں نے کسی بھی ادارے کو بیچنے کی کوشش میں کوئی بھی کردار ادا کیا انہیں اپنے ورکرز پلیٹ فارم سے علیحدہ کرنا ہوگا اور ان کے پیچھے چھپے سرمایہ داروں اور حکمران جماعتوں کے رہنماﺅں کے گھروں تک پہنچنا ہو گا۔ انہیں عوام میں بے نقاب کرنا ہوگا۔ اس کے لئے اپنی نظریں تیز اور کان کھلے رکھیں اور سرکاری، غیرسرکاری، اور سرمایہ دار اداروں کی چھوٹی سے چھوٹی حرکت کو بھی نظرانداز نہ کریں بلکہ اس کی خبر اپنے ذمہ داروں کے کانوں تک پہنچائیں اور خوب جانچ پڑتال کرکے صحیح فیصلے تک پہنچیں۔ یہ وقت تنہا رہنے کا نہیں بلکہ تمام معاملات آپس میں شیئر کرنے اور متفقہ لائحہ عمل بناکر ایک آواز سے آگے بڑھنے کا ہے۔

دوسرا محاذ اپنے سرکاری اداروں کو کرپشن سے پاک حالت میں چلانا ہوگا۔ ان اداروں کا اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کے لئے حکومت کو اس کی ذمہ داری یاد کرانی ہوگی اور ساتھ ہی حکومت کو بجٹ میں ان اداروں کے لئے زیادہ رقم مختص کروانا ہوگی۔ حکومت کو ہمارے اداروں کو کسی کے ہاتھ فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ان اداروں کی بحالی کے لئے حکومت کو ایک کثیرالمدتی پلان دینا ہوگا جس میں ان اداروں کو لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کی قابل بنانا ہوگا۔ مثلاً ڈیم بنانے، ملکی کوئلہ سے بجلی پیدا کرنا، تیل اور گیس کے نئے کنوﺅں کی تلاش کرنا وغےرہ ۔

تیسرا محاذ عوام کی سطح پر ہے جہاں عوام کو اعتماد میں لے کر اس سازش کو بے نقاب کرنا ہوگا اور انہیں اس کے پیچھے چھپے عالمی طاقتوں کے ایجنڈے اور حکمران جماعتوں کے مکروہ چہرے دکھانا ہوں گے۔ اس کے لئے عوام کی سطح پر رابطہ مہم کا آغاز کرنا ہوگا۔ اس وقت میڈیا کی کالی بھیڑوں نے سرمایہ داروں کے ترجمان بن کر سرکاری اداروں کو کرپشن اور سفید ہاتھی کے طورپر بدنام کررکھا ہے اور عوام میں ان کا منفی تاثر جڑ پکڑ رہا ہے۔ اس کے لئے اینکرپرسنز، صحافی تنظیموں اور کالم نگاروں سے ملاقاتیں کرنا ہوں اور انہیں بھی educateکرنا ہوگا۔ اپنے نمائندوں کو ان ٹاک شوز میں بھیجنا ہوگا تاکہ عوام تک اصل حالات اور حقائق پہنچیں۔

چوتھا محاذ سیاسی جماعتوں کو رابطے میں لانا ہے جس کا پہلا قدم اٹھایا جاچکا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ سیاسی جماعتیں قومی اداروں کو بیچے جانے کی ہرکوشش کو ناکام بنانے کے لئے حکومت پر اپنا پورا دباﺅ ڈالیں گے۔ اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔

مزید : کالم