لاہور ہائیکورٹ بار الیکشن انڈیینڈنٹ اور پروفیشنل گروپ میں سخت مقابلے کا امکان

لاہور ہائیکورٹ بار الیکشن انڈیینڈنٹ اور پروفیشنل گروپ میں سخت مقابلے کا ...

 لاہور(نامہ نگارخصوصی) لاہورہائیکورٹ بارایسوسی ایشن کے الیکشن میں سیاسی جماعتوں کی مداخلت سے انڈیپنڈنٹ اورپروفیشنل گروپ میں سخت مقابلے کا امکان پیدا ہو گیا،صدارت کے لئے انڈیپنڈنٹ گروپ کے پیر محمدمسعود چشتی کو عاصمہ جہانگیر ، اعظم نذیرتارڑ اوراحسن بھون جبکہ پروفیشنل گروپ کے محمد شاہد مقبول شیخ کو تحریک انصاف کے حامد خان کی حمایت حاصل ہے۔شاہد مقبول شیخ کو میاں اسرارالحق کے آرائیں گروپ کے علاوہ پیپلز پارٹی کے ایک مضبوط دھڑے کی حمایت حاصل ہے کیونکہ پیر مسعود چشتی نے وفاقی سیکرٹری قانون کی حیثیت سے یوسف رضا گیلانی کیس میں آصف زرداری کی بجائے بابر اعوان کا ساتھ دیا تھا۔پہلی مرتبہ بائیو میٹرک سسٹم کے تحت 28فروری کوہونے والے الیکشن کے لیے امیدواروں کی انتخابی مہم آخری مراحل میں داخل ہوگئی اور دونوں گروپوں میں جوڑ توڑ کا سلسلہ بھی عروج پر پہنچ چکا ہے، الیکشن کے سلسلہ میں امیدواروں کی طرف سے ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم کے ساتھ ساتھ ظہرانوں ٗ عصرانوں اور عشائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے،لاہورہائیکورٹ بارکے19ہزار سے زائد ووٹرز چارعہدوں کے لئے نئی قیادت منتخب کریں گے ۔سیکرٹری کے عہدے کے لئے تین امیدوار محمد احمد قیوم ،میاں اصغر علی اور اصغر علی ہاشمی میں جوڑ پڑے گا۔محمد احمد قیوم سابق جسٹس ملک محمد قیوم کے صاحبزادے ہیں اور انہیں وکلاء کے بڑے گروپوں کی حمایت بھی حاصل ہے ،نائب صدرات کے لئے صوفیہ مسعود ٗ محمد عرفان عارف شیخ کے مابین مقابلہ ہوگا جبکہ فنانس سیکرٹری کے عہدے کے لئے عظیم اکرم ،نبیلہ منظور جعفری ،آمنہ اجمل اور سید اختر حسین شیرازی آمنے سامنے ہیں ۔ ہائیکورٹ بار الیکشن مہم

مزید : صفحہ آخر