سیدو شریف سوات میں خدمات رسائی مرکز کا افتتاح

سیدو شریف سوات میں خدمات رسائی مرکز کا افتتاح

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)چیف کمشنر خدمات تک رسائی کمیشن محمد سلیم خان نے کہا ہے کہ سرکاری خزانے کا زیادہ تر حصہ غیر ترقیاتی اخراجات پر خرچ ہوتا ہے، ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ میں فرق کا تناسب اسی وجہ سے زیادہ ہے، اخراجات اور بجٹ میں اس تفریق کو ختم کرنے کے لئے انتھک محنت کی ضرورت ہے، تفریق کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر اور عوامی امنگوں کے مطابق کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈپٹی کمشنر آفس سیدو شریف میں خدمات تک رسائی کمیشن کی ضلعی جائزہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام بھی شریک ہوئے۔ ڈپٹی کمشنر سوات جنید خان، ضلعی انتظامیہ کے آفیسرز، ضلعی محکموں کے سربراہان اور دیگر متعلقہ حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔ اجلاس میں خدمات تک رسائی کمیشن کے تحت ضلع میں اداروں کی جانب سے خدمات کی فراہمی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیف کمشنر خدمات تک رسائی کمیشن کا کہنا تھا کہ خدمات کی بروقت فراہمی متعلقہ محکموں کی اولین ذمہ داری ہے، خدمات کی نہ صرف بروقت فراہمی یقینی بنانی ہوگی بلکہ عوام کے لئے خدمات کا حصول آسان بھی بنانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ خدمات کی فراہمی کے لئے ایسے طریقے ڈھونڈنے ہونگے جس سے عوام کا پیسہ اور وقت کا ضیاع نہ ہو اور عوام کو مشکل مراحل سے بھی نہ گزرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ خدمات کا تعلق عوام کی روزمرہ ضروریات سے ہے اور عوام کو خدمات بروقت فراہم نہ کرنا عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب بنتا ہے جو عوام کا اداروں پر اعتبار کو کمزور کرتا ہے۔ اجلاس کے بعد خدمات تک رسائی کمیشن کے تحت عوام کو بہتر سہولت فراہم کرنے کے لئے خدمات رسائی مرکز کا افتتاح بھی کیا گیا۔ افتتاح چیف کمشنر خدمات تک رسائی کمیشن سلیم خان اور کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام نے مشترکہ طور پر کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سوات جنید خان اور دیگر حکام موجود تھے۔مرکز خدمات تک رسائی کمیشن کے تحت کام کرتے ہوئے شہریوں کو 44 مختلف نوٹیفائیڈ خدمات کے حصول میں رکاوٹوں کو دور کرنے اور شہریوں کو معانت فراہم کرنے کے لئے کام کرے گا۔ افتتاح کے ساتھ ہی خدمات رسائی مرکز نے کام کا اغاز کردیا ہے جس کے لئے متعلقہ وسائل فراہم کردئیے گئے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -