سیلابی بارشوں کے باعث چاول کی فصل متاثر ہونے کاخدشہ ہے‘رفیق سلیمان

سیلابی بارشوں کے باعث چاول کی فصل متاثر ہونے کاخدشہ ہے‘رفیق سلیمان

کراچی (اکنامک رپورٹر)رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین رفیق سلیمان نے کہاکہ سیلابی بارشوں کے باعث چاول کی فصل متاثر ہونے کاخدشہ ہے ، چاول کی برآمدات کامقررہدف دوارب ڈالر کاحاصل ہونے کے بجائے 1.89 ارب ڈالر حاصل ہوسکا ہے لیکن چاول کی برآمدات میں184 ارب روپے کی کمی کے بیانات زمینی حقائق کے خلاف ہے یہ بات انہوں نے گزشتہ روز کہی ۔رفیق سلیمان نے کہا کہ دنیا بھرمیں تحقیق اور ڈیولپمنٹ پر بھرپورتوجہ مرکوزکی جارہی ہے اورہمسائیہ ممالک بھارت،بنگلہ دیش میں بھی چاول کے نئے بیجوں سمیت چاول کی برآمدات میں اضافے کے لیے ریسرچ اینڈڈیولپمنٹ سینٹرز پرکام کیاجارہا ہے لیکن پاکستان میں اسکے برعکس حکومتی عہدیداران اسلام آباد میں قائم (NARC) ریسر چ سینٹر کی زمین پرہاوسنگ اسکیم متعارف کرانے کی کوشش کررہی ہے جسکی چاول کے برآمدکنندگان اور رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان شدید مخالفت کرتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا زرعی سیکٹر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کادرجہ رکھتا ہے اور پرائم ریسرچ سینیٹر ملک کا اسٹیٹ آف دی آرٹ کے طرز پرقائم ہونے کے ساتھ ساتھ فعال بھی ہونا بے حدضروری ہے تاکہ ملک کے زرعی سیکٹر میں زیادہ سے زیادہ ریسر چ اینڈڈیولپمنٹ پر توجہ مرکوزکی جاسکے اور زرعی سیکٹر کی برآمدات میں اضافہ کرتے ہوئے ملک کوزیادہ غیر ملکی زرمبادلہ کما کردیا جاسکے ۔

رفیق سلیما ن نے کہا کہ اسلام آباد میں نیشنل ایگری کلچر ریسرچ سینیٹر کوختم کرکے ہاوسنگ اسکیم لانے کی قانونی تیاری کی جارہی ہے جوکہ ملکی برآمدات پر بری طرح اثراندازہوسکتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ سالانہ بنیاد پر سیلابی ریلوں اور بارشوں سے ہونے والے جانی اورمالی نقصانات سے بچنے کے لیے موثر اقدامات بروئے کار لائے اور پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی سالانہ تباہی کاخاتمہ کیا جائے کیونکہ دنیا بھرکے خریدار موسم،حالات اور زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے زرعی سیکٹر سے وابستہ چاول،پھلوں،سبزیوں،ویلیو ایڈیڈ مصنوعات ،ٹیکسٹائل ،لیدر،ماربل اوردیگربرآمدی آڈرزدیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف ،وزارت تجارت،وزارت زراعت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سیلابی ریلوں ،بارشوں اور بین الاقوامی سطح پر چاول کی خریدارکی قیمت میں کمی سے چاول کی برآمدات میں کمی سے بچانے کے اقدامات کرتے ہوئے نیشنل ایگری کلچر ریسرچ سینٹرز کو اسلام آبادمیں قائم رکھا جائے کیونکہ اسلام آباد پاکستان کاکیپٹل ہے اور دنیا بھر جیسے بھارت کے شہر دہلی میں انڈیا کونسل برائے ایگری کلچر ریسرچ(ICAR)،بنگلہ دیش کے کیپٹل ڈھاکا میں بنگلہ دیش ایگری کلچر ریسرچ سینیٹر(BARC ) اورنیپال کے کیپٹل کھٹمنڈو میں نیپال ایگری کلچر ریسرچ سینیٹر(NARC) قائم ہیں لہذاپاکستان کے کیپٹل اسلام آباد میں بھی ریسرچ سینٹرز کاقیام برقراررکھا جائے اور ہاوسنگ اسکیم کو ملک میں موجودبے شمار خالی زمینوں پرمتعارف کرائی جائے

مزید : کامرس