علمائے کرام، صدقہ و خیرات اور غربت

علمائے کرام، صدقہ و خیرات اور غربت
 علمائے کرام، صدقہ و خیرات اور غربت

  


ماہِ رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی ہر طرف روزے کے فضائل و برکات کا تذکرہ شروع ہو جاتا ہے۔ اخبارات خصوصی ایڈیشن شائع کرتے ہیں۔ دروس قرآن کا بھی مرکزی مضمون یہی ہوتا ہے۔خطبات جمعہ میں بتایا جاتا ہے کہ ماہِ مذکور میں اللہ تعالیٰ ہر نیک عمل کا اجر کئی کئی گُنا بڑھا دیتے ہیں۔علمائے کرام زکوٰۃ اور صدقہ و خیرات کی ادائیگی کی طرف خاص طور سے توجہ دلاتے ہیں۔ 26رمضان کو اکثر و بیشتر مساجد میں ختم قرآن کا پروگرام ہوتا ہے۔ لیلتہ القدر کی روحانی برکات پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ جمعتہ الوداع کے موقع پر مسلمانوں کو فطرانے کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ یہ غریب غرباء کا حق ہے جسے نمازِ عید پڑھنے سے پہلے ادا کرنا چاہئے۔ امسال لاہور میں کچھ علماء نے فی کس فطرانہ ایک سو اور کچھ نے سوا سو روپے بتایا۔

ہمارے واعظین اور خطیب حضرات عام طور پر روزے پر کلام کرتے ہوئے ’تبشیر‘ کا انداز اختیار کرتے ہیں،یعنی ماہِ مذکورہ کے دوران انجام دیئے گئے اعمال صالحہ کا بے پناہ اجر و ثواب بتاتے اور جنت کی بشارتیں دیتے ہیں۔لیکن ”اِنذار“ کو فراموش کر دیتے ہیں۔ علمائے کرام بلاشبہ پیغمبر کرامؐ کے جانشین ہوتے ہیں،انہیں یاد ہونا چاہئے کہ ہادیئ اعظمؐ جب واعظ و نصیحت فرماتے تھے تو لوگوں کو اعمالِ صالحہ کا اجر و ثواب بتانے کے ساتھ ساتھ اعمالِ سیہئ کے بدلے میں ملنے والے عذاب کی وعید بھی سناتے تھے۔خدا وند تعالیٰ کی ناراضی کا خوف دلاتے تھے۔انداز ایسا پُرخلوص اور پُرتاثیر ہوتا کہ سامعین کی آنکھوں میں برسات کی گویا جھڑی لگ جاتی تھی۔

ایسے مواعظ کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ لوگوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں خیر کا پہلو غالب رہے اور حرص، حسد، اسراف، نمود و نمائش، ہوسِ زر وغیرہ کے رجحانات قابو میں رہیں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے علمائے کرام صدقہ و خیرات اور زکوٰۃ، فطرانے ہی کو غریبوں اور مفلسوں کے لئے کافی خیال کر لیتے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ وہ آج کے استحصالی معاشی ہتھکنڈوں اور پیچیدگیوں سے پوری واقفیت تو نہیں رکھتے،لیکن اتنا تو وہ بھی جانتے ہیں کہ ماہِ رمضان شروع ہوتے ہی کیسے لوٹ مار کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔

دکانداروں اور تاجروں کی برادری ہر شے غریب کیا عام آدمی کی بھی پہنچ سے دُور کر دیتی ہے۔ کیا پھل، کیا سبزیاں اور کیا کپڑا ہر چیز کو گویا آگ لگ جاتی ہے۔ سحری و افطاری کی ضروریات ہی پوری نہیں ہو سکتیں۔علماء غریبوں اور امیروں کی سحریوں اور افطاریوں کو کبھی موضوع بحث نہیں بناتے۔کیا پہلی صدی ہجری کے زمانے میں بھی اتنا ہی معاشی تفاوت ہوتا تھا؟ کیا پیغمبر اکرمؐ اور خلفائے راشدینؓ کے دور میں بھی عید ایسے خوشی کے موقع پر ایسے ہی خود کشیاں ہوتی تھیں جیسے آج ہمارے ہاں ہو رہی ہیں۔

علماء کو چاہئے کہ جب وہ غریبوں کے لئے فطرانے کی ادائیگی کا مسئلہ بیان کریں تو وہ یہ بھی بتائیں کہ لوگو آج اگر ہماری کثیر آبادی خط ِ غربت سے بھی نیچے زندگی گزار رہی ہے تو اس کے ذمہ دار بھی تمہارے ہی درمیان بیٹھے ہیں۔افلاس محض صدقہ و خیرات اور فطرانے سے دُور نہیں ہو گا، جو لوگ مخلوقِ خدا کا قافیہ تنگ کرتے ہیں وہ روزِ حشر خدا وند تعالیٰ کی طرف سے غیظ و غضب کا نشانہ بنیں گے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ علماء اگر کچھ بھی انذار سے کام لیں تو غربت و افلاس کے اندھیروں سے ہمارے معاشرے کو نجات مل سکتی ہے۔

اگرچہ آج انذار کی سنت ِ رسول ؐ کو زندہ کرنا ہتھیلی پر انگارہ رکھ کر چلنے کے مترادف ہے،مفادات کے مارے ہوئے اونچے طبقات اس قسم کی تبلیغ کو نہ انبیائے کرام کے زمانے میں برداشت کرتے تھے،نہ آج کر سکتے ہیں، لیکن اِنذار کا راستہ اختیار کیے بغیر غریبوں کے لیے راستے کشادہ نہیں ہو سکیں گے۔

مزید : رائے /کالم