اداکاری!

اداکاری!
 اداکاری!

  


یہ دنیا، جیسا کہ شیکسپیئر نے کہا تھا، واقعی ایک اسٹیج ہے، اور ہر شخص ادھر آتا اور اپنے اپنے حصہ کی اداکاری کر کے چلا جاتا ہے۔ صحیح یا غلط یہ بات شیکسپیئر نے اپنے ایک کردار سے کہلوا دی تھی، لیکن اسے جس بھی پہلو سے دیکھ لیا جائے، درست! لوگ خواہ! ان کا تعلق کسی بھی طبقے یا شعبے سے ہو، زندگی بھر اداکاری ہی کیا کرتے ہیں۔شوبز کی دنیا میں تو اعلانیہ اداکار ہوتے ہیں جب جہاں اور جو ضرورت پڑی، سوانگ بھر لیا، ان پر لیکن منافقت کا الزام نہیں آ سکتا، ان کا ہنسنا، رونا، چپ رہنا یابولنا، جینا اور مرنا سب ڈرامے کا حصہ اور قصہ ہوتا ہے۔ فنکاری اور اداکاری! نقل مطابق اصل!! لفظوں کو زبان دینا اور خاکوں میں جان ڈالنا ان کا پیشہ قرار پایا، اور وہ کماحقہ اپنے شعبہ سے مخلص ہوتے ہیں۔

عجب اور غضب تو یہ ہے کہ پیشہ ور اداکاروں سے قطع نظر، ہم سب لوگ بجائے خود اداکار ہیں بزرگ و مقدس ہستیوں اور عظیم رہنماؤں کے نقال، جو نقالی کا بھی حق ادا نہیں کر پاتے۔ حرکت بھونڈی! بیان، عمل، تقریر اور تصویر اداکارانہ، واعظ، مبلغ اور جانشین اداکار! قوال، قاری اور ذاکر بھی منبر پر ان کی ہاؤ ہو اور بے موقع رقص صرف فیس کا ذریعہ ہوتا ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک نقال! علمائے سو، علمائے ربانی و حقانی کی جگہ اداکار۔ جسے دیکھو اور جہاں دیکھو اداکاری کرتا جاتا ہے۔

ایک جج، بار روم میں رزقِ حلال پر تقریر کرنے آیا، اور خوب گفتگو فرمائی حالانکہ اس خطبے پر خود عمل پیرا نہیں حضرت ملا نے مادیت گزیدگی پر خوب خطبہ دیا۔ اس کے باوصف کہ وہ خود مالِ فروختنی ہیں اور جہاں کسی نے خریدا، بکے! اداکار ہی اداکار! شاہینوں کے لئے کرگس اور سچوں کے لئے جھوٹے اداکار!! بہروپی روپ۔ جب کہیں موقع ملتا ہے، اپنے بزرگوں، کی ہڈیاں بیچ کھاتے ہیں۔ اداکاری بھی غیر معیاری! ہم اس عہد میں ا ٓداخل ہوئے ہیں، جہاں سب ”مایا“ ہے، اور مایا کے لئے دنیا دار تو دنیا دار دیندار بھی اداکاری کیا کرتے ہیں، وہ کون سا فرد یا طبقہ ہے جو اداکار نہیں سب مداری اور مایا کے پجاری! مادی مفادات کا معرکہ درپیش آیا ہوا ہے ہم دین کو دنیا کے لئے بیچنے کو ہر وقت تیار بیٹھے ہیں۔ دین و آخرت کے نام پر کاروبار دنیا!

اقبالؒ نے کہا تھا رہ گئی رسم اذاں، روح بلالی نہ رہی، اور پھر تلقین غزالیؒ! یہ کون کس کی مسند پر آ بیٹھے ہیں؟ میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا، وگرنہ صاف صاف بتاتا کہ کون کیا کر رہا ہے؟ کون کیا نہیں کر رہا؟ ضمیر فروشی سے آگے دین فروشی! ایک دانائے راز نے فرمایا تھا: اگر تم حق پر ہو، اور تونگر بھی تو غور کرو کہ واقعی تم حق پر ہو؟ کون حق پر ہے؟ کسی سے پوچھنے کی ضرورت ہے، نہ بتانے کی! چہار سو ”جھوٹے روپ کے درشن“ خود دیکھا چاہئے۔ اداکار ہی اداکار اور اداکاری ہی اداکاری!ہر درد مند دل ارباب نظر و خیر کو ڈھونڈ رہا ہے، لیکن یہ عہد قحط الرجال ہے کیا بند ہوتے ہوئے بازار میں چند چراغ بھی روشن نہیں ہوا کرتے؟

مزید : رائے /کالم