میر جعفر نے غداری کے بعد سراج الدولہ پر ظلم کے پہاڑ توڑے، خاندان کے سینکڑوں افراد کو بے رحمی سے قتل کیا

میر جعفر نے غداری کے بعد سراج الدولہ پر ظلم کے پہاڑ توڑے، خاندان کے سینکڑوں ...
میر جعفر نے غداری کے بعد سراج الدولہ پر ظلم کے پہاڑ توڑے، خاندان کے سینکڑوں افراد کو بے رحمی سے قتل کیا
سورس: Wikipedia

  

میر جعفر برصغیر کی تاریخ کا ایک ایسا کردار ہے جس کو لوگ ہمیشہ ہی برے لفظوں میں یاد رکھیں گے، اس شخص کی اپنے نواب سراج الدولہ سے  غداری کی بدولت  بیرونی طاقت یعنی انگریز کو اگلے دو سو سال تک ہندوستان پر حکمرانی کا موقع ملا اور انہوں نے خوب لوٹ مار مچائی،  میر جعفر نے بھی اپنے نواب سراج الدولہ کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کیا اور انہیں اور ان کے اہل خانہ کو بے دردی کے ساتھ قتل کیا۔

پلاسی کی جنگ سنہ 1757 میں لڑی گئی تھی ، یہی وہ جنگ تھی جس میں سراج الدولہ کی فوج کے سپہ سالار یعنی میر جعفر  نے انگریز کے ساتھ ساز  باز کی اور عین جنگ کے دوران پارٹی بدل لی جس کی وجہ سے سراج الدولہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔  23 جون سنہ 1757 کو پلاسی کی جنگ ہارنے کے بعد سراج الدولہ اونٹ پر  میدان جنگ سے بھاگے اور طلوع آفتاب کے وقت  مرشد آباد پہنچے، اس وقت مرشد آباد بنگال کا دارالحکومت تھا، کچھ روز تک یہاں چھپے رہنے کے بعد سراج الدولہ عام لوگوں کا لباس پہن کریہاں  سے اپنے قریبی رشتے داروں  اور بعض خواجہ سراؤں کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے۔  صبح تین بجے انھوں نے اپنی اہلیہ لطف النسا اور بعض قریبی رشتہ داروں کو احاطہ دار گاڑیوں میں بٹھا یااور جتنا سونا اور زیورات اپنے ساتھ لے سکے اپنے ساتھ لے گئے اور محل چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ وہ پہلے بھاگوان گولہ گئے اور پھر دو دن بعد کئی کشتیاں بدل کر محل کے کنارے پر پہنچے۔ اس سارے سفر کے دوران سراج الدولہ اور ان کے ساتھ جانے والوں نے کچھ بھی نہیں کھایا تھا، یہاں سراج الدولہ نے کھچڑی بنوائی۔ دوسری جانب میر جعفر اور اس کے انگریز حواری سراج الدولہ کو ڈھونڈنے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف تھے لیکن ابھی تک انہیں ڈھونڈ نہیں پائے تھے۔ جس علاقے میں سراج الدولہ کھانا کھانے کیلئے رکے تھے اسی علاقے کے شاہ دانا نامی  ایک فقیر  نے مخبری کرتے ہوئے سراج الدولہ کے دشمنوں کو اُن کے وہاں پہنچنے کی خبر دے دی۔یہ خبر ملتے ہی میر جعفر کے داماد میر قاسم نے دریا عبور کیا اور سراج الدولہ کو اپنے مسلح افراد کے ساتھ گھیر لیا۔

سراج الدولہ کو 2 جولائی 1757 کو گرفتار کر کے مرشد آباد لایا گیا جہاں انہیں  آدھی رات کو اسی محل میں میر جعفر کے سامنے پیش کیا گیا جس میں کچھ دن پہلے تک وہ رہا کرتے تھے۔ سراج الدولہ  نے میر جعفر کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے اور  کانپتے ہوئے اپنی جان کی امان مانگی۔ اس کے بعد سپاہی ان کو محل کے ایک دوسرے کونے میں لے گئے۔ اسی دوران میر جعفر اپنے درباریوں اور اہلکاروں سے یہ مشورہ کرتے رہے کہ سراج الدولہ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ اس کے پاس تین متبادل راستے تھے۔ یا تو سراج الدولہ کو مرشد آباد میں قید کر دیا جائے یا ملک سے باہر قید کیا جائے  اوریا پھر انھیں سزائے موت دے دی جائے۔بعض لوگوں نے مشورہ دیا  کہ ۔۔۔ اس حوالے سے مکمل تفصیل جاننے کیلئے ڈیلی پاکستان ہسٹری کی یہ ویڈیو دیکھیں۔

ہماری مزید تاریخی اور دلچسپ ویڈیوز دیکھنے کیلئے "ڈیلی پاکستان ہسٹری" یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

مزید :

ڈیلی بائیٹس -