بچنے کا واحد اور مکمل راستہ

بچنے کا واحد اور مکمل راستہ
بچنے کا واحد اور مکمل راستہ

  

بلاشبہ ہم سب آج بے شمار مشکلات اور مسائل کے ایک خوفناک بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں۔ بے دردی اور بے رحمی سے ایک دوسرے کے قتل عام میں ہم مصروف ہو چکے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے قتل کا تماشہ دیکھنے میں لگے ہوئے ہیں۔ حکمرانی کی رِٹ نہ ہونے کے برابر ہو چکی ہے۔ ہر طرف افراتفری کا عالم ہے۔ ہم اپنے ہی بھائی بہنوں کو دفن کرتے کرتے تھک چکے ہیں۔ اُن کے دفن کرنے کے لئے ملک میں کوئی مناسب جگہ بھی نہ رہی ہے۔ کیا ہم نے یہ پاکستان لاکھوں قربانیاں دے کر آباد گھروں کو اُجاڑنے کے لئے بنایا تھا؟.... ہمارا شہر کراچی دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں گنا جاتا ہے۔ پاکستان کے کُونے کُونے سے لاکھوں لوگ آکر کراچی شہر میں آباد ہو چکے ہیں۔ معاشی اور اقتصادی اعتبار سے کراچی ہماری شہ رگ ہے۔ کراچی پاکستانی قوم کا پہلا دارالخلافہ بننے کا شرف بھی حاصل کر چکا ہوا ہے۔ یہ کہنا بجا طور پر درست معلوم ہوتا ہے کہ ہم کراچی کو تباہ و برباد کرنے کے ساتھ ساتھ پوری پاکستانی قوم کو نیست و نابود کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ ملک اور قومیں کیوں معرضِ وجود میں آتے ہیں۔ ان کے بنانے کے مقاصد کیا ہوتے ہیں۔ معاشرے صرف اور صرف اس لئے قائم ہوتے ہیں تاکہ جرائم کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکے۔ لوگ امن و سکون سے اپنی زندگی بسر کر سکیں۔ ہر ایک کو ترقی کے مواقع مل سکیں۔ بامقصد تعلیم عام ہوگی تو ہم اچھی طرح اپنے اپنے فرائض کو سمجھ پائیں گے۔ دوسرے کے حقوق کی پوری طرح پاسداری کریں گے۔ اپنے تمام ہمسایوں کی دیکھ بھال اسی طرح کریں گے، جس طرح کہ خود ہم اپنے خاندان کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ اجتماعی طور پر ہم تمام جرائم کو ایک ایک کر کے ختم کرتے جائیں گے۔ یہ سب کرنا عین ممکن ہے۔

ہماری رہنمائی کے لئے ہمارا آئین اور دیگر ہر قسم کے قوانین موجود ہیں۔ ان قوانین پر نیک نیتی اور ایمانداری سے عمل کرنا باقی پڑا ہُوا ہے۔ قوانین پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے کراچی، کوئٹہ،پشاور اور لاہور وغیرہ سے قانون کی حکمرانی دم توڑتی نظر آتی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستانی قوم کو شروع ہی میں ”یونٹی، فیتھ اور ڈسپلن“ کا سبق پڑھایا تھا، اگر ہم قائداعظم کے ان تین احکامات پر دل سے عمل کرنا شروع کر دیں تو ہم اپنے تمام مسائل کو حل کر سکتے ہیں اور اس طرح ترقی کی طرف چل سکتے ہیں۔ ان تین احکامات میں زندگی کو کامیابی اور فتح کی طرف چلانے کی بھرپور طاقت موجود ہے۔ آئیں ہم یہ سب کام ابھی سے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسی میں ہم سب کی نجات ہے۔ ایک بار ہاتھ سے نکلا ہُوا وقت دوبارہ واپس نہیں آیا کرتا۔ ہر شہری کا وقت قوم کی طرف سے اس کے پاس بطور امانت پڑا ہوا ہے۔ اس امانت میں ہرگز کبھی خیانت نہ ہو۔ وقت پر ہر کام کرنے سے ہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو لوگ وقت کی قدر نہیں کرتے ۔ وہ کبھی کسی قسم کی ترقی نہیں کر پاتے ہیں۔ وہ لوگ اندھیروں میں نشے کی حالت میں پڑے رہتے ہیں۔

دنیا میں چین کی مثال ہمارے لئے قابل تقلید ہے۔ چین ہمارے ساتھ ہی تقریباً آزاد ہُوا تھا۔ آج کا چین دنیا کا ایک انتہائی ترقی یافتہ ملک بن گیا ہے۔ ان لوگوں کی دن رات کی محنت ہی ان کی عظیم الشان ترقی کا سبب بنی ہے۔ چین ہمارا ہمسایہ ملک ہے۔ وہ ہمارا ایک قابل رشک اور پُر اعتماد دوست بھی ہے۔ وہ وقت ہرگز دور نہ ہے۔ جب چین امریکہ سے بھی بہت آگے نکل جائے گا۔ چین کی ترقی بلاشبہ ایک معجزہ سے ہرگز کم نہ ہے۔ ہمیں چین کی ترقی کو بطور مثال سامنے رکھنا ہوگا۔ دفاع کے میدانوں میں بھی چین نہ صرف خود کفیل ہوگیا ہے، بلکہ وہ اپنے دوست ملکوں کی بروقت امداد میں بھی مصروف رہتا ہے۔ زندہ قومیں اسی طرح کیا کرتی ہیں۔ وہ اپنی مدد آپ کے اصول پر عمل کرتی ہیں۔ ان کے ہاں دوسروں پر انحصار کرنا ممنوع ہوتا ہے۔ پاکستان میں ایک بڑی قوت بننے کی بجا طور پر صلاحیت موجود ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس صلاحیت سے جلد از جلد بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ ہمارے لئے یہ بات بھی نوشتہءدیوار ہے کہ ہماری قومی سطح پر ہر قسم کی ترقی کا دارومدار سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں خود کفالت میں پوشیدہ ہے۔ یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی ہی تھی، جس کی بدولت ہمارا قومی دفاع ناقابل تسخیر بن گیا ہے۔ ہمارے تمام سائنس دان بجا طور پر ہمارے قومی ہیروز ہیں۔ ان کا احترام کرنا ہم سب پر واجب ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان بجا طور پر ہمارے قومی ہیرو ہیں۔ میری تجویز ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو با اتفاق رائے آئندہ انتخابات میں پاکستان کا صدر منتخب کیا جائے۔ ان کا ہم پر بڑا احسان ہے۔ ان کے احسان کو چُکانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم ان کو سرزمینِ پاکستان کا اول شہری بنائیں۔ بھارت اس طرح کا کام بہت عرصہ پہلے کر چکا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر عبدالکلام کو بھارت کا صدر منتخب کیا تھا۔ ایسے کام میں ہم بھارت سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ بہرحال اب بھی اس قومی کام کو سر انجام دینا ہمارے لئے سرفہرست ہے۔ دنیا میں وہی قومیں سرخ رو ہوتی ہیں، جو اپنے قومی ہیروز کو دن رات یاد رکھتی ہیں۔ ان کی عزت احترام کا پورا پورا خیال رکھتی ہیں۔

جگہ جگہ دہشت گردی کے دل ہلا دینے والے واقعات ہو رہے ہیں۔ ابھی ابھی پشاور شہر کے ”جوڈیشل کمپلیکس“ کا دل ہلا دینے والا خودکش واقعہ ہوا ہے۔ مجھے تو یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ ان دہشت گردی کے کاموں میں ہمارے دشمن ملک اپنا اپنا حصہ ڈالتے چلے جا رہے ہیں۔ ہماری انتظامیہ بے بس ہوگئی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی پیچھے رکھی ہوئی طاقت کو استعمال کرنے کا سنجیدگی سے سوچیں۔ دیر کرنے سے ہمارے حالات قابو سے بھی باہر ہو سکتے ہیں۔ ایسا ماضی میں ہمارے ساتھ ہو چُکا ہوا ہے۔ ماضی کے تجربات سے ہمیں اسباق سیکھنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ دشمن ہمیں اپنے ہی گھر میں تباہ کرنے کے لئے بے حساب کوششوں میں لگا پڑا ہے۔ گہری نیند سے ہمارے جاگنے کا وقت آگیا ہے۔ اگر آج ہم اس غفلت اور لاپرواہی کی نیند سے بیدار نہ ہوئے تو ہمیں ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانے ہوں گے۔ ہم پہلے ہی اپنا بہت نقصان کر چکے ہیں۔ مزید نقصان برداشت کرنے کی ہم میں اب باقی سکت نہ رہ گئی ہے۔ ذرا سوچیں کہ کیا وہ وہی دشمن تو نہ ہے، جس نے ہمیں اپنے ہی بھائیوں سے جدا کیا تھا۔ ہمارے مشرقی بازو کو توڑ دیا تھا۔ میرے نزدیک یہ وہی دشمن ہے جو ہمارے خلاف تباہ کن کارروائیوں میں لگا ہوا ہے اس بار اس نے اپنا طریق کار تبدیل کیا ہے۔ اس نے ہمیں خانہ جنگی میں دھکیل دیا ہے۔ یہ تو دشمن کا پہلے سے کامیاب آزمایا ہوا تجربہ ہے۔ دشمن ہمارے اندر داخل ہوگیا ہے۔ وہ طرح طرح کی بدگمانیاں ہمارے اندر پیدا کرنے کی کوششوں میں دن رات لگا ہوا ہے۔ مشرق سے فارغ ہونے کے بعد ہمارا دشمن اب مغربی سرحدوں میں داخل ہو کر ہمارے خلاف کارروائیوں میں مصروف نظر آتا ہے۔     ٭

مزید :

کالم -