اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 180

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 180

  

میں نے اس سے پوچھا کہ دیوتاﺅں نے اسے یہ سزا کیوں دی ہے۔ اس نے ایک سرد آہ بھری اور کہا

”مجھ سے ایک گھناﺅنا جرم، ایک مکروہ گناہ سرزد ہوگیا تھا۔ آج سے سینکڑوں برس پہلے جب میں اپنی بہن سیف وکے پاس اس کے محل میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہی تھی تو مجھے ایک سنگتراش سے محبت ہوگئی۔ یہ سنگ تراش شادی شدہ تھا۔ اس کا ایک ہی اکلوتا بچہ تھا۔ وہ اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا تھا۔ میں نے اس سنگ تراش سے جب شادی کی خواہش کا اظہار کیا تو اس نے کہا کہ وہ اپنے اکلوتے بچے سے بہت پیار کرتا ہے اور اس بچے کی جوہ سے اپنی بیوی سے بھی محبت کرتا ہے اور اسے نہیں چھوڑ سکتا۔ میری آنکھوں پر خود غرضی نے پردہ ڈال رکھا تھا۔ میں نے ایکر وز اس کے اکلوتے بچے کو اکیلا پاکر خنجر سے ہلاک کرڈالا۔ میرے سنگ تراش محبوب پر اپنے بچوں کی موت کا اس قدر گہرا ثر ہوا کہ وہ ایتھنز چھوڑ کر نہ جانے کہاں نکل گیا۔ ایک رات میں اپنی خواب گاہ میں اپنے ریشمی بستر پر لیٹی تھی۔ میرے ہاتھ میں گلاب کا پھول تھا۔ میں اسے اپنے ہونٹوں سے لگائے غنودگی کے عالم میں تھی کہ اچانک ایک انسانی ہیولا تیزی سے میری طرف بڑھا۔ میں دہشت سے سن ہوگئی۔ اس کے ہاتھ میں خنجر چمک رہا تھا۔ اس نے بجلی کی سی تیزی سے خنجر میرے سینے میں پیوست کردیا۔ میرے منہ سے ایک دلدوز چیخ نکلی اور مجھے کچےھ ہوش نہ رہا۔ جب ہوش آیا تو ایک تاریک قبر میں، سفید چادر میں لپٹی پڑی تھی۔ خنجر میرے سینے میں پیوست تھا اور درد سے میرا وجود لرز رہا تھا۔ میں نے خنجر کو اپنے سینے سے نکالنے کے لئے ہاتھ اٹھائے تو میرے ہاتھ سینے تک پہنچتے ہی مفلوج ہوگئے۔ میں نے کئی بار یہ کوشش کی مگر ہر بار میرے بازو خنجر کے قریب پہنچے ہی جیسے پتھر کے بن جاتے۔ درد سے میرا کلیجہ پھٹا جارہا تھا۔ مجھے اپنےس رہانے کی جانب قبر میں روشنی نظر آئی۔ یہ ایک شگاف تھا۔ میں اٹھ کر اس شگاف میں سے دوسری طرف آگئی۔ اب میں اس کمرے میں تھی جہاں تم مجھے اس وقت دیکھ رہے ہو۔ تب سے لے کر آج تک سینکڑوں برس گزرگئے ہیں۔ نہ میرے عذاب میں کمی ہوئی نہ درد کی شدت کم ہوئی اور نہ میں خنجر اپنے سینے سے باہر نکال سکی۔ یہ ہے میری داستان عذاب۔“

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 179 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں بت بنا سیفو کی قاتل بہن کی روح کا المیہ سن رہا تھا۔ اس نے ایک گہری آہ بھر کر مجھ سے التجا کی کہ میں اس کے سینے سے خنجر نکال کر اسے اس عذاب سے نجات دلاﺅں۔ میں اس کی طرف بڑھا۔ میں نے اپنا ہاتھ امیلیا کے سینے میں پیوست قدیم یونانی خنجر کے دستے پر رکھا تو مجھے ایک شدید جھٹکا لگا۔ مگر میں نے خنجر باہر کھیچ کر فرش پر پھینک دیا۔خنجر قالین کے فرش پر گرتے ہی غائب ہوگیا۔ امیلیا نے ایک گہرا پرسکون سانس لیا ۔ اس کی روشن آنکھوں میں دد کرب کی جگہ ممنونیت کی جھلک تھی۔ اس کی آواز سنائی دی

”عاطون! میرے پاس وقت بہت تھوڑا ہے۔ میں تمہہیں بتاتی ہوں کہ تم سے محبت کرنے والی طرسومہ کہاں ہے۔ سنو، قلعہ شاہی کے جلاد کا نام تم جانتے ہو۔ جلاد اس گروہ کا آدمی ہے۔ جس نے خلیفہ اندلس کو قتل کرنے کی سازش کی تھی۔ اس سازشی ٹولے کا یہ آخری آدمی بچا ہے۔ یہ جلاد تم سے سازش کے پکڑے جانے اور اپنے سرخنہ سلیمان شاہ اور دوسرے ساتھیوں کے قتل کا بدلہ لینا چاہتا ہے لیکن اس نے کچھ سپاہیوں کی زبانی یہ بات سن رکھی ہے کہ تم کوئی جادوگر ہو۔ تمہارے پاس کوئی ایسی طلسمی طاقت ہے جس کے باعث تم پر تلوار یا بھالے کا وار کارگر نہیں ہوتا۔ اس نے تمہاری چہیتی کنیز طرسومہ کو اس لئے اغوا کرکے تہہ خانے میں ڈال رکھا ہے کہ وہ اس سے تمہارے علم اور تمہاری غیبی طاقت کا راز معلوم کرسکے۔ وہ اسے سخت اذیت پہنچارہا ہے۔ تم اس کی مدد کو پہنچو۔“

امیلیا کی روح کی زبانی طرسومہ کی حالت زار کا سن کر میں بے تاب ہوگیا۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا

”طرسومہ اس وقت قرطبہ کی سرخ چٹانوں کے قدیم قلعے کے تہہ خانے میں بند ہے۔ تمہیں بڑی رازداری سے قلعے میں داخل ہونا ہوگا کیونکہ اگر تم اپنی طاقت کے بل بوتے پر وہاں گھسے تو جلاد کے آدمی فوراً طرسومہ کو ہلاک کردیں گے۔ تمہاری طاقت کے آگے وہ بے بس ہوجائیں گ ے۔ مگر وہ تمہاری محبوبہ کو بھی زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ اب تم جاﺅ۔ طرسومہ اذیت میں بار بار تمہیں پکار رہی ہے۔“

اتنا کہہ کر امیلیا کی روح کا یولا ریشمی پردے کے پیچھے چلا گیا۔ دالان کے طاق میں جو شمع دان روشن تھا ایک دم سے بجھ گیا اور کمرے میں تاریکی چھا گئی۔ میں اب وہاں ایک پل بھی نہیں ٹھہر سکتا تھا۔ فوراً واپس پلٹا۔ سرنگ میں سے ہوتا ہوا قبرستان میں نکل آیا۔ رات گہری ہوچکی تھی۔ بادل ابھی تک آسمان پر چھائے ہوئے تھے۔ بارش رک گئی تھی۔ میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا سرخ چٹانوں والے پرانے قلعے کی جانب روانہ ہوگیا۔

اس قلعے کو جانے والے راستے کا مجھے پتہ تھا۔ کسی زمانے میں قلعہ عبدالرحمان اول نے بنایا تھا۔ مگر بعد کے بادشاہوں نے اسے کسی وجہ سے ترک کردیا اور اب یہ سنگین جرائم کرنے والوں کی عقوبت گاہ کا کام دیتا تھا۔ مجھے کبھی اس قلعے کے اندر جانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا لیکن میں نے باہر سے اسے کئی مرتبہ دیکھا تھا۔ میری بائیں جانب قرطبہ شہر کے بازاروں کی روشنیاں جھلملا رہی تھیں۔ شہر خاموش تھا۔ پہاڑیوں میں تاریکی چھائی تھی اور گہرا سناٹا تھا۔ میں نے ایک پہاڑی نالہ عبور کیا اور اپنا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ میرے پاس اس وقت سوائے کمر کے ساتھ بندھے ہوئے خنجر کے اور کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ مجھے جذبات کی بجائے عقل مندی اور ہوشیاری سے کام لینے کی اشد ضرورت تھی۔

مجھے کچھ علم نہیں تھا کہ پرانے قلعے کے اندر جانے کا کوئی خفیہ راستہ بھی ہے یا نہیں لیکن ایسے پراسرار قلعوں کے خفیہ راستے ضرور رکھے جاتے ہیں۔ میں نے بھی کسی ایسے ہی خفیہ راستے کو تلاش کرکے اندر گھسنے کا فیصلہ کیا ہوا تھا۔ چلتے چلتے آخر مجھے سرخ چٹانوں کے درمیان پرانے قلعے کے برج دکھائی دئیے۔ میں اس کے صدر دروازے کی بجائے اس کے پیچھے کی جانب چل پڑا۔ یہاں پہنچا تو دیکھا کہ پرانے قلعے کی پتھریلی دیوار اوپر اٹھتی چلی گئی تھی۔ اس دیوار پر کمند کی مدد کے بغیر نہیں چڑھا جاسکتا تھا۔ میں نے گھوم پھر کر قلعے کی دیوار کا جائزہ لیا۔ ایک جگہ سے قلعے میں پہاڑی چشمے کا پانی چھوٹی سی ندی کی شکل میں اندر داخل ہورہا تھا۔ میں ندی میں اتر گیا۔ پانی میرے گھٹنوں تک تھا۔ جہاں ندی قلعے کے اندر داخل ہوتی تھی۔ وہاں پتھروں کے درمیان فولاد کا مضبوط جنگلہ لگا تھا۔ اس کی فولادی سلاخیں اتنی موٹی اور گٹھی ہوئی تھیں کہ دس آدمی مل کر بھی اسے توڑ یا اکھاڑ نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے لئے یہ کوئی مشکل کام نہ تھا۔ میں نے سلاخوں میں ہاتھ ڈال کر انہیں مضبوطی سے پکڑا اور پھر زور لگا کر انہیں پہلو کی جانب موڑنے کے لئے دباﺅ ڈالنے لگا۔ سلاخیں مڑگئیں اور وہاں اتنا راستہ بن گیا کہ میں بڑی آسانی سے اس میں سے گزرگیا۔

اب میں قلعے کے نیچے بہنے والے نالے میں سے گزررہا تھا۔ یہاں پانی میری گردن تک آگیا تھا۔ پانی کا بہاﺅ پیچھے کی طرف سے تیز تھا مگر اس کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہورہا تھا۔ میں دونوں ہاتھ نالے کی چھت سے لگائے آگے بڑھتا چلا گیا۔ اس پانی کی سرنگ میں گھپ اندھیرا تھا۔ پانی کی یہ سرنگ قلعے میں ایک جگہ درختوں میں نکل آئی۔ میں ندی سے نکل کر کنارے پر آگیا اور جلدی سے درختوں کے پیچھے چھپ کر اس جگہ کا جائزہ لینے لگا۔ درختوں کے عقب میں چاروں طرف تاریکی ہی تاریکی تھی۔ اس تاریکی میں مجھے شمال کی جانب ایک جگہ شمع کی دھیمی روشنی نظر آئی۔ خدا جانے یہاں کیا تھا۔ بہرحال مجھے وہاں پہنچ کر ہی کچھ معلوم کرنا تھا۔ میں نے اپنے لبادے کو نچوڑا اور اندھیرے میں اس سمت چل پڑا جدھر سے روشنی آرہی تھی۔ میں درختوں کی اوٹ لیتا، پھونک پھونک کر قدم اٹھاتا چل رہا تھا۔ مجھے یہ بھی اطمینان تھا کہ میرا لبادہ سیاہ تھا۔ مجھے رات کے اندھیرے میں دور سے کوئی نہیں دیکھ سکتاتھا۔ اس وقت رات کا پہلا پہر گزر چکا تھا۔ روشنی ایک کوٹھری کے طاق میں سے نکل رہی تھی۔ اب مجھے اندر سے دو آدمیوں کے باتیں کرنے کی ہلکی ہلکی آوازیں بھی سنائی دینے لگی تھیں۔ مگر سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا باتیں کررہے ہیں۔ کوٹھری کے اردگرد کوئی درخت نہیں تھا۔ دیوار کے ساتھ جھاڑیاں ضرور اُگی ہوئی تھیں۔ طاق کوٹھری کے بند دروازے کے پہلو والی دیوار میں تھا۔(جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 181 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار