ہاں! افتخار محمد چودھری رےٹائر ہو گئے س

ہاں! افتخار محمد چودھری رےٹائر ہو گئے س
ہاں! افتخار محمد چودھری رےٹائر ہو گئے س

  


ےالکوٹ کے نواحی گاﺅں مےں لوگ جمع تھے اور کچھ طاقتور لوگ 65سالہ مائی رشےدہ نامی عورت سے زبردستی اس کا گھر چھےنناچا ہ رہے تھے ۔ تقرےبا دس پندرہ افراد، جن کا تعلق قبضہ گروپ سے تھا، ہاتھوں مےں کلاشنکوف لئے اس عمر رسےدہ خاتون کو دھمکا رہے تھے۔ گاﺅں کے چند معزز لوگوں نے ےہ صورت حال دےکھی تو خاتون کو سمجھاےا کہ ےہ لوگ طاقتور ہےں، تم ان کا مقابلہ نہےں کر سکتیں، جو ےہ کہتے ہےں مان جاﺅ، تمہاری عافےت اِسی مےں ہے، ورنہ ےہ اس گھر کے لئے تمہارے ساتھ برے سے بُرا سلوک کر سکتے ہےں۔ اچانک مائی رشےدہ نے اپنی پوری قوت سے للکارا، کےوں مَےں ان کو اپنا گھر دے دوں؟ کےا افتخار چودھری اس دنےا مےں نہےں رہا؟ خاتون نے ےہ جملہ اتنے ےقےن سے کہا کہ سننے والے سکتے مےں آ گئے !....وہ گرج دار آواز مےں کہنے لگی ، سن لو،جب تک عدالت کی کرسی پر افتخار محمد چودھری بےٹھا ہے، کوئی مےرے گھر کی اےک انچ زمےن بھی نہےں لے سکتا۔ مَےں انصاف کے لئے سپرےم کورٹ جاﺅں گی۔ مَےں دےکھوں گی کہ مجھے کمزور سمجھنے والے خود کتنے طاقتور ہےں؟ےہ وہ ہمت اور حوصلہ ہے جو افتخار محمد چودھری نے کمزور اور بے سہارا عوام کو دےا۔ سےنکڑوں مےل دور بےٹھے غرےب اور مظلوم عوام افتخار محمد چودھری کو اپنی طاقت سمجھتے ہیں، وہ افتخار محمد چودھری، جس کے سامنے ملک کے وزےراعظم بھی نہ ٹھہر سکے اور جن کے قلم نے طاقت کی تلوار کو ٹکڑے ٹکڑے کر دےا۔ دیکھا جائے تو انتہائی کم وقت میں افتخار محمد چودھری کی جدوجہد ماضی کی دےواروں مےں چنی جا رہی ہے تاکہ قانون کی بالادستی اور غرےب کے حق کے لئے اٹھنے والی آواز ہمےشہ کے لئے کر دبا دی جائے۔

ہماری خوش بختی ہے کہ ہم نے اس عہد کو اپنی آنکھوں سے دےکھا ہے، جس مےں افتخار محمد چودھری تارےخ کی اےک شاندار شخصےت بن کر ابھرے۔ کہتے ہےں کہ فےض احمد فےض اےک اےسے انقلابی شاعر تھے جن کے لفظوں سے طاقت کے اےوان لرزتے رہے اور ان کے شعروں سے خون جسم کی رگوں مےں غےرت بن کر جوش مارنے لگتا۔ جسٹس افتخار محمد چودھری نے فےض کے لفظوں کو حقےقت کا روپ دےا اور قلعوں مےں بےٹھے ہوئے آمروں کو اس جرا¿ت اور بے باکی سے حکم دےا کہ وہ مٹی کا ڈھےر ہو گئے۔ تارےخ کا ےہ المےہ ہے کہ وہ حقائق کو نہےں چھپاتی ۔افتخار چودھری تارےخ کا حصہ رہیں گے ۔اُن کی باتیں اور اُن کی یادیں ہمیشہ تازہ رہےں گی ۔ان کے فےصلے قانون کی کتابوں مےں ہمےشہ بولتے نظر آئےں گے۔

افتخار چودھری تخت سے اترے ہےں، تو اےک عجےب بحث چھڑ گئی ہے ۔ دوستوں نے آنکھےں پھےر لی ہےں اور دشمن تو آگ برسا رہے ہےں، جس کے مُنہ مےں جو آتا ہے بولے جا رہا ہے ۔کل تک جو خوف کی علامت تھا، آج اس پر کمزور سے کمزور بندہ بھی رائے زئی کر رہا ہے۔ کون سا الزام ہے جو اُن کے سر پر تھوپا نہےں جا رہا، جو جسٹس کے ساتھ تحرےک مےں صف اوّل مےں نظر آتے تھے، آج شرمندہ کےوں دکھائی دے رہے ہےں ۔ عدالت کی کرسی سے دور گھر کے ڈرائنگ روم مےں افتخار چودھری ےہ سب کچھ دےکھ رہے ہوں گے۔ دوستوں کے چہرے اور دشمنوں کے عزائم، وہ ایک جہاں دےدہ آدمی ہےں، مضبوط شخصےت کے مالک ہےں اور ان کے اعصاب اس طرح کے تےر برداشت کرنے کے لئے تےار ہےں۔ ان کی تحرےک مےں لاکھوں لوگوں نے حصہ لےا، کروڑوں لوگ اےسے بھی ہےںجو سڑکوں پر نہےں آئے، جنہوں نے نعرے بازی نہےں کی، وہ آپ کے خاموش ساتھی ہےں۔ ا نہوں نے آپ کے لئے بے پناہ دُعائےں کےں ۔ وہ اب بھی آپ کے لئے دعاگو ہےں۔

آپ کی رخصتی کے وقت کچھ لوگوں نے آنکھےں بدل لےں، ان کا خےال ہے کہ وہ پےچھے ہٹ جائےں گے تو آپ کو وہ پذےرائی نہےں ملے گی ےقےن مانےں گھروں مےں بےٹھے کروڑوں لوگ آپ کو ےاد کر رہے ہےں۔ آپ کے دور کو داد دے رہے ہےں۔ آپ کی جدوجہد کو سلام کر رہے ہےں۔ ہاں اتنا ضرور ہے،جو طاقت آپ نے کمزور لوگوں کو دی، وہ تھوڑے سے ڈر گئے ہےں۔ خوفزدہ ہےں.... ےہی وجہ ہے کہ دو دن پہلے ہم گاو¿ں گئے تو رشےدہ نامی وہی خاتون، جو آپ کے نام سے قبضہ گروپ کے سامنے طاقت بن گئی تھی.... ماےو س ہو کر گھر سے نکل رہی تھی.... ہمارے پوچھنے پر بتانے لگی کہ کئی لوگوں نے سمجھاےا کہ قبضہ مافےا بڑا طاقتور ہے،ان سے ٹکر نہ لو، جو دےتے ہےں لے لو۔ مَےں نے مجبور ہو کر ان سے جو ملا ہے، صبر شکر کر کے لے لےا ہے اور ےہ گھر ان کے حوالے کر دےا ہے ۔اس کے بعد اس نے اپنے خاوند کی آخری ےادگار کو دےکھا اور خاموشی سے اےک طرف نکل گئی۔ ہمارے دےکھتے ہی دےکھتے گھر کے سامنے اےک پجارو گاڑی رکی اور خطرناک حلئے کے قبضہ مافےا کے لوگ دروازے کے پاس آئے اور ٹھوکروں سے دروازہ کھول کر اندر چلے گئے ۔رشےدہ کی ماےوسی اور قبضہ مافےا کی خوشی دےکھ کر ہمےں واقعی ےقےن ہو گےا کہ افتخار محمد چودھری رےٹائر ہو گئے ہےں ۔

مزید : کالم