چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی افسروں کا گٹھ جوڑ سرکاری اراضی آپس میں تقسیم کرنیکا انکشاف

چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی افسروں کا گٹھ جوڑ سرکاری اراضی آپس میں تقسیم ...

  

بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپورٹر) چولستان ترقیاتی ادارہ کے افسروں نے کروڑوں روپے کی سرکاری اراضی آپس میں تقسیم کرلی ۔چولستان ترقیاتی ادارہ کے نائب تحصیلدار نے بھی بہتی گنگا میں(بقیہ نمبر18صفحہ12پر )

ہاتھ دھولیے۔ تفصیل کے مطابق دنیاپورکے رہائشی مرزا محمدصادق، محمداسلم اعوان، ممتاز احمد گجرچک نمبر147 ڈی بی کے غلام قادر محمدرمضان نازیہ بی بی عبدالستار اوردیگرنے سابق ایم ڈی چولستان ترقیاتی ادارہ کودرخواستیں دیں جن میں انہوں نے موقف اختیارکیاکہ1983-84 میں چولستان کے علاقہ لاڈم سر کونیشنل پارک لال سوہانرا میں شامل کردیاگیاتھا اس علاقہ کے متاثرین کومتبادل رقبہ دینے کے احکامات جاری کیے گئے تھے نائب تحصیلدار چولستان محمدبوٹا نے اصل ریکارڈ غائب کردیااوراپنے سسرالی خاندان کومتاثرین چولستان ظاہرکرکے پانچ سوایکڑ رقبہ الاٹ کرالیاانہوں نے انکشاف کیاہے کہ چک نمبر147 ڈی بی میں لاٹ نمبر78 اپنے چچا سسرحاجی رحمت علی ولدمحمدبوٹا لاٹ نمبر98 برادرنسبتی لیاقت علی ولد محمددین لاٹ نمبر186 حقیقی چچا سسردین محمدولدبوٹا چک نمبر68 ڈی ایف میں لاٹ نمبر20 برادرنسبتوں امجدعلی لاٹ نمبر21 مبارک علی پسران حاجی دین محمدلاٹ نمبر28 بیوی کے کزن محمدفاروق ولدرحمت علی اورلاٹ نمبرات107,77,76 پرخودقبضہ کررکھاہے اورجعلی طورپر الاٹمنٹ بھی کرارکھی ہے انکوائری آفیسر سی اوچولستان ترقیاتی ادارہ راؤمحمدامتیاز جوکہ ڈپٹی کمشنر لودھراں ہیں انہوں نے تحقیقات کیں تومذکورہ بالالزامات درست ثابت ہوگئے اورپانچ سوایکڑ اراضی کی الاٹمنٹ جعلی اورغیرقانونی قراردی گئی لیکن اس انکوائری کو11 سال کاعرصہ گزرچکاہے نہ توالاٹمنٹ منسوخ کی گئی ہے اورنہ ہی رقبہ واگزار کرایاگیاہے بلکہ نائب تحصیلدار محمدبوٹا اپنی سروس پوری کرکے ریٹائرڈ ہوکرگھربھی جاچکاہے اس حوالے سے نیب نے بھی2007 میں ابتدائی تحقیقات کے بعدمعاملہ ٹھپ کردیاتھاجس پرآج تک ایکشن نہیں ہواہے چولستانیوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اورچیئرمین نیب سے سخت نوٹس لینے کامطالبہ کیاہے۔

افسران کا گٹھ جوڑ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -