شفاالملک حکیم محمد حسن قرشی بحیثیت انشاپرداز  

شفاالملک حکیم محمد حسن قرشی بحیثیت انشاپرداز  

  



تحریر: ہومیو ڈاکٹر و حکیم 

محمد عمر فاروق گوندل  

          شفاالملک حکیم محمد حسن قرشی کے نام سے کتنی خوشگوار یادیں وابستہ ہیں۔ سادہ لیکن باوقار لباس، درویش صفت، محب وطن، اسلامی ثقافت کے علمبردار،طب مشرق کے بطل جلیل، نکتہ سنج ادیب، مشفق و ہمدرد معالج، مجسمہ شرافت، غرض حکیم صاحب کی زندگی کے بے شمار حسین پہلو اہل نظرسے دادوصول کرتے ہیں۔ان کا دھیما مزاج ان کی شیریں گفتاری سے ہم آہنگ تھا۔قیام پاکستان کے بعد آپ جہاد کشمیر کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے،کشمیر کے محاذ کے دورے کیے۔وہ موتمر عالم اسلامی کے سرگرم رہنما بھی تھے اور یہ انہی کی قیادت کا نتیجہ تھا کہ لاہور اتحاد عالم اسلام کا مرکز  بن گیا۔ حضرت امین الحسینی مفتی اعظم فلسطین، مفتی اعظم شام، ضیا الدین بابا خانوف مفتی اعظم تاشقند اور کئی ممالک کے اکابرین لاہور تشریف لائے۔1962 ء میں موتمر عالم اسلامی کا ایک اجلاس بغداد میں منعقد ہوا جس میں شفاالملک نے بھی شرکت اور حکومت عراق کے مہمان رہے۔غرض یہ کہ جہاں بھی گئے،جس سے بھی ملے اسے اپنا گرویدہ بنا لیا۔آپ کی شخصیت کا ایک اور پہلو تحریر و تقریر بھی ہے۔

        پروفیسر زکریا ساجد شفاالملک کی تصنیف و تالیف کے شعبے میں کی جانے والی کاوشوں کے بارے میں اپنے ایک مضمون میں فرماتے ہیں ”آپ نے طبی تحقیقات اور تصانیف کی صورت میں جو ورثہ چھوڑا ہے اس نے طب مشرق کواس کا کھویا ہوا وقار دلانے اور ایک جدید علم و فن کے طور پر اسے تسلیم کرانے میں بنیادی کردار انجام دیا ہے۔“ ڈاکٹر عبدالسلام خورشید نے آپ کی وفات پر جو کلمات کہے وہ اس طرح ہیں۔”ان کی رحلت سے جو خلاپیدا ہوا ہے وہ مدتوں پُر نہیں ہوسکے گا۔ ایک تہائی صدی پہلے تک دنیا انہیں محض طبیب کے طور پر جانتی تھی لیکن حضرت علامہ اقبال کی وفات پر یہ حقیقت کھلی کہ وہ اعلیٰ پائے کے ادیب بھی ہیں۔ بات یہ ہوئی کہ مولانا چراغ حسن حسرت نے اپنے ماہنامہ ”شیرازہ“ کا اقبال نمبر مرتب کیا جس میں ایک مضمون حکیم صاحب سے بھی لکھوایا جو اقبال کی زندگی کے آخری چند سالوں میں ان کے  طبیب تھے۔حکیم صاحب نے ”حکیم مشرق“ کے عنوان سے جو مقالہ قلم بند فرمایا وہ معلومات کے پہلو بہ پہلو ادب کے اعتبار سے بھی بہت بلند پایہ تھا جس کو پڑھ کر سب چونک اٹھے۔ مولانا حسرت نے جب اقبال نمبر کی نگارشات کو اقبال نمبر کے نام سے کتابی شکل میں شائع کیا تو اس کے پیش لفظ میں مقالے کا ذکر یوں کیا۔”علامہ اقبال کی زندگی کے آخری زمانے کے متعلق مرحوم کے معالج حکیم محمد حسن قرشی صاحب کا ایک مضمون شیرازہ میں شائع ہوا ہے جسے اس مجموعے کا بہترین مضمون کہنا چاہیے۔قرشی صاحب مدتوں سے صرف ایک ماہر فن طبیب کی حیثیت سے مصروف ہیں اور انہوں نے جو کتابیں لکھی ہیں وہ بھی زیادہ تر طب سے متعلق ہیں لیکن اس مضمون میں جو ان کے انداز نگارش کا ایک دلاویز نمونہ ہے وہ بڑے بڑے انشاپردازوں اور ادیبوں سے آگے نظر آتے ہیں۔“شفاالملک کی جو تحریر چراغ حسن حسرت کے شیرازہ میں شائع ہوئی وہ عمر کے اُس حصے میں تحریر کی گئی جب کسی لکھاری کے اسلوب نگارش میں بہت زیادہ پختگی آجاتی ہے۔ہم آپ کے ملاحظہ کے لیے اس دور کی تحریر پیش کرتے ہیں جب وہ والدہ کی خواہش پر لاہور میں اپنے قدم جما رہے تھے،ا پنے ایک مضمون ”دلی کا بے تاج بادشاہ۔ حکیم اجمل خان“ کے عنوان سے تحریر کیا۔مضمون میں شفاالملک کی دل میں اتر جانے والی سادہ و سلیس طرز تحریر کے ساتھ ساتھ اس دور کی دلی کے تمدنی اور تہذیبی ماحول، خانوادہ شریف خان کی طرز مسیحائی اورمسیح الملک حکیم اجمل خاں کی سوانحی جھلک بھی نظر آتی ہے۔

      ”…………  درحقیقت حکیم صاحب کے سارے خاندان کا اہل اللہ سے تعلق رہا ہے۔ شہنشاہ عالمگیر کے زمانہ کے مشہور بزرگ حضرت خواجہ سید حسن ولی سے خصوصا ً ا س خاندان کو عقیدت تھی۔اس بزرگ کے متعلق مشہور ہے کہ ان کی دعا سے حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت میسر آجاتی تھی، حکیم اجمل خان اور ان کے اکثر عزیز ان کی درگاہ میں ہی مدفون ہیں۔میں جب 1913 ء میں دہلی پہنچا تو اس کا شباب ڈھل چکا تھا۔ مغلیہ خاندان کی رنگینیاں ختم ہو چکی تھیں۔ داغ اور حالی اس کے مرثیے لکھ چکے تھے اور میر تقی تو اس سے بھی پہلے اسے دیار برباد کی حیثیت سے پیش کر گئے تھے۔پھر بھی اس دلی مرحوم میں بے پناہ کشش تھی  مغلیہ خاندان کی عمارات، اسلامی شان و شوکت پر ماتم گسار ہونے کے باوجود اپنے اندر بے انداز حسن رکھتی تھیں۔ شاہوں کی یہ خواب گاہ عبرت انگیز ہونے کے ساتھ دلوں میں شوق و کشش عظمت اسلام کی یہ خانقاہ روحوں میں اضطراب پیدا کئے بغیر نہیں رہتی تھی۔پھر اس سرزمین پر حضرت محبوب الہٰی خواجہ نظام الدین کی درگاہ آسمان بانگاہ بھی تو ہے جس کی نسبت اقبال نے کہاتھا: خروش میکدہ شوق تیرے دم سے ہے …… طب ہو فقر کو جس کی وہ جام ہے تیرا …… ستارے عشق کے تیری کشش سے ہیں قائم  …… نظام مہر کی صورت نظام ہے تیرا۔

     قدیم دلی کے چاروں طرف دور دور تک مزارات اور قبرستان ہیں اور ان کھنڈروں میں سینکڑوں بادشاہ اور حکمران خاموشی سے اپنی داستان بیان کر رہے ہیں۔ میں جب دہلی پہنچا تو دہلی کے قدیم شعراء خاموش ہو چکے تھے، ذوق و غالب کے بعد مرزا داغ اور خواجہ حالی کی معرکہ آرائی بھی ختم ہو چکی تھی۔ دلی میں خواجہ حالی پر یہ اعتراض کیا گیا تھا کہ وہ قصبہ پانی پت کے رہنے والے ہیں اس لیے ان کی زبان ٹکسالی نہیں ہو سکتی اس کاجواب اس طرح دیا: حالی کو تو بدنام کیا اس کے وطن نے۔ اور آپ نے بدنام کیا اپنے وطن کو۔مرزا داغ اور خواجہ حالی کے بعد اس زمانے میں نواب سراج الدین سائل اور سید وحیدالدین بیخود کا چرچا تھا۔ اسی زمانے میں دربار کے موقع پر لارڈہاڈنگ وائسرائے ہند پر مشہور انقلابی بوس نے بم پھینکا تھا۔ جس سے وائسرائے مجروح ہو گیا تھا۔ اس موقع پر سائل نے ایک نظم لکھی تھی جس کا ایک شعر یاد ہے: اقبال ہارڈنگ کا اور اللہ کا کرم۔ دو چار جاں نثاروں کے ماتھے گیا وہ بم۔اس زمانے میں دلی کے دو بڑے مرکز تھے۔ کوچہ چیلاں اور کوچہ بلیماراں، کوچہ چیلاں میں مولانا محمد علی کے اخبار ”ہمدرد“ اور ”کامریڈ“ کا دفتر تھا اور اس کی وجہ سے تمام ہندوستان کے لوگ یہاں کھنچے چلے آتے۔اس سے پہلے یہاں شیخ عبدالقادر کے رسالے مخزن کا دفتررہ چکا تھاجو دلی اور بیرون دلی کے شاعروں اور ادیبوں کا مرجع تھا۔ اسی جگہ حضرت شاہ ولی اللہ اور شاہ عبدالعزیز رہتے تھے۔ سرسید مرحوم کا مولد بھی یہی مقام تھا۔ ا س علاقے سے نظام المشائخ اور کئی دوسرے رسائل و مجلات نکلا کرتے تھے،نظام المشائخ کے تعلق کی وجہ سے ہندوستان کے مشہور ادیب اور صوفی خواجہ حسن نظامی اس جگہ روزانہ آتے تھے۔ خواجہ صاحب کے متعلق لسان العصرسید اکبر الہ آبادی نے فرمایا تھا: حضرت ابوہریرہ سے بلی نہ چھٹ سکی۔ خواجہ حسن نظامی سے دلی نہ چھٹ سکی

اکبر کا یہ شعر کس قدر صحیح ثابت ہوا۔ خواجہ صاحب 1947 ء کے خونیں ہنگاموں کے بعد بھی دلی ہی میں قیام پذیر رہے اور آخر انہوں نے اسی جگہ جاں جانِ آفریں کے حوالے کی۔

کوچہ بلی ماراں میں حکیم شریف خاں کے خاندان کے لوگ مطب کرتے تھے۔ شریف منزل میں تمام دن میلہ سا لگا رہتا تھا۔ حکیم غلام رضا خاں، حکیم سعید خاں، حکیم بھورے خاں اور حکیم محمد احمد خاں غریبوں کامعائنہ کرتے، جوشاندے، خیساندے کے نسخے لکھتے، کچھ دوائیں بلاقیمت صندوقچے سے دیتے۔ کسی سے فیس نہ مطب نہ گھرپر لیتے۔شریف منزل میں ہی دلی کے بے تاج بادشاہ مسیح الملک حکیم اجمل خاں مطب فرمایا کرتے تھے۔ یہ نہ صرف مصیبت زدہ انسانیت کے آلام و امراض کو دور کرنے کی سعی و کوشش کرتے تھے بلکہ محکوم ہندوستان کے غلامی کے جراثیم کو بھی ناپید کرنے کی تدابیر میں مصروف رہتے تھے۔ حکیم محمود خاں بہت بڑے خود دار انسان تھے۔ ایک مرتبہ مہاراجہ کشمیر نے انہیں علاج کے لیے بلوایا۔ جب حکیم صاحب نبض دیکھ چکے تو مہاراجہ نے اپنے اردلی سے پانی منگوا کر اپنا ہاتھ دھلوایا۔ کیونکہ اس کا خیال تھا کہ ایک مسلمان کا ہاتھ لگنے سے وہ ناپاک ہو گیا ہے۔حکیم صاحب کو یہ دیکھ کر سخت غصہ آیا اور انہوں نے اپنے ملازم سے پانی منگواکر ہاتھ دھوئے تاکہ مہاراجہ کو معلوم ہو کہ حکیم صاحب کے ہاتھ لگنے سے ناپاک ہو گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ وہاں سے چلے آئے۔ حالانکہ مہاراجہ کے ملازم ان کی منت سماجت کرتے رہے۔…………حکیم محمد اجمل خاں 1864 ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بچپن میں قرآن مجید حفظ کیا۔اپنے والد سے مطب سیکھا۔ ان کو کتابوں کے مطالعہ کا بڑا شوق تھا۔ چونکہ ان کے ابتدائی مکان شریف منزل میں مریضوں کا ہجوم رہتا تھا اس لیے انہوں نے شریف منزل کے سامنے مسجد شریف خاں کے ساتھ والے کوٹھے کو اپنے لیے مخصوص کر لیا۔ یہ وہی مکان ہے جس میں کبھی مرزا غالب رہا کرتے تھے اور انہوں نے اس کے متعلق فرمایا تھا: مسجد کے زیرسایہ اک گھر بنا لیا ہے۔ یہ بندہ کینہ ہمسایہ خدا ہے، حکیم اجمل خاں کے اس شوق مطالعہ کی وجہ سے ان کو ملا کہا کرتے تھے۔انہیں ابتدا ہی سے قومی کاموں کا شوق تھا۔ چنانچہ وہ ابتدائے شباب میں ”اکمل الاخبار“نامی ایک اخبار نکالتے تھے۔ وہ سرسید کی تحریک میں سرگرم حصہ لیتے تھے۔ 1892 ء میں جب محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کا سالانہ جلسہ دلی میں منعقد ہوا تو حکیم اجمل خاں اس کی مجلس استقبالیہ کے سیکریٹری منتخب ہوئے۔اسی سال وہ نواب رامپور کے طبیب مقرر ہوئے۔ قیام رام پور کے زمانہ میں حکیم صاحب کو ریاست کے کتب خانہ سے استفادہ کا موقع ملا۔اس کتب خانہ میں اٹھارہ ہزار قلمی اور تیرہ ہزار قدیم مطبوعہ کتابیں تھیں، حکیم صاحب نے اس کتب خانہ کی فہرست مرتب کی اور اس پر ایک مبسوط مقدمہ تحریر کیا۔1905 ء کے اوائل میں حکیم واصل خاں کا انتقال ہوااور خاندان کے دستور کے مطابق حکیم اجمل خاں ان کے جانشین ہوئے۔ اس سے کچھ عرصہ قبل وہ بیمار رہ چکے تھے اوران پر نقاہت کا اثر تھا اس لیے جانشینی کے چند روز بعد انہوں نے حصول صحت کے لیے سفر بغداد کا عزم کیا۔وہ 11 مارچ 1905 ء کی روانہ ہو گئے۔انہوں نے مسقط، بصرہ، بغداد، کوفہ، کربلائے معلیٰ اور نجف اشرف کی سیاحت کی، وہاں کی زیارت سے مشرف ہونے کے علاوہ عمائد و اشراف سے ملاقات کی۔ اس عرصے میں زیادہ تر بغداد میں ہی قیام رہا۔بغداد میں متعدد طبی اور مذہبی اختلافی مسائل پر حکیم صاحب اور بغداد کے علماء کے مابین مذاکرے ہوئے اور سب ان کی قادرالکلامی کے قائل ہوگئے۔9 جون کو وہ مع الخیردہلی روانہ ہوئے۔اہل دہلی نے حکیم صاحب کی شان کے مطابق ان کا شاندار استقبال کیا۔بلاد اسلامیہ کے سفر سے ان کی صحت بالکل بحال ہو گئی …… آپ نے مطب کی ترقی کی طرف توجہ دی اور تھوڑے ہی عرصہ میں مطب کو کامیاب بنا دیا۔ان کے مطب میں مصروفیت کا یہ عالم تھا کہ صبح سے ایک بجے تک اور شام کو دو تین گھنٹے بیٹھتے تھے۔اور بمشکل مریضوں کا ہجوم ختم ہوتا۔اس عرصے میں وہ کئی کئی سومریضوں کو دیکھتے۔ مریض نہ صرف مدراس، بمبئی اور برما جیسے دور درازجیسے مقامات سے آنے لگ گئے بلکہ ایران، عراق، افغانستان اور ترکستان وغیرہ ممالک غیر کے مریض بھی ان کے مطب کا طواف کرنے لگے۔مطب کی بڑی خصوصیت یہ تھی کہ امیر، غریب، ہندو ، مسلمان سب کے ساتھ مساوی سلوک ہوتا تھا۔بنی نوع انساں کے مشہور ہمدرد انگریز ریورنڈسی۔ ایف اینڈریوزنے اس مطب کی نہایت دلکش تصویر کھینچی ہے۔ وہ تحریر کرتے ہیں حکیم صاحب سے میری پہلی ملاقات ہمیشہ یادگار رہے گی۔اس سے ہندوستان اور اہل ہند کے متعلق ایک نئی روشنی میرے دماغ میں پڑی۔میری پرورش ایک قدیم اینگلوانڈین گھرانے میں ہوئی تھی، میرے دما غ میں یہ خیال ٹھونس دیا گیا تھا کہ ہندومسلمانوں کے درمیان مذہب اور ذات پات کی ایک ایسی خلیج حائل ہے جو کسی طرح پاٹی نہیں جا سکتی۔ …… حکیم صاحب کے مطب کو دیکھ کر تو وہ اعتقاد بالکل پاش پاش ہو گیا۔ …… میں نے ہندو غریب مریضوں کو خصوصیت سے دیکھا جو حکیم صاحب سے بلامعاوضہ مشورہ اور دواحاصل کررہے تھے۔ایک مرتبہ لارڈہارڈنگ سابق وائسرائے کے پرائیویٹ سیکریٹری حکیم صاحب سے مشورہ لینے کے لیے آئے۔ وہ مطب کا منظر دیکھ کر بہت حیران ہوئے اور انہوں نے اس کاتذکرہ لارڈ ہارڈنگ سے کیا۔اس کے بعد لارڈہارڈنگ حکیم صاحب کو ”میگنیٹ آف انڈیا“ کہا کرتے تھے۔………… دسمبر 1927 ء کے پہلے ہفتے میں وہ پھر رام پور تشریف لے گئے۔ رام پور میں ان کی طبیعت عموما ً اچھی رہا کرتی تھی مگر اس مرتبہ ان کو وہاں قلب کے شدید دورے پڑ ے۔جس سے وہ نہایت ناتواں ہو گئے اور دہلی لوٹ آئے۔ انہوں نے دو مرتبہ مجھے دہلی بلایا تاکہ فنی امور کے مختلف کچھ ہدایات دیں۔ بدقسمتی سے میں نے بھی یہ محسوس نہ کیا کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں۔25 /دسمبر 1927 ء کی رات کو حکیم صاحب پھر رام پور تشریف لے گئے مگررام پور میں طبیعت خراب ہی رہی۔ غذا تقریبا ً بند ہو گئی تھی۔28 /دسمبر کی رات کو طبیعت زیادہ خراب تھی۔ نواب رام پور رات دو بجے تک حکیم صاحب کے پاس ٹھہرے رہے، ان کے جانے کے بعد حکیم صاحب کو دل کا شدیددورہ پڑا اور دس پندرہ منٹ تک دہلی کا یہ بے تاج بادشاہ اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔“

تصانیف میں جامع الحکمت ، طبی فارماکوپیا، سلک مروارید، بیاض خاص، بیاض مسیحا، دستور الاطباء، رموز طب، تذکرہ الاطباء، افادات مسیح الملک وغیرہ اور تراجم میں موجز القانون اور اقصرائی شامل ہیں جو طبی کے نصاب میں شامل رہیں۔ بطور کالم نویس روزنامہ زمیندار، روزنامہ پیسہ اخبار، روزنامہ احسان،روزنامہ کوہستان، روزنامہ مشرق، روزنامہ نوائے وقت میں قلمی معاونت کرتے رہے۔حمد، نعت، نظمیں اور شخصیات کے حوالہ سے قابل ذکر تحریریں قلم بند کیں۔تصانیف کے علاوہ علمی و ادبی، تحقیقی مقالاجات 1500 سے زائدتحریر کئے۔جن کتابوں کے ترجمے کئے ان کی تعداد دس کے قریب ہے۔ قومی اور مّلی خدمات انجام دینے کے لیے آپ نائب صدر لاہور خلافت کمیٹی، ایگزیکٹو رکن انجمن حمایت اسلام لاہور، نائب صدر مسلم لیگ لاہور اور صدر موتمر عالم اسلامی پنجاب رہے۔اس کے علاوہ بمبئی میں قیام کے دوران ی برادران مولانا شوکت علی اور مولانا محمد علی کی رفاقت میں تحریک خلافت کے لیے کام کیا۔آج کے دور میں غالب اکثریت ایسے لوگوں کی پائی جاتی ہے جن کے لیے یہ باور کرنا بہت مشکل ہے کہ اکیلا انسان اتنا کام کیسے کرسکتا ہے لیکن جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ممتاز شخصیات کی ایک طویل فہرست پاتے ہیں جنہوں نے نہایت مصروف زندگی گذاری اورتصنیف و تالیف کے باب میں شفاالملک سے کہیں زیادہ کام کیا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...