’تمہاری شکلیں بہت ملتی ہیں ، لگتا ہے جیسے سگی بہنیں ہوں‘ لوگوں کی باتوں سے تنگ آکر بار میں کام کرنے والی لڑکیوں نے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا تو ایسا نتیجہ کہ حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے

’تمہاری شکلیں بہت ملتی ہیں ، لگتا ہے جیسے سگی بہنیں ہوں‘ لوگوں کی باتوں سے ...
’تمہاری شکلیں بہت ملتی ہیں ، لگتا ہے جیسے سگی بہنیں ہوں‘ لوگوں کی باتوں سے تنگ آکر بار میں کام کرنے والی لڑکیوں نے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا تو ایسا نتیجہ کہ حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے
سورس:   Facebook

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں ایک روسی لیڈی بار میں ملازمت کے دوران دوست بننے والی دو لڑکیوں کو لوگ اکثر کہا کرتے تھے کہ ان کی شکلیں باہم اس قدر ملتی ہیں کہ جیسے وہ آپس میں سگی بہنیں ہوں۔ کئی سال لوگوں کی طرف سے یہ بات سننے کے بعد بالآخر ان دونوں نے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا تو ایسے نتائج سامنے آئے کہ سننے والے بھی دنگ رہ جائیں۔

 میل آن لائن کے مطابق 32سالہ کیسنڈرا میڈیسن اور 31سالہ جولیا ٹینیٹی نامی یہ لڑکیاں جزائرغرب الہند کے ملک ڈومینیکن ری پبلک میں پیدا ہوئی تھیں اور دونوں کو الگ الگ امریکی جوڑوں نے گود لے لیا تھا۔ 

دونوں یہ بات جانتی تھیں کہ وہ ڈومینیکن ری پبلک سے تعلق رکھتی ہیں۔ جب 2013ءمیں امریکی ریاست کنیکٹی کٹ کے شہر نیوہیون کی اس روسی بار میں ملازمت کے دوران ان کی ملاقات ہوئی اور دونوں کو معلوم ہوا کہ وہ ڈومینیکن ری پبلک سے ہیں اور گود لیے جانے کے بعد امریکہ میں پلی بڑھی ہیں تو ان کے درمیان دوستی ہو گئی۔ دونوں کا کہنا ہے کہ انہیں پہلی ملاقات میں ہی لگا کہ ان کا آپس میں کوئی گہرا تعلق ہے۔ ان کی شکلیں بھی بہت ملتی جلتی تھیں۔ بالآخر 2018ءمیں کیسنڈرا نے اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جس میں اس کو اپنے ماں باپ کے بارے میں پتا چل گیا۔

کیسنڈرا کا باپ ایڈریانو لیونا کولیڈو اب بھی زندہ تھا اور ڈومینیکن ری پبلک میں رہتا تھا تاہم اس کی والدہ یولیانا کولیڈو کا 2016ءمیں انتقال ہو چکا تھا۔کیسنڈرا کے باپ نے اسے بتایا کہ انہوں نے کیسنڈرا کی ایک اور بہن کو بھی ایک جوڑے کو گود دیا تھا، جو کیسنڈرا سے ایک سال چھوٹی تھی۔ یہ بات سن کر کیسنڈرا نے ذہن فوراً جولیا کی طرف گیا اور اس نے جولیا سے کہا کہ وہ بھی اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کروائے۔ 

جب جولیا نے ٹیسٹ کرایا تو یہ حیران کن انکشاف ہوا کہ لوگ انہیں غلط نہیں کہتے تھے، بلکہ وہ سچ میں باہم سگی بہنیں تھیں۔ کیسنڈرا اور جولیا کا کہنا ہے کہ ”ہم پہلی ملاقات کے بعد ہی اس قدر قریب آ گئی تھیں کہ لگتا تھا جیسے ہمارے درمیان کوئی مضبوط تعلق ہے۔ ہم اکٹھی باہر گھومتی اور ڈنر کرتی تھیں۔ ہم نے کپڑے بھی ایک جیسے پہننے شروع کر دیئے تھے۔ تاہم ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں کہ ہم سگی بہنیں نکلیں گی۔ ہمارا اس طرح ملنا ایک معجزہ ہے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -