جمہوریت کے خطرے

جمہوریت کے خطرے
جمہوریت کے خطرے

  


پاکستان میں جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ،کیونکہ شہلا رضا کے مطابق این آر او کے وقت امریکہ، برطانیہ، متحدہ عرب امارات نے ضمانت دی تھی کہ تین انتخابات تک ملک میں مارشل لاءنہیں لگے گا اور سابق صدر آصف علی زرداری امریکہ کو یہی وعدہ یاد دلانے کے لئے واشنگٹن گئے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے شہلا رضا کے اس بیان کی سختی سے تردید کی ہے اور اسے حقائق کے منافی قرار دیا ہے،مگر تجزیہ کار اصرار کر رہے ہیں کہ شہلا رضا پیپلز پارٹی میں اتنی چھوٹی ہیں کہ وہ خود اتنا بڑا بیان نہیں دے سکتی تھیں۔ چند روز قبل سید یوسف رضا گیلانی نے بھی ایک ایسا بیان دیا تھا جس کی پیپلزپارٹی نے تردید کر دی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی نے اخبارات میں زندہ رہنے کے لئے ایک ایسا طریقہ تلاش کر لیا ہے جس میں ایک لیڈر بیان دیتا ہے اور دوسرا اس کی تردید کر دیتا ہے اور عوام کی کنفیوژن میں حسب توفیق اضافہ ہو جاتا ہے، تاہم اس سے پیپلز پارٹی میڈیا میں کچھ اسی طرح ان دکھائی دیتی ہے، جیسے عمران خان لانگ مارچ اور طاہرالقادری اپنی دھرنے کی خبروں کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ دھرنے اور لانگ مارچ جمہوریت کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، مگر ایسے دانشوروں کی بھی کمی نہیں ،جن کا خیال ہے کہ اب دھرنے اور لانگ مارچ پاکستانی جمہوریت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور یہ محض جمہوریت کا خون گرم رکھنے کے بہانے ہیں اور اگر پاکستان میں جمہوریت کا تسلسل برقرار رکھنے کی گارنٹی امریکہ اور برطانیہ نے دے رکھی ہو تو پھر سیاستدان سیاست سیاست کھیلنے کا شوق ہر انداز سے پورا کر سکتے ہیں۔

اگر عالمی سیاست میں امریکہ کے کردار پر نظر ڈالی جائے تو بہت سے مواقع پر اس نے کوئی بھی کردار ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ 1980ءکے عشرے میں صدر ریگن نے لبنان کے حکمرانوں کو یقین دلایا تھا کہ امریکی پالیسی میں کوئی ریورس گیئر نہیں ہے اور وہ لبنان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔اس بیان کے کچھ عرصے بعد بیروت میں امریکی میرین پر حملہ ہو گیا ، اس کے بہت سے سپاہی ہلاک ہو گئے اور امریکی افراتفری میں لبنان سے رخصت ہو گئے۔ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں امریکہ افغان مجاہدین کے ساتھ تھا ،مگر روسی فوجوں کے افغانستان سے انخلا کے ساتھ ہی اس نے اس خطے کی طرف دیکھنا ہی بند کر دیا۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ 9 ستمبر کے القاعدہ کے حملے نہ ہوتے تو وہ اس ملک کا رخ نہ کرتے۔ اب امریکی دوبارہ افغانستان سے رخصت ہو رہے ہیں تو ان کے افغان دوست ان سے خفا ہو رہے ہیں اور وہ اپنے لئے کسی نہ کسی صورت میں امریکی تحفظ کی تمنا کر رہے ہیں۔ حامد کرزئی تو امریکیوں سے باقاعدہ خفگی کا اظہار کر رہے ہیں....پیپلزپارٹی شہلا رضا کے فرمودات کے درست ہونے سے انکار کر رہی ہے۔ امریکہ کی حمایت کے ذریعے سیاست اور حکومت کرنے والوں کا بھی اکثر اچھا انجام نہیں ہوا۔ اس سلسلے میں تاریخ بے شمار حقائق سے بھری ہوئی ہے۔ پاکستانی سیاستدانوں کو بھی سیاست کا کھیل احتیاط اور ذمہ داری سے کھیلنا چاہیے، کیونکہ عام طور پر مشاہدہ کیا گیا ہے کہ امریکہ غیرجمہوری حکومت کی زبانی مخالفت اور عملی حمایت کرتا ہے، اس لئے اگر کوئی ایسی گارنٹی دی بھی گئی ہے تو اس پر زیادہ انحصار کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ 1940ءکے عشرے میں امریکی پریس کمیشن نے امریکی صحافت کو ایک نصیحت کی تھی کہ آزاد پریس ذمہ دار ہوتا ہے اور اگر پریس ذمہ دار نہ ہو تو یہ اپنی آزادی کھوبیٹھتا ہے۔ کچھ ایسا ہی مشورہ پاکستانی سیاست کو بھی دیا جا سکتا ہے کہ سیاست اور جمہوریت کے لئے اس کا ذمہ دار ہونا بہت ضروری ہے اور اگر ان میں سے ذمہ داری کا عنصر منفی ہو جائے گا تو سیاست اور جمہوریت کی گاڑی کسی حادثے کا شکار ہو سکتی ہے۔

پاکستان کی جمہوریت کو کچھ خطرناک بیماریاں لاحق ہو گئی ہیں۔ اس میں ایک تو یہ ہے کہ جب بھی انتخابات ہوتے ہیں، ان پر دھاندلی کا غلط یا درست الزام ضرور لگایا جاتا ہے۔ ہارنے والے امیدوار یا پارٹی کو اپنی شکست کی وجہ صرف اور صرف دھاندلی میں نظرآتی ہے۔ وہ اکثر کوئی بھی دوسری وجہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ منتخب حکومت کے قیام کے ساتھ ہی اسے رخصت کرنے کی سازشیں شروع ہی نہیں ہوتیں، بلکہ اس کی رخصتی کی باقاعدہ تاریخیں دینے کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی حکومت اس تاریخ پر رخصت ہونے سے انکار کر دے تو اس کی نئی تاریخ رخصتی جاری کر دی جاتی ہے۔ دھرنے اور لانگ مارچ جمہوریت کے لئے نئے خطرات بن کر سامنے آ رہے ہیں۔

اپوزیشن کو احتجاج بھی کرنا چاہیے، حکومت کی مخالفت بھی کرنی چاہیے ،کیونکہ اسے جمہوریت کا حسن قرار دیا جاتا ہے اور اپوزیشن کے رہنماﺅں کو اکثر بتایا جاتا ہے کہ ونسٹن چرچل نے کہا تھا کہ اپوزیشن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر مرحلے پر حکومت کی مخالفت کرے اور اگراسے کسی مرحلے پر حکومت کی حمایت کرنا پڑے تو یہ حمایت Kiss کی بجائے Kick کی صورت میں ہونی چاہیے۔ امریکہ اور برطانیہ میں بھی حکومت کو کسی نہ کسی صورت میں اپوزیشن کی کک کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر اس کک کے متعلق اپوزیشن خود احتیاط کرتی ہے کہ یہ جمہوریت کے لئے جان لیوا ثابت نہ ہو، مگر ہمارے ہاں چونکہ حکومتوں کے کسی بھی وقت جانے کی روایت موجود ہے، اس لئے اپوزیشن اپنی ہر کک اتنے زور سے لگانے کی کوشش کرتی ہے کہ سیاست کے ساتھ ساتھ بعض اوقات جمہوریت بھی کانپ اٹھتی ہے اور جب اپوزیشن ہر صورت میں حکومت کو ناکام کرنے کا تہیہ کر لیتی ہے تو سیاسی ہنگامہ آرائی پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے جس میں لوگ ہلاک یا زخمی ہوں۔

ہماری قومی تاریخ میں حکومتوں پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے اپوزیشن کو کچلنے کے لئے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا، لیکن کبھی اس امر کاجائزہ لینے کی کوشش نہیں کی کہ احتجاج کرنے کے لئے اپوزیشن نے کتنی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا؟ ہمارے ایک انتہائی معتبر دوست کے مطابق جب کسی سیاسی جھگڑے میں کسی پارٹی کے کارکن ہلاک یا زخمی ہو جائیں تو اس کی قیادت اس واقعہ سے سیاسی فائدے حاصل کرنے کی پوری کوشش کرتی ہے۔ ہمارے ایک دوست کا خیال ہے کہ پاکستان میں صرف پُرتشدد احتجاج سے ہی نتائج حاصل ہوتے ہیں، جبکہ پُرامن احتجاج پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ مظاہرین کا تشدد یا پُرتشدد احتجاج ہی سیاسی سطح پر بڑے اثرات مرتب کرتا ہے، مگر قومی تاریخ کے اس سبق پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی کہ پُرتشدد احتجاج جمہوریت کے لئے بھی بڑے خطرات پیدا کرتا ہے اور اکثر صورتوں میں جہاں سیاسی حکمران اقتدار سے رخصت ہوتے ہیں ،وہاں اپوزیشن کے سیاستدانوں کو بھی لمبی چھٹی پر بھیج دیا جاتا ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں پُر امن سیاسی احتجاج کے طریقوں کی تلاش پر بحث ہونی چاہیے، امریکہ و برطانیہ میں جب کوئی پارٹی اقتدار میں آ جاتی ہے تو اس کا مقررہ مدت کے لئے حکومت کرنے کا حق تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ حکومت اپوزیشن کی بات سنتی بھی ہے اور اسے تسلیم بھی کرتی ہے اور اپوزیشن اپنا احتجاج کا حق احتیاط سے استعمال کرتی ہے۔ عام طور پر احتجاج کرتے ہوئے اس امر کا خیال رکھا جاتا ہے کہ اس سے عوام کو تکلیف نہ ہو، مگر ہمارے ہاں احتجاج کی ایسی صورت پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لئے پریشانی پیدا ہو،کیونکہ لوگ پریشان ہوں گے تو خبر بنے گی۔ خبر بنے گی تو سیاسی پارٹی کی اہمیت کا احساس بھی ہو گا۔ اس کلچر سے سیاستدانوں کو شاید کوئی فائدہ ہوتا ہو، مگر اس سے جمہوری کلچر کو نقصان پہنچتا ہے۔

آج کا کالم ہم خلیل جبران کے ایک مختصر افسانے پر ختم کر رہے ہیں ،جس میں سوچنے اور غور کرنے کے لئے بہت کچھ ہے اور پاکستان کی سیاست کے تناظر میں اس کے لئے مفاہیم تلاش کئے جا سکتے ہیں....”چودہویں کا چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نمودار ہوا۔ شہر کے تمام کتوں نے چاند پر بھونکنا شروع کر دیا۔ صرف ایک کتا خاموش رہا۔ اس نے بڑی سنجیدگی سے دوسروں سے کہا: ”سکوت کو اس نیند سے نہ جگاﺅ اور چاند کو اپنی للکار سے زمین پر نہ بلاﺅ“....دوسرے کتوں نے بھونکنا بند کر دیا۔ ہولناک خاموشی چھا گئی، لیکن وہ کتا جس نے دوسروں کو چپ رہنے کے لئے کہا تھا، ساری رات خاموشی کی تلقین میں بھونکتا رہا“!

مزید : کالم