تیل کی قیمتوں میں اضافہ ، احتجاج شروع

تیل کی قیمتوں میں اضافہ ، احتجاج شروع
تیل کی قیمتوں میں اضافہ ، احتجاج شروع

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ لوگوں اور اداروں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ جاری ہے جب کہ منی مزدا یونین نے احتجاجی مظاہرہ شروع کردیا۔

عوام کے بعد ٹرانسپورٹرحضرات نے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حکومتی فیصلے کو مستردکردیا۔ نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف منی مزداایسوسی ایشن  کی جانب سے بندروڈپراحتجاج  کیاجا رہا ہے جس کی وجہ سے  یتیم خانہ سےبابوصابوکی طرف آنیوالی ٹریفک جام ہوگئی ہے اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت تیل کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لے اور اسے پرانی قیمتوں پر بحال کرے۔

خیال رہے پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان کی منظوری کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 25 روپے فی لیٹر تک اضافہ کردیا گیا ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری منظور کیے جانے کے بعد وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول 25 روپے 58 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 100روپے 10پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

ڈیزل کی قیمت 21 روپے 31 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد 101روپے46پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت میں 23روپے 50پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 59روپے 6 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 17روپے 84پیسے فی لیٹراضافہ کیا گیا ہے اور اس کی نئی قیمت 55روپے 98 پیسے مقرر ی گئی ہے۔

 واضح رہے کہ عام طور پر پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نفاذ ہر ماہ کی پہلی تاریخ سے ہوتا ہے تاہم اس مرتبہ نئی قیمتوں کا اطلاق 27 جون رات 12 بجے سے ہی ہو گیا ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -