دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول ،جو زندگی بدل سکتا ہے۔۔۔قسط نمبر41

دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول ،جو زندگی بدل سکتا ہے۔۔۔قسط نمبر41
دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول ،جو زندگی بدل سکتا ہے۔۔۔قسط نمبر41

  

اہل بدعت کی پٹائی کے واقعے کے بعد میں بہت دل گرفتہ ہوچکا تھا۔ کیونکہ میں نے اس واقعے میں اپنے زمانے میں موجود اپنے کئی جاننے والوں کو دیکھا تھا۔ میری طبیعت بحال کرنے کے لیے صالح مجھے واپس حوض کوثر کی طرف لے گیا تھا۔ وہاں کے پرفضا ماحول میں کچھ وقت تنہائی اور خاموشی میں گزار کر میں بہتر ہوگیا تو وہ دوبارہ مجھے میدان حشر میں لے آیا۔

راستے میں وہ مجھے بتانے لگا کہ جب ہم یہاں نہیں تھے تو اس عرصے میں تمام انبیا کی شہادت کا عمل پورا ہوگیا۔ جس کے بعد عمومی حساب کتاب کا مرحلہ شروع ہوچکا تھا۔ اس کا آغاز بھی امت محمدیہ سے ہوا جس کا بڑا حصہ حساب کتاب سے گزر کر اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ سن چکا ہے۔

’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک انتہائی اہم موقع پر میں یہاں موجود نہیں تھا؟‘‘

’’ہاں ایسا ہی ہے، لیکن جنت میں جانے کے بعد جب چاہو، اس حساب کتاب کی آڈیو وڈیو ریکارڈنگ دیکھ سکو گے۔‘‘، اس نے ہنستے ہوئے میری بات کا جواب دیا۔

’’مگر بھائی لائیو مشاہدہ تو لائیو ہی ہوا کرتا ہے۔‘‘، میں نے بھی مسکراتے ہوئے اس کی بات کا جواب دیا۔

دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول ،جو زندگی بدل سکتا ہے۔۔۔قسط نمبر40 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’ایک بڑی دلچسپ چیز جو یہاں ہوئی وہ میں تمھیں بتادیتا ہوں۔ ہوا یہ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے مشرکین کو ان کے شرک پر پکڑا گیا تو ان کی ایک بڑی تعداد نے صاف انکار کردیا کہ وہ کسی شرک میں مبتلا تھے۔ ان انکار کرنے والوں میں بعد کے زمانے کے لوگ ہی نہیں کفار مکہ بھی تھے جو بتوں کی پوجا کرتے تھے۔‘‘

’’اس کا سبب؟‘‘

’’اس کا سبب یہ تھا کہ آج سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔ ان لوگوں نے پہلے پہل تو اپنے دیوی دیوتاؤں اور بزرگوں کو پکارا اور ان کو تلاش کیا۔ ظاہر ہے کہ نہ کوئی تھا اور نہ کسی نے جواب دینا تھا۔ فرشتے اور صالح بزرگ، جنھیں اللہ کو چھوڑ کر پکارا جاتا تھا، انھوں نے تو ان لوگوں کے شرک سے صاف انکار کردیا تھا۔ اس کے بعد ایک ہی چارہ بچا تھا کہ یہ لوگ اپنے شرک کا صاف انکار کردیں، مگر ظاہر ہے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ایسے تمام مجرموں کے لیے جہنم کا فیصلہ ہوگیا۔‘‘

’’اس وقت کس کا حساب کتاب ہورہا ہے؟‘‘، میں نے دریافت کیا۔

’’اس وقت تمھارے زمانے کے لوگوں کا نمبر آچکا ہے۔ اسی لیے میں تمھیں یہاں لے آیا ہوں۔ تم دیکھ سکتے ہو کہ ایک ایک کرکے لوگ حساب کتاب کے لیے بلائے جارہے ہیں۔ ہر شخص دو فرشتوں کے ساتھ بارگاہ الٰہی میں پیش ہوتا ہے۔ ایک فرشتہ پیچھے پیچھے چلتا اور اپنی نگرانی میں اسے عرش تک پہنچاتا ہے جبکہ دوسرا فرشتہ بندے کے ساتھ اس کا نامۂ اعمال اٹھائے چلتا ہے۔ ان میں سے پیچھے والے فرشتے کو ’سائق‘ اور نامۂ اعمال لے کر ساتھ چلنے والے کو ’شہید‘ کہا جاتا ہے۔ ’سائق‘ وہ فرشتہ ہے جو بندے کو حشر کے میدان سے عرش الٰہی تک پہنچانے کا ذمے دار ہے جبکہ ’شہید‘ اس کے اعمال کی گواہی دیتا ہے۔ یہ وہی دو فرشتے ہیں جو زندگی بھر انسان کے دائیں اور بائیں سمت موجود رہے۔ دائیں والا نیک اعمال اور بائیں والا بداعمالیاں لکھتا تھا۔ ان کو قرآن مجید میں کراماً کاتبین کہا گیا تھا۔‘‘

’’مگر یہاں آکر ان میں سے کون سائق اور کون شہید بنتا ہے؟‘‘، میں نے پوچھا۔

’’اس کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ وہی بندے کی پیشی سے قبل کراماً کاتبین کو مطلع کرتے ہیں کہ دونوں میں سے کس کو کیا کرنا ہے۔‘‘

ہم وہاں پہنچے تو ایک سرکاری افسر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش تھا۔ اس سے پوچھا گیا:

’’کیا عمل کیا؟‘‘

اس نے لرزتے ہوئے جواب دیا:

’’پروردگار مجھ سے زندگی میں کچھ غلطیاں ہوئی تھیں، مگر بعد میں میں نے تیرے لیے بہت عبادت و ریاضت کی۔ اپنی زندگی تیرے دین کے لیے وقف کردی۔‘‘

اسی اثنا میں اس کے ساتھ کھڑے فرشتے کو اشارہ ہوا۔ اس نے کہا:

’’پروردگار! اس نے سچ کہا ہے۔‘‘

پوچھا گیا:

’’تم ایک سرکاری ملازم تھے۔ کیا تم نے رشوت لی؟ لوگوں کو تنگ کرکے ان سے پیسے کھائے۔ ناجائز طریقے سے قانون سخت کرکے لوگوں کو رشوت دینے کے لیے مجبور کیا؟‘‘

اس نے عرض کیا:

’’یہ میں نے کیا تھا لیکن میں نے توبہ کرلی تھی۔‘‘

’’تو نے توبہ کرلی تھی؟‘‘، انتہائی غضبناک آواز میں سوال کیا گیا۔

اس کے منہ سے جواب میں ایک لفظ نہیں نکل سکا۔ فرشتہ آگے بڑھا اور اس نے اس کے نامۂ اعمال کو پڑھنا شروع کیا۔ جس کے مطابق اس نے حرام کی کمائی سے گھر بنایااور ساری زندگی اسی گھر میں رہا، انویسٹمنٹ کرکے مال کو خوب بڑھایا، بچوں کو اسی پیسے سے اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ بیوی کو خوب زیورات بناکر دیے۔یہ اس مال سے اپنی موت تک فائدہ اٹھاتا رہا۔ البتہ زبان سے توبہ ضرور کی تھی اور ریٹائرمنٹ کے بعد ڈاڑھی، ٹوپی، نماز وغیرہ سب شروع کردی تھی۔

جیسے ہی فرشتے کا بیان ختم ہوا حکم ہوا:

’’اس کا نامۂ اعمال میزان میں رکھو۔‘‘

دائیں ہاتھ کے فرشتے نے اس کی نیکیاں الگ کرکے میزان عدل میں دائیں طرف رکھ دیں اور بائیں ہاتھ کے فرشتے نے اس کی برائیاں بائیں طرف رکھ دیں۔ وہ سرکاری افسر انتہائی بے بسی اور خوف کے ساتھ یہ سب ہوتا دیکھ رہا تھا۔

جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

(ابویحییٰ کی تصنیف ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ دور جدید میں اردو زبان کی سب زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔ کئی ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں اس کتاب کے تراجم ہوچکے ہیں۔ابو یحییٰ نے علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن کے ساتھ آنرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کی ہیں جبکہ ان کا ایم فل سوشل سائنسز میں ہے۔ ابویحییٰ نے درجن سے اوپر مختصر تصانیف اور اصلاحی کتابچے بھی لکھے اور سفر نامے بھی جو اپنی افادیت کے باعث مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ پچھلے پندرہ برسوں سے وہ قرآن مجید پر ایک تحقیقی کام کررہے ہیں جس کا مقصد قرآن مجید کے آفاقی پیغام، استدلال، مطالبات کو منظم و مرتب انداز میں پیش کرنا ہے۔ ان سے براہ راست رابطے کے لیے ان کے ای میل abuyahya267@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

مزید :

جب زندگی شروع ہوگی -