مولانا مفتی محمودؒ : ایک بااصول سیاست دان

مولانا مفتی محمودؒ : ایک بااصول سیاست دان
 مولانا مفتی محمودؒ : ایک بااصول سیاست دان

  

مولانا مفتی محمود صوبہ سرحد (موجودہ خیبرپختونخوا) کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تو انہوں نے واضح کیا کہ ہم اسلام کے نفاد کے لئے اقتدارحاصل کرنا چاہتے تھے۔

ایک عرصے تک محراب و منبر سے شراب کی مخالفت کا درس دیتے رہے، لیکن کسی نے کان نہ دھرا، لیکن جیسے ہی اقتدار ملا شراب پر پابندی کا حکم نامہ جاری کردیا کہ صوبہ سرحد میں شراب نوشی پرپابندی ہے اور یہ حکم فوری نافذ العمل ہوگا۔

انہوں نے اپنی وزارت علیا کے زمانے میں کئی اصلاحی احکام جاری کئے تھے۔ مثلاً شلوار قمیض کو سرکاری لباس قرار دیا۔ اس پر بیوروکریٹس نے برامنایا تو مفتی صاحب نے انہیں مشورہ دیا کہ اپنا تبادلہ کروا لیں۔ کئی ایک نے اس حکم نامے کو نعمت سمجھا کہ انگریزی لباس پر زیادہ وہ خرچ سے نجات مل گئی۔

نماز ظہر کا دفاتر میں انتظام کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ کے قلمدان کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ وزارت خوراک کے معاملے میں حضرت یوسف ؑ کی پیروی کروں گا اور ان کے زمانے میں صوبے میں خوراک کی کوئی کمی نہ ہوئی۔

نظم و نسق کی یہ حالت تھی کہ ایک دن کے لئے بھی دفعہ 144ضابطہ فوبداری نافذ نہیں کی گئی، جبکہ ملک کے دوسرے صوبوں میں عموماً دفعہ 144نافذ رہی۔ کسی شخص کو بھی ناجائز حراست میں نہیں رکھا گیا، پارٹی تبدیل کرنے والوں کو لوٹا نہیں کہا گیا، بلکہ لفظ سیاسی مسافر کا استعمال کیا گیا۔

جب شراب کا حکم نامہ جاری ہوا تو بھٹو صاحب مرحوم نے فرمایا کہ مفتی صاحب آپ نے شراپ پر تو پابندی لگادی، لیکن سینما گھروں پر پابندی کیوں نہیں لگائی تو مفتی صاحب نے فرمایا، آپ نے تو گھر گھر میں ٹیلویژن کی صورت میں سینما گھر لگائے ہوئے ہیں۔

بھٹو صاحب نے صوبہ بلوچستان میں جناب عطااللہ مینگل کی وزارت کو ختم کیا تو مفتی صاحب نے اس فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے وزارت علیا سے استعفیٰ دے دیا۔

اس پر بھٹو صاحب نے مفتی صاحب کے ساتھ استعفیٰ کی واپسی کے لئے مذاکرات شروع کردیئے۔ دوران مذاکرات مفتی صاحب سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ مل کر کام کریں اور جو جی چاہے کریں۔

تو مفتی صاحب نے کہا کہ میں جو جی چاہے نہیں کرسکتا،میں تو قرآن و سنت کی روشنی میں حکومت کروں گا۔ مفتی صاحب نے شیرانوالہ لاہور میں مرکزی شوریٰ کے علاوہ چاروں صوبوں کے شوریٰ کے ارکان کو بھی بلالیا اور صورت حال بیان کی۔

اجلاس کے شرکا نے بھی استعفیٰ کی واپسی کو رد کردیا۔ ابھی اجلاس جاری تھا کہ ریڈیو پر ایک بجے کی خبروں میں اعلان ہوگیا کہ مفتی صاحب کا استعفیٰ منظور کرلیا گیا ہے۔

ایک دفعہ شوریٰ کے اجلاس میں مولانا محمد رمضان نے کہا کہ مفتی صاحب تبلیغی جماعت والے اچھے ہیں، دین کا کام تووہ کرتے ہیں تو مفتی صاحب نے کہا کہ تبلیغی جماعت والے چار، چار مہینے کا وقت دیتے ہیں، آپ لوگ شوریٰ کے اجلاس میں جو تین روزہ ہونا ہے، واپسی کا ٹکٹ لے کر آتے ہیں اور آخری دن صرف چند ساتھی موجود ہوتے ہیں۔

جنرل ضیاء الحق جو 90دن کا وعدہ کر کے آئے تھے، انہوں نے 90دن بعد الیکشن کروانے کا اعلان کیا، تو اتحاد نے ٹکٹ بھی تقسیم کردئیے تھے اور مفتی صاحب ڈی آئی خاں اور ڈیرہ غازی خان کی دو سیٹوں پر کھڑے ہوچکے تھے، لیکن جنرل ضیاء الحق نے قومی اتحاد کی کچھ جماعتوں سے مل کر الیکشن ملتوی کرنے کا اعلان کردیا،چنانچہ مفتی صاحب حلقوں سے واپس آگئے۔ مفتی صاحب نے زور دے کر کہا کہ ضیاء الحق صاحب نے انتخاب ملتوی کرکے اچھا نہیں کیا۔

الیکشن ہونے چاہئے تھے خواہ بھٹو صاحب بغیر دھاندلی کے الیکشن جیت کر آتے اور مجھے اور نواب زادہ نصراللہ خان کو پھانسی پر لٹکادیتے۔ مفتی صاحب کی ذات پر بدعنوانی کا ایک داغ بھی نہیں لگاسکا۔ وہ فرمایا کرتے تھے، انہیں اس دنیا میں بھی حساب دینا ہے اور آخرت میں بھی حساب دینا ہوگا۔

ختم نبوت میں آپ نے جو خدمات اسمبلی میں سرانجام دیں، وہ بھی ان کے نامہ اعمال کا اہم حصہ ہیں، اس میں بھٹو صاحب مرحوم کے لئے بھی سرمایہ آخرت ہے۔

مزید : کالم