درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 43

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 43
درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 43

  

یہ حالات پیش نظر رکھتے ہوئے مجھے سوچنا تھا کہ مچان پر بیٹھوں یانہ بیٹھوں۔شیر میں اگرذرہ برابر بھی احتیاط کا مادہ ہے تو وہ یقیناً میلوں دور جا چکا ہو گا اور شام کی خوراک کے لیے کسی اور شکار کی تلاش میں پھر رہا ہو گا۔شیر کے بارے میں یوں بھی فیصلہ کن پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی کہ وہ کس وقت اور کہاں اچانک نمودار ہو جائے گا۔ بعض شیر مقررہ اصولوں پر سختی سے پابند ہوتے ہیں اور بعض جنگل کے اصولوں کی خلاف ورزی کرکے خوش رہتے ہیں۔یہ تمام باتیں شکاری کو اس وقت معلوم ہوتی ہیں جب کسی درندے سے اس کا پالا پڑتا ہے اور وہ اس کی حرکتوں سے فطرت کا کچھ اندازہ کرتا ہے۔ویسے میں برسبیل تذکرہ اپنا مشاہدہ بیان کردوں کہ جو لوگ شیر کہلوانا پسند کرتے ہیں ،اگر انکی شخصیت مضبوط ہوتو وہ بھی یہی کام کرتے ہیں۔مرضی کے مالک ۔درندوں پر نام القابات رکھنے سے انکی عادات بھی در آتی ہیں۔

گائے کی لاش گاؤں سے تقریباً ایک میل دور کھائی کے اندر پڑی تھی اور چار آدمی کندھوں پر بھاری کلہاڑے رکھے مجھے وہاں لے جانے کے لیے تیار کھڑے تھے۔مچان چونکہ باندھا جا چکا تھا، اس لیے میں نے بددلی کے ساتھ وہاں جانے کا فیصلہ کر ہی لیا ابھی ہم نے تین چوتھائی فاصلہ طے کیا تھا کہ آگے آگے جانے والا آدمی رکا اور سرگوشی کے لہجے میں بولا:

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 42 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’مچان اس بڑے پیپل کے پاس ہے۔اب ہم خاموشی سے آگے بڑھیں گے۔‘‘یہ کہہ کر وہ جانا چاہتا تھا کہ میں نے اسے روک لیا اور گردو پیش کا جائزہ لینے لگا۔چھوٹی چھوٹی جھاڑیوں اور درختوں بھرا ہوا گھاس کا ایک وسیع قطعہ ہمارے گرد پھیلا وا تھا۔ تقریباً چار سو گز آگے پیپل کا ایک بہت اونچا اور غیر معمولی گھنا درخت سر اٹھائے نظر آیا۔میں نے سوچا،اگرمچان اس درخت پر باندھا گیا ہے تو وہاں تک مجھے تن تنہا جانا چاہیے۔ممکن ہے شیر ادھرادھر گھوم پھر کر دوبارہ گارے کے نزدیک آگیا ہو اور سورج چھپنے کے انتظار میں کسی جھاڑی کے اندر دبکا بیٹھا ہو۔میں نے اپنے ساتھیوں کو واپس جانے کی ہدایت کی اور جب وہ نظروں سے اوجھل ہوگئے تو رائفل کامعائنہ کرنے کے بعد میں کچھ دیر تک جنگل کی سن گن لیتا رہا۔ درختوں پر بسیرا کرنے والی چڑیوں کی چوں چوں کے سوا اور کوئی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ میں لمبی گھاس میں گھٹنوں کے بل جھک گیا اور ہاتھ پاؤں کے بل چلتا ہوا پیپل کے عظیم الشان درخت کی طرف بڑھنے لگا۔ پندرہ منٹ بعد پیپل کا پورا درخت اور آس پاس کے جنگل کا ٹکڑا پچاس گز کے فاصلے پر میری نگاہوں کے سامنے تھا۔ خدشہ تھا کہ شیر یا کوئی اور جانور اس جھاڑی میں چھپا ہوا نہ ہو، لیکن وہاں گہرے سناٹے کے سوا کچھ نہ تھا۔

معمولی معمولی وقفوں کے بعد رک کر ادھر ادھر دیکھتا آگے بڑھتا رہا۔ یک لخت میری چھٹی حس بیدار ہوئی اور پھر میری آنکھوں کے گوشوں نے کچھ فاصلے پر گھاس کے اندرایک عجیب سی جنبش کا نظارہ کیا۔ میں اب چھوٹے چھوٹے درختوں اور جھاڑیوں کے نزدیک چھپا ہوا تھا۔ ہوا بالکل ساکن تھی لیکن میں نے دیکھا کہ بائیں جانب جھاڑیوں کے نچلے حصے کے پتے آہستہ آستہ ہل رہے ہیں۔میں نہایت احتیاط سے آہٹ پیدا کیے بغیر گھوما اور اس طرف غور سے تکنے لگا۔تیزی سے پھیلتے ہوئے دھند لکے کے باعث مجھے شروع میں کچھ دکھائی نہ دیا اور ممکن ہے فریب نظر سمجھ کر کچھ زیادہ غور نہ کرتا مگر اس مرتبہ جھاڑیاں اور تیزی سے ہلیں۔پھر ایک سرخی مائل مٹیالا دھبا نگاہوں کے سامنے آگیا۔گھاس میں کوئی بڑا سا جانور موجود تھا۔

یہ منظر اس سرعت سے سامنے آیا کہ میں سوچے سمجھے بغیر اپنے دفاع کے لیے تیار ہو گیا اور منتظر رہا کہ اب شیر حملہ کرتا ہے۔۔۔مگر نہیں،جھاڑیاں بالکل ساکن تھیں اور گھاس میں چھپے ہوئے جانور نے مزید کوئی حرکت نہ کی۔میں نے غور سے دیکھا۔مجھے ایک سفیدی مائل سیاہ دھبا نظر آیا۔کالے نتھنے کے ڈیلے کا رخ آسمان کی طرف تھا۔ میں چوکنا ہو کر آگے بڑھا،حتیٰ کہ بالکل قریب پہنچ گیا۔ یہ ایک مردہ بچھڑا تھا جس کی گردن وحشیانہ انداز میں مروڑی گئی تھی اور کانوں کے پیچھے گردن پرشیر کے دانتوں کے نشانات نمایاں تھے۔بچھڑے کی لاش کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ مکھیانے کچھ نہ کچھ چھپایا ضرور تھا۔ اس کی گائے دراصل بچھڑا تھی مگر اس کے بارے میں تو لوگوں نے بتایا تھا کہ لاش کھائی کے اندر پڑی ہے۔اب میں ایک پیچیدہ صورتحال سے دو چار تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ شیر گارے پر آیا اور بندھی ہوئی رسی کو توڑ کر جانور کو گھسیٹنے کی کوشش کررہا تھا کہ میری غیر متوقع آمد نے اس کی کوششوں میں خلل ڈال دیا۔

خطرے سے آگاہ ہو کر میں نے چاروں طرف دیکھا تا کہ گھسیٹے کے نشانات دیکھ لوں مگر کوئی نشان نظر نہ آیا۔مجبوراً یہی نتیجہ اخذ کرنا پڑا کہ شیر قدوقامت میں بڑا ہے اور بچھڑے کو گھسیٹنے کے بجائے منہ میں دبا کر لے جانا چاہتا ہو گا لیکن کسی وجہ سے لاش چھوڑ کر بھاگ گیا۔میرے اردگرد کی گھاس بری طرح مسلی ہوئی تھی جس سے پتا چلتا تھا کہ ادھر سے مویشی گزرے ہیں۔ممکن ہے یہ وہی مویشی ہوں جنہیں شریر لڑکے اپنے ساتھ یہاں لائے تھے اور شیر کے طیش میں آکر انہی میں سے ایک بچھڑے کو ہلاک کر دیا ہے۔گویا یہ مردہ بچھڑا شیر کا دوسرا شکار تھا۔

اب سوال یہ پیدا ہوا کہ جھاڑی کے ہلتے ہوئے پتے کیا خبردے رہے تھے۔میرا ذہن واقعات کی اس صورت گری میں الجھ کر رہ گیا۔پتوں کے ہلنے سے شبہہ ہوتا تھا کہ شیر نواح میں موجود ہے اور وہ گائے کو نہیں بچھڑے کو گھسیٹ کر لے جانے کی کوشش کررہا تھا۔ اس مقام پر زمین قدرے سخت تھی اور شیر کے پنجوں کے نشانات کا نظر آنا ممکن نہ تھا۔شیر کی موجودگی کی چغلی کھانے والے زرد رنگ کے بال بھی ٹہنیوں پر دکھائی نہ دیے۔پتوں کو حرکت دینے والی چیز ہوا کے علاوہ کوئی پرندہ یا گیدڑ بھی ہو سکتا تھا جسے میں اندھیرے کے باعث نہ دیکھا سکا، چونکہ اس جگہ شیر کی موجودگی کے واضح آثار ظاہر نہ ہوئے، اس لیے میں نے پہلے گارے کی طرف بڑھنے کا ارادہ کیا۔ میرے ذہنی سمت پیپل کے درخت کے پاس سے ایک پگڈنڈی جنگل میں سے گزرتی تھی جس پر دن کے وقت بیل گاڑیوں اور مویشیوں کی آمدورفت جاری رہتی تھی۔میں نے پیپل کے درخت کا جائزہ لیا لیکن مچان کا کہیں نشان نہ تھا۔مجھے حیرت ہوئی کہ گاؤں والوں نے جھوٹ کیوں بولا۔اب تو میں سخت گھبرایا اور دبے پاؤں پگڈنڈی پر چلنے لگا۔

تیس گز کا فاصلہ طے کرنے کے بعد مجھے بڑھوار کا مارا ہوا ایک درخت نظر آیا۔مچان اس درخت پر بندھا ہوا تھا۔ مجھے اطمینان ہوا۔اس کے قریب ہی کھائی بھی دکھائی دی۔تھوڑی دیر بعد میں نے گائے کی اکڑی ہوئی لاش تلاش کرلی۔ شیر کو اس وقت تک اس میں سے کھانے کا کچھ موقع نہ ملا تھا۔(جاری ہے )

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 44 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : آدم خور