قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 97

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 97
قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 97

  

ویسے تو شعر سننے میں کوئی حرج نہیں ۔ لیکن اس طرح شعر سننا بڑا بے موقع سا تھا۔ اور پھر سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر سننا مجھے کچھ اچھا نہیں لگتا تھا۔ جب کئی بار ایسے ہوا تو میں نے سوچا کہ کس طرح جان چھڑائی جائے۔ حافظ صاحب دوست بھی ہیں اور چاہتا تھا کہ وہ ناراض بھی نہ ہوں لیکن اس کا بندوبست بھی ہونا چاہیے۔ چنانچہ ایک دن پلاننگ کے تحت میں نے پہلے سے کہی ہوئی دس غزلیں جیب میں رکھیں۔ حافظ صاحب نے اسی طرح اس دن مجھے روکا اور پوچھا کہ کوئی تازہ کلام کہا ہے۔ میں کہا سنئے۔ میں نے ایک غزل سنائی تو انہوں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا کہ شاید میں ختم کر چکا ہوں۔ لیکن میں نے دوسری غزل شروع کر دی۔ اور سناتے سناتے میں نے دس کی دس غزلیں سنا دیں ۔ اس کے بعد میں نے ایک غزل حافظ صاحب کی بھی سن لی۔ لیکن جس طرح انہوں نے دس غزلیں مجھ سے سنیں وہ ان کے چہرے سے نظر آرہا تھا۔ ان کے بس میں نہیں تھا ورنہ وہ میرے ہاتھ سے کاغذ لے کر پھاڑ دیتے اور صرف اپنی غزل سناتے مگر انہیں سننی پڑیں۔ اس کے بعد میں نے مستقل طور پر اپنی جیب میں غزلیں رکھنی شروع کر دیں۔ کچھ دن تو وہ نظر نہیںآئے لیکن ایک دن پھر کھڑے نظر آئے اور کہنے لگے کہ کوئی تازہ کلام ہی سناتے جاؤ۔ میں نے کہا کہ ضرور سنئے اور اس کے ساتھ ہی جیب میں ہاتھ ڈال کر کاغذوں کا ایک پلندہ نکال لیا۔ وہ اتنے سارے کاغذات دیکھ کر ایسے گھبرائے کہ کہنے لگے کہ ذرا ٹھہرو میں گھر میں ایک ضروری بات کہہ کر ابھی آتا ہوں اور اس کے بعد ایسے گئے کہ پھر اس کے بعد اس راستے پر آکر کبھی کھڑے نہیں ہوئے۔ اس طرح میرا راستہ صاف ہو گیا۔

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 96  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

شعرسنانے کے ایک اور رسیا مرزا خورشید جاہ تھے۔ آپ کا دعویٰ تھا کہ آپ مغلیہ خاندان کے آخری چشم و چراغ ہیں۔ ان کے رہن سہن اور عادات سے اس کی تصدیق بھی ہوتی تھی۔ یہ ماڈل ٹاؤن میں رہتے تھے اور جب دعوتیں کرتے تھے تو وہی مغلوں والے ٹھاٹھ ہوتے تھے اور بیس پچیس کھانے اور چھ سات سویٹ ڈش پکی ہوتی تھیں۔ سنانے کا مرض انہیں بھی تھا۔

مجھ سے ان کے مراسم کچھ ایسے ہو گئے تھے جن کے بارے میں وہ کہا کرتے تھے کہ میرے قتیل سے خصوصی مراسم ہیں ۔ اس کے کچھ فائدے بھی تھے کہ وہ اکثر دعوتوں میں مجھے بلاتے تھے لیکن کچھ نقصانات بھی تھے اور وہ یہ کہ وہ اکثر رات کو بارہ ایک بجے مجھے فون کر کے کہتے تھے کہ لیجئے میرا تازہ کلام سنئے اور یہ کلام ان کی اپنی زبان میں نہیں ہوتا تھا بلکہ ان کی ایک عزیزہ تھیں جو خوش الحان تھیں وہ ان کی آواز میں اپنا کلام ریکارڈ کروالیتے تھے اور پھر ٹیپ چلا کر فون کے ذریعے اپنا کلام سنواتے تھے اور ایک دوسرا ریسور اپنے کان سے لگا کر میری داد سنتے تھے ۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا کہ ٹیپ ریکارڈ مجھے پورا ایک ایک گھنٹہ سننا پڑتا اور داد بھی دینی پڑتی۔

خدا انہیں بخشے ۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں۔ اتنی خوبیوں کے مالک تھے لیکن ان کا یہ پہلو کمزور تھا۔ وہ دوستوں کی قوت سماعت کو آزماتے تھے۔ یہ بات شعر سنانے والے مریضوں میں ہی پائی جاتی ہے ۔ ان کا دیا ہوا ایک پاؤنڈ جسے وہ اشرفی کہتے تھے بہت دیر تک میرے پاس رہا لیکن آخر کار وہ چوری ہو گیا۔ انہوں نے ایک پرائیویٹ نشست میں میری شاعری کی تعریف کر کے کہا تھا کہ میں ان کی تعریف میں یہ اشرفی پیش کرتا ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خواجہ احمد عباس اور راجند رسنگھ بیدی

1947 ء میں جب میں لاہور آیا تو میرا تعارف ایک خاتون چندر کانتا سے ہوا تھا جو فلم میں قسمت آزمانے آئی تھیں۔ ان سے گہرے مراسم ہونے کی وجہ سے میرا زیادہ وقت ان کے ساتھ گزرتا تھا اور یہ وہ زمانہ تھا جب اکثر لوگ ریسٹورنٹ یا بار میں شام گزارتے تھے۔ ان دنوں مال روڈ پر سٹینڈ رڈ ریسٹورنٹ ہوتا تھا جس میں کچھ ریزرو قسم کے لوگ آکر Couplesکی شکل میں بیٹھتے تھے۔ میرا بھی وہاں آنے جانے کا اتفاق رہتا تھا۔

وہاں میں نے دیکھا کہ خواجہ احمد عباس کبھی گیتا بالی کے ساتھ نظر آتے تھے اور کبھی ایک کرسچن لڑکی کے ساتھ جو اس وقت کے مشہور مزاحیہ اداکار مجنوں کی بہن تھی ۔ اس خاتون کا نام اب مجھے یا د نہیں۔ یہ اکثر ان دو کے ساتھ پائے جاتے تھے۔ پھر دیکھا کہ گیتا بالی تو غائب ہو گئی اور وہ کرسچن خاتون ہی صرف ان کے ساتھ دکھائی دینے لگی۔

خواجہ احمد عباس اصل میں تو سارا کاروبار حیات ممبئی میں کرتے تھے لیکن ایک پروگریسو فلم کی تکمیل کے لیے لاہور میں آئے ہوئے تھے ۔ فلم کا نام ’’آج اور کل ‘‘ تھا۔ یہ فلم لاہور میں بن رہی تھی اور خواجہ صاحب کی ٹیم میں اس وقت کے پڑھے لکھے لوگ موجود تھے ۔ مثلاً میوزک ڈائریکٹر خورشید انور تھے اور اپنے زمانے میں ان سے پڑھا لکھا ہوا میوزک ڈائریکٹر اور کوئی نہیں تھا۔ یہ لوگ ’’آج اور کل ‘ ‘ بنا رہے تھے۔

سٹینڈرڈ ریسٹورنٹ ہی میں میرا اور خواجہ صاحب کا تعارف ہوا اور انہوں نے مجھے اپنے ساتھ چائے میں شریک ہونے کی دعوت دی۔ اس کے بعد بھی ان سے کبھی کبھار ملاقات ہو جاتی تھی لیکن یہ ملاقات رسمی حد تک محدود رہی۔ مارچ 1947 ء میں جب ماسٹر تارا سنگھ نے پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر مسلمانوں کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تو اس سے ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے اور شہر میں افراتفری پھیل گئی۔ اس سے خاص طور پر پروڈکشن بہت متاثر ہوئی۔ خیالستان پروڈکشن جس میں میں کام کرتا تھا اس کا کام بھی رک گیا۔ اور خواجہ صاحب کی پکچر بھی رک گئی۔ اس دوران لوگوں کا ریستو رانوں میں جانا بھی بند ہو گیا۔ کیونکہ فسادات کا اندیشہ بھی ہوتا تھا اور سر شام کرفیو بھی لگ جاتا تھا۔ پھر لاہور میں خواجہ صاحب سے ملاقات نہ ہو سکی۔ لیکن جب میں ممبئی گیا تو میرے اعزاز میں منعقد ایک دعوت میں خواجہ صاحب سے ملاقات ہوئی ۔1960 ء کی بات ہے لیکن اس بار بھی خواجہ صاحب سے ملاقات محض سرسری رہی البتہ انہیں میرے ساتھ لاہور میں ہونے والی مختصر سی کچھ ملاقاتیں یاد تھیں۔ اس کے بعد میں اٹھارہ سال کے وقفہ کے بعد جب 1978 ء میں انڈیا گیا تو ان سے خوب ملاقاتیں ہوئیں۔

میں ان سے ملنے کیلئے خود ان کے گھر پر گیا۔ دیکھا کہ گھر میں کوئی خاتون نہیں تھی۔ ان کے ایک معتمد اور اسسٹنٹ وحید انور جو خود گانے بھی لکھتے ہیں اور افسانوں کے کچھ مجموعے بھی مرتب کر چکے ہیں، ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ اتنا معلوم تھا کہ خواجہ صاحب جب دوسروں کے لیے کہانی لکھتے ہیں تو وہ کمرشل لحاظ سے بہت ہٹ ہوتی ہے لیکن جب اپنے لیے کوئی کہانی لکھتے ہیں تو فلم اپنا خرچ بھی پورا نہیں کرتی۔

دراصل خواجہ صاحب ایک پیدائشی تخلیق کار تھے اور ان میں یہ لگن تھی کہ لوگوں کو ایسی فلمیں دی جائیں جو سنگ میل ثابت ہوں اور منزل کی نشاندہی کر یں اور لوگ انہیں رہنما بنا کر آگے بڑھیں چنانچہ انہوں نے زندگی میں جو کمایا اسی دھن میں لٹا دیا ورنہ انہوں نے راجکپور کی جتنی فلمیں لکھیں جن میں فلم ’’آوارہ ‘‘ بھی شامل ہے وہ سب کی سب ہٹ گئیں۔ مگر ان کی اپنی کوئی بھی فلم نہ چل سکی۔

نتیجہ یہ کہ ان کی مالی حالت اچھی نہیں تھی۔ چنانچہ وہ وہاں سے نکلنے والے ایک پرچے میں اُردو صفحہ زندگی بھر لکھتے رہے اور اپنا خرچ چلاتے رہے۔ اس سے ہونے والی آمدن معمولی تھی ۔ یا پھر وہ افسانے لکھتے تھے جن سے بھی کچھ معاوضہ مل جاتا تھا۔ فلم کی آمدن کا حساب تو یہ تھا کہ کنویں کی مٹی کنویں کی نذر ہو جاتی تھی۔

اس زمانے میں جب میں ان سے ملا تو ان کے معاشی حالات ایسے ہی تھے۔ پتہ چلا کہ مجنوں کی کرسچن بہن سے انہوں نے چوری چھپے شادی کر لی تھی اور اس سے ان کی ایک بچی بھی ہوئی جو ممبئی میں اس وقت بھی رہتی تھی مگر ان سے الگ رہتی تھی کیونکہ خواجہ صاحب کی یہ بیوی فوت ہو چکی تھی۔ وضعداری کا یہ عالم تھا کہ ان کے گھٹنوں میں تکلیف ہوتی تھی اس کے باوجود جہاں بھی میری دعوت ہوتی اس میں وہ اہتمام سے پہنچتے ۔ میں نے محسوس کیا کہ ممبئی میں اپنے پہنچنے سے جتنی میری عزت افزائی خواجہ صاحب نے کی وہ میرے لیے بہت تھی کیونکہ میں تو ان کے شاگردوں جیسا بھی نہیں تھا۔ وہ مجھ سے بہت سینئر ہی نہیں بلکہ ہمہ صفت اور ہمہ پہلو تھے۔ وہ ڈرامہ ، فلم ، ادب اور کالم نگاری میں ہر جگہ ہی بہت آگے تھے۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں خدا انہیں اپنے جوا رحمت میں جگہ دے۔

ان کے ساتھ جو ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے کچھ تصویروں کی شکل میں اب بھی موجود ہیں۔ لاہور کی باتیں بھی ہوتی تھیں اور وہ کہتے تھے کہ میں پھر لاہور آؤں گا ۔ عجب بات ہے کہ جو ایک بار لاہور میں آگیا پھر ہمیشہ لاہور کو یاد کرتا رہا اور یہاں آنے کا سوچتا رہا۔ جو لوگ یہاں پر بچپن یا جوانی گزار چکے تھے وہ تو چاہتے ہی تھے کہ یہاں آکر اپنا گھر بار دیکھیں۔ لیکن دوسرے لوگ بھی جنہوں نے لاہور میں ایک دو سال گزارے ہوتے تھے وہ بھی یہاں دوبارہ آنے کی تمنا رکھتے تھے۔

یہ قدرتی بات ہے شاید اس طرح پاکستان میں رہنے ولے وہ ہندوستانی جن کا وطن ہندوستان ہے وہ بھی اپنے وطن یا شہر کے بارے میں ایسے ہی جذبات رکھتے ہوں ۔ میں نے1984 ء میں خواجہ صاحب سے پروگرام بھی بنایا تھا کہ میں ان کے لیے یہاں لاہور میں ایک خاص تقریب کا اہتمام کروں گا اور انہیں بلواؤں گا ۔ یہ تقریب ادیبوں اور فلم والوں کی طرف سے مشترکہ ہو گی۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ان کی طبیعت روز بروز خراب تر ہوتی چلی گئی ۔ ’’فن اور شخصیت ‘‘ کے ایڈیٹر صابردت سے وہاں یہ بھی طے پایا تھا کہ خوجہ صاحب کے بارے میں ایک نمبر بھی نکلے گا لیکن ان کی موت سے یہ سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

خواجہ صاحب نے مرنے سے پہلے کہا تھا کہ وہ جس مکان میں رہتے ہیں اسے ٹرسٹ بنا دیا جائے اور اس کے ایک کمرے میں ان کا سارا کام رکھا جائے تاکہ وہ ادیبوں اور فلم والوں کے کام آسکے۔ لیکن وہاں پر ہوتا یہ ہے کہ بالعموم مکانات پگڑی پر ہوتے ہیں جبکہ مالک مکان کوئی اور ہوتا ہے ۔ خواجہ صاحب کے پاس جو مکان تھا وہ دس لاکھ روپے کی پگڑی کا تھا۔ مگر ان کے کچھ رشتہ داران آئے جو اپنی وراثت کا ثبوت ظاہر کر کے بالا بالا ہی اس مکان کی پگڑی کا چار لاکھ روپے میں سودا کر کے چلے گئے۔ اب اس مکان کا مقدمہ چل رہا ہے۔

غرض خواجہ صاحب کا ٹرسٹ بنانے کا منصوبہ بھی رہ گیا اور ان کا نمبر بھی نہ نکل سکا ۔ زمانہ یہی ہے کہ سب آنکھوں دیکھی باتیں ہوتی ہیں۔ جب تک کوئی سامنے ہوتا ہے تو اس کا لحاظ بھی ہوتا ہے اور جب آنکھیں بند ہو گئیں اور پیچھے نرینہ اولاد یا ایسے لوگ موجود نہیں ہیں جن سے لوگوں کو کام نہ پڑے تو کوئی پوچھتا نہیں ہے۔ اب ان کی وہ بیٹی جو مجنوں کی بہن سے تھی وہ جو شروع سے الگ رہ رہی تھی اس کے بارے میں سنا ہے کہ وہ اس معاملے میں داخل ہو گئی ہے۔ اور ان کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے۔ یہ بہت لائق بیٹی ہے اور خواجہ صاحب کی اس میں بہت سی خوبیاں موجود ہیں۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو اور خواجہ صاحب کی خواہشیں ان کے مرنے کے بعد پوری ہو جائیں۔(جاری ہے )

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 98 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

گھنگروٹوٹ گئے -