27اکتوبر ۔یوم سیاہ برائے کشمیر

27اکتوبر ۔یوم سیاہ برائے کشمیر

بر صغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو پیسوں کی ضرورت پڑی تو اس نے سکھوں کی لاہور حکومت سے جنگوں کے اخراجات کے نام پر ایک کروڑ روپے اورراوی اور ستلج کا درمیانی علاقہ مانگ لیا ۔حکمران دلیپ سنگھ نے رقم کا بندوبست نہ ہونے کی صورت میں کشمیر ، کوہستان اور ہزارہ کا علاقہ " ایسٹ انڈیا کمپنی " کو ہمیشہ کیلئے تفویض کر دیا ۔کمپنی کو رقم کی ضرورت تھی اس نے 15 اکتوبر 1846 کو 75 لاکھ روپے کے عوض کشمیر کو گلاب سنگھ ڈوگرہ کے حوالے کر دیا ۔انسانی معاشرے کی زندگی میں ایسے افسوس ناک حادثوں کی تعداد کم نہیں ہے جہاں معصوم لوگوں کی سادہ لوحی ، ضمیر کی اخلاقی اور قانونی آواز کو روندتے ہوئے " بے رحم سفاکیت اور ظلم و ستم " میں تبدیل کر دیا گیا ہو ۔ یہ محض ایک شرمناک فعل ہی نہیں بلکہ ایک ایسا رویہ ہے ۔جس نے انسانیت کے چہرے کو داغدار کر رکھا ہے ۔

آزادی کے حصول کی خاطر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے یہ لوگ پون صدی سے قربانیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عالمی ضمیر کے عناصر ترکیبی میں ہنودو یہود اور فرنگی فکر کے غلبے کے سبب کشمیری عوام جن کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے مظالم برداشت کرتے آرہے ہیں ۔جموں و کشمیر ریاست کی قسمت واقعی ایسی ہی ہے جسے مصائب کے انبار وراثت میں ملے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ کشمیریوں سے آزادی کی پوری قیمت وصول نہیں کی گئی ہے۔کشمیر پرگلاب سنگھ کے قبضہ کے بعد کشمیری آبادی پر ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ڈوگرہ راج کے سزا کے طریقے سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔ ڈوگرہ راج نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی تھی ۔

کشمیری حریت پسند شال بافوں نے گلاب سنگھ کے بیٹے رنبیر سنگھ کے خلاف اپریل 1865 میں آواز بلند کی ۔اس واقعہ میں کئی مزدور دریا برد کر دیے گئے 1865 کو شال بافوں کی جلائی گئی چنگاری ابھی بجھی نہیں تھی کہ 21 جولائی 1924 کو ریشم کے کارخانے کے 22 مزدوروں کو ڈوگرہ پولیس نے حراست میں لے لیا ۔ اگلے دن اس کے خلاف ہزاروں مزدور باہر نکل آئے جن پر پولیس نے دھا وا بول دیا اور سینکڑوں زخمی ہوئے ۔یہ واقعہ بھی کشمیریوں کی بیداری میں اہم حیثیت رکھتا ہے اس کے بعد 13 جولائی 1931 کو جس دن 21 مسلمانوں کو ظہر کی اذان دیتے ہوئے شہید کیا گیا کشمیر کی تحریک آزادی میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے ، اس واقعہ نے کشمیری مسلمانوں میں ایک نیا ولولہ پیدا کر دیاتھا ۔اس کے ایک سال بعد کشمیر کی پہلی باقاعدہ ایک سیاسی تنظیم " جموں و کشمیر مسلم کانفرنس " کا قیام عمل میں آیا ۔1945 میں پاکستان کا مطالبہ پورا ہونے کے قریب پہنچ چکا تھا اور تقسیم نا گزیر ہو چکی تھی ۔ایسے میں ان 565 ریاستوں کا فیصلہ بھی ہونا تھا ۔جہاں کے نواب اور راجے مسلمان اور ہندو تھے۔

ان میں سے کچھ ریاستوں کے " راجے " مسلمان اور رعایا ہندو جبکہ کچھ کے "راجے " ہندو یا سکھ اور رعایا مسلمان تھی ۔ان میں کشمیر کی رعایا ) 85 فیصد) مسلمان جبکہ مہاراجہ ہری سنگھ ڈوگرہ تھا ۔جب تقسیم کا فارمولا وضع کیا گیا تو ریاستوں کو جغرافیائی ، مذہبی ، ثقافتی ، سیاسی اور اقتصادی بنیادوں پر دونوں (پاکستان یا بھارت) ممالک میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق یا اپنی خود مختار حیثیت برقرار رکھنے کا اختیار دیا گیا ۔کشمیر میں چوں کہ مسلمانوں کی اکثریت تھی ۔ اور اس کے ارد گرد مسلم علاقے تھے ۔جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے بھی کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرار داد منظور کی لیکن سفاک ہندو اور مکار فرنگی نے وادی کی قسمت کا فیصلہ ایک سازش کے تحت کر رکھا تھا جس پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ۔ کشمیر کو بھارت کے حوالے کرنے کیلئے ماونٹ بیٹن کا کردار انتہائی ظالمانہ اور منافقت پر مبنی تھا۔" تقسیم کا عمل " دغا ، بے اصولی ، نا انصافی ، حق تلفی، مسلمانوں سے عناد ، مسلم کشی اور پاکستان دشمنی کی ایسی شرمناک داستان ہے جو ظلم و استبداد اور جارحیت کی تاریخ میں منفرد ہے ۔بھارت نے جولائی 1947 میں ہی کشمیر سے مسلم اکثریت کے خاتمے کیلئے قتل وغارت اور لوٹ مار شروع کر دی تھی ۔

کیوں کہ اس کا تجربہ وہ مشرقی پنجاب میں کر چکا تھا ۔اس منصوبے پر عمل درآمد کیلئے فوجی دستے جموں اور سری نگر لائے گئے جنہوں نے ڈوگرہ فوج سے مل کر لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کا قتل کیا ۔مہاراجہ کشمیر بھارتی قیادت اور انگریز سے خفیہ ساز باز کر رہا تھا اور دوسری طرف پاکستان کو دھوکا اور کشمیری عوام کو بے وقوف بنانے میں مصروف رہا ۔مہاراجہ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ ہتھیار ڈوگرہ حکومت کے حوالے کر دیں اور پولیس و فوج میں جو تھوڑے بہت مسلمان تھے ان کو برطرف کر دیا ۔ہندو متعصب تنظیموں" راشٹریہ سیوک سنگھ ، جن سنگھ اور ہندومہاسبا" کو کشمیر میں ہیڈ کوارٹر بنانے کی اجازت دی ان تنظیموں نے باقاعدہ فوج تیار کی جس کا مقصد مسلمانوں کو منظم طریقے سے ختم کرنا تھا ۔نہتے مسلمانوں پر متعصب ہندووں اورڈوگرہ فوج نے بے پناہ مظالم ڈھائے۔کشمیری عوام ڈوگرہ جبرواستبداد کے خلاف صف آرا ہو گئے اور پہلی بغاوت ضلع پونچھ سے شروع ہوئی جہاں ڈوگرہ حکمران گلاب سنگھ نے ایک صدی قبل ظلم کا آغاز کیا تھا ۔کشمیریوں نے اپنی کشتیاں جلا کر تخت یا تختہ کے مصداق ٹھان لی تھی کہ ڈوگرہ بربریت سے آزادی حاصل کر کے رہیں گے

27 اکتوبر 1947 کو آل انڈیا ریڈیو سے اعلان کیا گیا کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیر کا الحاق بھارت سے کر لیا ہے اور بھارت سے فوجی امداد طلب کی ہے ۔یہی وہ دن تھا جب کشمیری عوام کو مہاراجہ کی محکومی سے اٹھا کر ہندوستان کے آگے ڈال دیا گیا اس دن کو کشمیری یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں اسی دن بھارتی جہازوں سے سری نگر کی ائیر پورٹ پر فوج اترنا شروع ہو گئی ۔جہاں پہلے سے بندوقچی موجود تھے ۔جس کا مطلب تھا کہ بھارت نے کشمیر پر قبضے کے انتظامات پہلے ہی مکمل کر رکھے تھے ۔اس کے بعد ماونٹ بیٹن نے تمام بھارتی مسافر طیاروں کو دہلی طلب کیا اور ان کے ذریعے کشمیر میں فوج ، سامان حرب پہنچانا شروع کر دیا ۔ سری نگر ائیر پورٹ پر فر سٹ سکھ رجمنٹ، فرسٹ پنجاب رجمنٹ ، فرسٹ سکھ بٹالین اور فرسٹ کماوں رجمنٹ کیل کانٹوں سے لیس ہوکر پہنچ گئیں۔ان کے پاس مارٹر گنیں ، مشین گنیں اور برین گنیں تھیں ۔RSS کے وحشی درندوں اور بھارتی فوج نے کشمیر پر فوج کشی کر کے اس پر اپنا جابر انہ اور غاصبانہ قبضہ کر کے تمام انسانی ،

اخلاقی اور جمہوری قدروں کی بڑی ڈھٹائی اور بے حیائی کے ساتھ پامالی کی جوکہ گذشتہ 68 سال گزر جانے کے بعد بھی اب تک جاری ہے ۔گزشتہ دنوں 24 اکتوبر کو UN نے اپنی 70 ویں سالگرہ بڑی شان و شوکت اور آنکھوں کو چوندھیا دینے والی رنگا رنگ روشنیوں میں بنائی لیکن اس نے بھی 2 کروڑ کشمیریوں کے ساتھ کئے گئے " حق خودارادیت " کے وعدوں کی قرار داد کوچھیڑنے کی زحمت نہ کی ۔عالمی ادارے کا یہ دوہرا معیار سوالیہ نشان ہے ۔27 اکتوبر کو دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری " یوم سیاہ " منا کر عہد کرتے ہیں کہ وہ ہر قیمت پر آزادی حاصل کرکے رہیں گے اور بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے عیاں کریں گے ۔

مزید : رائے /کالم